خواتین کا صنعتی ترقی میں کردار

عورتیں خواہ اتنی ہی محنت مشقت کیوں نہ کر لیں جتنی کہ مرد محنت کش کرتے ہیں

عورتیں خواہ اتنی ہی محنت مشقت کیوں نہ کر لیں جتنی کہ مرد محنت کش کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

آج کل اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خواتین کے حوالے سے مختلف ایام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں خواتین کو تشدد سے نجات اور ان کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا جس کے لیے ترقی یافتہ ملکوں میں ٹی وی اینکرز نے اپنے سینے پر خواتین پر عدم تشدد کا عالمی نشان لگا کر پروگرام نشر کیے۔

اب اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے غریب ممالک کے لیے 2030تک غربت میں کمی کے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ صنعتی شعبے میں خواتین کی شرکت کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تا کہ دنیا میں غربت کے مارے ہوئے ملکوں میں غریبی میں امکانی حد تک کمی واقع ہوسکے۔

اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم یو این آئی ڈی او کی سربراہ لی ینگ نے کہا ہے کہ عالمی غربت دور کرنے کے لیے چار چار سالہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مس لی ینگ اس پروگرام کی ڈائریکٹر جنرل ہیں جن کا کہنا ہے کہ اب اس پروگرام کی دوسری چار سالہ مدت جاری ہے۔


اس حوالے سے اکٹھے کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں اگر 75فیصد مرد محنت مزدوری کرتے ہیں تو عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت آدھی سے بھی کم ہے جب کہ ان کی آمدن بھی مردوں کی نسبت خاصی کم ہے جس میں اضافہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر لیبر فورس میں خواتین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

تنظیم کی ڈی جی نے مزید بتایا اگر محنت کش خواتین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو اس سے لامحالہ خواتین کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا جو کہ بالآخر ملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔ مس لی نے اس پروگرام کی مبادیات پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین محنت کشوں کی تعداد میں اضافہ کس طرح کیا جا سکتا ہے تاہم مس لی ایک حقیقت کو فراموش کر رہی ہیں کہ عورتیں خواہ اتنی ہی محنت مشقت کیوں نہ کر لیں جتنی کہ مرد محنت کش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود معاوضوں میں خواتین کو مردوں کی نسبت نصف بلکہ کئی حالات میں صرف ایک تہائی آمدنی ہوتی ہے۔

بہرحال یہ حقیقت ہے کہ خواتین اپنی انکم کا زیادہ حصہ اپنے بچوں اور اپنے خاندان پر صرف کرتی ہیں۔ بہرحال کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے خواتین کا ترقی کے عمل میں شریک ہونا ضروری ہے' پاکستان کو بھی اس پر غور کرتے ہوئے خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے زیادہ سے زیادہ منصوبے بنانے چاہیں۔

 
Load Next Story