روہنگیا مسلمانوں پر مظالم اور پوپ کی خاموشی

روہنگیا میں مسلم اقلیت پرجو مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ کسی بھی بڑے انسانی المیے سے کم نہیں

روہنگیا میں مسلم اقلیت پرجو مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ کسی بھی بڑے انسانی المیے سے کم نہیں۔ فوٹو:فائل

پوپ فرانسس نے میانمار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک خانہ جنگی اور تشدد کی وجہ سے تقسیم کا شکار ہوتا جارہا ہے، تاہم اس دوران انھوں نے روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف جاری حکومتی کریک ڈاؤن کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ دراصل انسانیت اورانسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور شخصیات کے دہرے معیارہیں، مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ان کا ضمیر نہیں جاگتا اور جان بوجھ کر اسے نظراندازکرتے ہیں۔پوپ فرانسس نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے مذہبی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے اعتمادکی فضا پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ روہنگیا میں مسلم اقلیت پرجو مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ کسی بھی بڑے انسانی المیے سے کم نہیں، انھیں جبری ہجرت پر بھی مجبورکیا جا رہا ہے۔


ملک میں مذہبی تقسیم کا ایشو نہیں ہے بلکہ حکومت اور فوج کا ظلم ہے جو غریب مسلم اقلیت پر ہورہا ہے۔ مسلم اقلیت کو امید تھی کہ پوپ فرانسس ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کی مذمت اوراظہار ہمدردی بھی کریں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا حتی کہ انھوں نے میانمارکی رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات اور عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران بھی کچھ نہیں کہا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مسلم اقلیت کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے، ان کا قتل عام جاری ہے، ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے ۔اس انتہائی خراب صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پوپ فرانسس کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ بنتا تھا کہ وہ نہ صرف ان مظالم کی مذمت کرتے بلکہ اس کے حل کے لیے ٹھوس تجاویزکے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی زور دیتے کہ وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کی خاطر مسلم اقلیت پر ظلم نہ ڈھائیں لیکن بقول پوپ فرانسس اس بحران کا خاتمہ قومی سطح پر مصالحت کی کوششوں سے ہی ممکن ہے ۔

یہ مصالحت کون کرے گا ظلم کرنے والا یا مظلوم؟ پوپ فرانسس کی نہ جانے کون سے مصلحتیں ہیں جو آڑے آئیں جب کہ دوسری جانب برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام کرنے پر برطانیہ کی آکسفورڈکونسل نے میانمارکی حکمران جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی سے فریڈم آف سٹی اعزاز واپس لے لیا،کیونکہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہونیوالے جرائم پر خاموش ہیں ۔ اسی طرح کے اقدامات اور عالمی دباؤسے مسلم اقلیت پر مظالم کو روکا جاسکتا ہے۔
Load Next Story