سبزی منڈی میں پراسرارآتشزدگی چھوٹے بیوپاری اورہزاروں مزدوربےروزگار
سبزی منڈی میں لگنے والی آگ حادثاتی نہیں بلکہ تخریب کاری ہے،مجموعی طور پر 2 کروڑ25 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا.
منڈی کی سرگرمیوں کو مکمل بحال کرنے کیلیے جلنے والی دکانوں کی ازسرنوتعمیر اور متاثرین کیلیے مالی معاوضے کا اعلان بھی کیا جائے،شیخ شاہ جہاں کی ایکسپریس سے گفتگو فوٹو: ایکسپریس/فائل
KARACHI:
سبزی منڈی میں پانچ روزقبل پراسرارآتشزدگی کے واقعے کے بعد تاحال منڈی کی کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پربحال نہ ہوسکیں۔
جبکہ متاثرہ بیوپاریوں کے نقصانات کا جائزہ لینے یا ان کی داد رسی کے لیے نہ توصوبائی وزیرزراعت نے منڈی کا دورہ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی متعلقہ ذمے دار محکموںاوراداروں کے نمائندوں نے سروے کیا، آگ لگنے کے واقعے کے بعد سبزی منڈی کے ڈھائی ہزار سے زائد چھوٹے درمیانے درجے کے بیوپاری اور مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں، منڈی کے بیوپاریوں نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ6 مارچ بروز بدھ کی دوپہر 11.25 بجے پرسپرہائی وے سبزی منڈی سے2افراد گرفتار ہوئے جبکہ اسی دن 1.25بجے منڈی میں پراسرار طور پرآگ لگ گئی۔
آگ لگنے کے تاحال کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے سمیت کوئی اورحادثاتی شواہد سامنے آئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبزی منڈی میں لگنے والی آگ حادثاتی نہیں بلکہ تخریب کاری ہے لہٰذا حکومت اور متعلقہ ذمے دار اداروں کو آگ لگنے کے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے، فلاحی انجمن ہول سیل ویجیٹیبل اینڈ فروٹ مارکیٹ کے صدر حاجی شیخ شاہ جہاں نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ سبزی منڈی میں آتشزدگی کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد کم آمدنی کے حامل چھوٹے نوعیت کے کاروباریوں کی ہے جواپنی کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے پانچ روز سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی دادرسی اور تعاون کے منتظر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آتشزدگی سے سبزی منڈی کے ''بی'' اور ''سی'' سیکشن میں قائم1600 دکانیں مزدوروں کی ہاتھ گاڑیاں اور عارضی شیڈزجل کر خاکستر ہوئے جبکہ 90 لاکھ روپے تا ایک کروڑ روپے مالیت کے پیاز، آلو اور کیلا تباہ ہوا، اس طرح سے مجموعی طور پردکانوں اور مال کی مد میں منڈی کے چھوٹے ودرمیانے درجے کے بیوپاریوں کو2 کروڑ25 لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ حکومت کی ذمے داری ہے، حاجی شاہ جہاں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سبزی منڈی کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے جلنے والی دکانوں کی ازسرنوتعمیر اور متاثرین کے مال کے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا اعلان کرے کیونکہ آگ لگنے کے5 دن گزرنے کے باوجود حکومت کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سبزی منڈی کے بیوپاریوں میں زبردست مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔
ایک متاثرہ بیوپاری نے کہاکہ منڈی میں آگ لگنے کے اس واقعے میں چونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اس لیے حکومت اور حکومتی ادارے متاثرین کے مدد کے لیے تیار نہیں ہورہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سبزی منڈی کے سیکشن بی اور سی میں آگ لگنے سے تمام چھوٹے بیوپاری متاثر ہوئے ہیں جو نہ تو اپنی دکانوں کی تعمیرنو کرسکتے ہیں اور نہ ہی جلنے والے مال کے نقصانات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اس صورتحال کی وجہ سے انھیں اپنی کاروباری سرگرمیوں کی بحالی بھی مشکل نظر آرہی ہے، انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور کراچی کی اہم منڈی کا دورہ کرکے جلنے والی تمام دکانوں کی ازسرنو تعمیراور متاثرہ تاجروں کے کاروبار کی بحالی کے لیے فنڈ مختص کرنے کا اعلان کریں۔
سبزی منڈی میں پانچ روزقبل پراسرارآتشزدگی کے واقعے کے بعد تاحال منڈی کی کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پربحال نہ ہوسکیں۔
جبکہ متاثرہ بیوپاریوں کے نقصانات کا جائزہ لینے یا ان کی داد رسی کے لیے نہ توصوبائی وزیرزراعت نے منڈی کا دورہ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی متعلقہ ذمے دار محکموںاوراداروں کے نمائندوں نے سروے کیا، آگ لگنے کے واقعے کے بعد سبزی منڈی کے ڈھائی ہزار سے زائد چھوٹے درمیانے درجے کے بیوپاری اور مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں، منڈی کے بیوپاریوں نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ6 مارچ بروز بدھ کی دوپہر 11.25 بجے پرسپرہائی وے سبزی منڈی سے2افراد گرفتار ہوئے جبکہ اسی دن 1.25بجے منڈی میں پراسرار طور پرآگ لگ گئی۔
آگ لگنے کے تاحال کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے سمیت کوئی اورحادثاتی شواہد سامنے آئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبزی منڈی میں لگنے والی آگ حادثاتی نہیں بلکہ تخریب کاری ہے لہٰذا حکومت اور متعلقہ ذمے دار اداروں کو آگ لگنے کے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے، فلاحی انجمن ہول سیل ویجیٹیبل اینڈ فروٹ مارکیٹ کے صدر حاجی شیخ شاہ جہاں نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ سبزی منڈی میں آتشزدگی کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد کم آمدنی کے حامل چھوٹے نوعیت کے کاروباریوں کی ہے جواپنی کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے پانچ روز سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی دادرسی اور تعاون کے منتظر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آتشزدگی سے سبزی منڈی کے ''بی'' اور ''سی'' سیکشن میں قائم1600 دکانیں مزدوروں کی ہاتھ گاڑیاں اور عارضی شیڈزجل کر خاکستر ہوئے جبکہ 90 لاکھ روپے تا ایک کروڑ روپے مالیت کے پیاز، آلو اور کیلا تباہ ہوا، اس طرح سے مجموعی طور پردکانوں اور مال کی مد میں منڈی کے چھوٹے ودرمیانے درجے کے بیوپاریوں کو2 کروڑ25 لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ حکومت کی ذمے داری ہے، حاجی شاہ جہاں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سبزی منڈی کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے جلنے والی دکانوں کی ازسرنوتعمیر اور متاثرین کے مال کے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا اعلان کرے کیونکہ آگ لگنے کے5 دن گزرنے کے باوجود حکومت کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سبزی منڈی کے بیوپاریوں میں زبردست مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔
ایک متاثرہ بیوپاری نے کہاکہ منڈی میں آگ لگنے کے اس واقعے میں چونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اس لیے حکومت اور حکومتی ادارے متاثرین کے مدد کے لیے تیار نہیں ہورہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سبزی منڈی کے سیکشن بی اور سی میں آگ لگنے سے تمام چھوٹے بیوپاری متاثر ہوئے ہیں جو نہ تو اپنی دکانوں کی تعمیرنو کرسکتے ہیں اور نہ ہی جلنے والے مال کے نقصانات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اس صورتحال کی وجہ سے انھیں اپنی کاروباری سرگرمیوں کی بحالی بھی مشکل نظر آرہی ہے، انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور کراچی کی اہم منڈی کا دورہ کرکے جلنے والی تمام دکانوں کی ازسرنو تعمیراور متاثرہ تاجروں کے کاروبار کی بحالی کے لیے فنڈ مختص کرنے کا اعلان کریں۔