کنڈیشنز سے فائدہ نہیں اٹھا پائے رنز زیادہ دیے مصباح
280 تک کا ہدف ملتا تو مقابلہ کانٹے دار ہوسکتا تھا، بہتری کی گنجائش موجود ہے.
280 تک کا ہدف ملتا تو مقابلہ کانٹے دار ہوسکتا تھا، بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ فوٹو: فائل
کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آسان گیندوں اور کمزور فیلڈنگ کی وجہ سے 30، 40 رنز زیادہ دے بیٹھے، بولرز نے کنڈیشنز سے فائدہ نہیں اٹھایا، ہمیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔
جنوبی افریقی قائد ابراہم ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ کولن انگرام کی اننگز نے اہم کردار ادا کیا، اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کو پہلے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 125 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، کپتان مصباح الحق اس کی وجہ خراب فیلڈنگ کو قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیم کو فتح کیلیے 315 رنز کا ہدف ملا۔ انھوں نے کہا کہ جس انداز میں گیند موو کررہی تھی اس میں 270 سے 280 کا ہدف بھی بہت ہوتا، شروع میں گیند سیم ہورہی تھی جبکہ وکٹ میں نمی بھی تھی ہمیں ان کنڈیشنز سے زیادہ بہتر انداز میں فائدہ حاصل کرنا چاہیے تھا۔
جنوبی افریقہ نے شروع کے 10، 15 اوورز میں وکٹیں بچانے پر توجہ رکھی جس نے بعد میں اہم کردار ادا کیا، ہمیں زیادہ سے زیادہ 280 رنز کے ہدف کی امید تھی جس سے یہ مقابلہ زیادہ کانٹے دار ہوتا، ہمیں اپنی ڈیتھ بولنگ اور فیلڈنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہم نے بہت زیادہ آسان گیندیں کرائیں جبکہ فیلڈنگ بھی اچھی نہیں تھی، ہم اس میں بہتری لاسکتے تھے، ہم آسانی کے ساتھ 30، 40رنز کم دے سکتے تھے اگر ایسا ہوجاتا تو ہماری کامیابی کا امکان زیادہ بہتر ہوسکتا تھا۔
دوسری جانب فاتح کپتان ڈی ویلیئرز کا کہنا مجھے اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، پاکستانی بولرز نے اچھی بولنگ کی مگر اوپننگ شراکت نے مڈل آرڈر پر سے بوجھ کم کیا، کلون نے عمدہ اننگز کھیلی، گذشتہ کچھ عرصہ سے ون ڈے میں ہماری پرفارمنس زیادہ اچھی نہیں تھی مگر اس فتح سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں۔مین آف دی میچ کولن انگرام کا کہنا ہے کہ میں ٹیم کی کامیابی میں حصہ ڈال کر بہت خوش ہوں، دوسرے لڑکوں نے بھی کافی محنت کی۔
جنوبی افریقی قائد ابراہم ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ کولن انگرام کی اننگز نے اہم کردار ادا کیا، اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کو پہلے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 125 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، کپتان مصباح الحق اس کی وجہ خراب فیلڈنگ کو قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیم کو فتح کیلیے 315 رنز کا ہدف ملا۔ انھوں نے کہا کہ جس انداز میں گیند موو کررہی تھی اس میں 270 سے 280 کا ہدف بھی بہت ہوتا، شروع میں گیند سیم ہورہی تھی جبکہ وکٹ میں نمی بھی تھی ہمیں ان کنڈیشنز سے زیادہ بہتر انداز میں فائدہ حاصل کرنا چاہیے تھا۔
جنوبی افریقہ نے شروع کے 10، 15 اوورز میں وکٹیں بچانے پر توجہ رکھی جس نے بعد میں اہم کردار ادا کیا، ہمیں زیادہ سے زیادہ 280 رنز کے ہدف کی امید تھی جس سے یہ مقابلہ زیادہ کانٹے دار ہوتا، ہمیں اپنی ڈیتھ بولنگ اور فیلڈنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہم نے بہت زیادہ آسان گیندیں کرائیں جبکہ فیلڈنگ بھی اچھی نہیں تھی، ہم اس میں بہتری لاسکتے تھے، ہم آسانی کے ساتھ 30، 40رنز کم دے سکتے تھے اگر ایسا ہوجاتا تو ہماری کامیابی کا امکان زیادہ بہتر ہوسکتا تھا۔
دوسری جانب فاتح کپتان ڈی ویلیئرز کا کہنا مجھے اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، پاکستانی بولرز نے اچھی بولنگ کی مگر اوپننگ شراکت نے مڈل آرڈر پر سے بوجھ کم کیا، کلون نے عمدہ اننگز کھیلی، گذشتہ کچھ عرصہ سے ون ڈے میں ہماری پرفارمنس زیادہ اچھی نہیں تھی مگر اس فتح سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں۔مین آف دی میچ کولن انگرام کا کہنا ہے کہ میں ٹیم کی کامیابی میں حصہ ڈال کر بہت خوش ہوں، دوسرے لڑکوں نے بھی کافی محنت کی۔