ترقی کیلئے آئی ٹی کو مزید فعال بنانا ہوگا وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی

احتجاج کے باوجود مادر علمی کا گراف بڑھا، تحقیق کیلیے بجٹ دگنا کر دیا گیا، ڈاکٹر نذیر مغل، آئی ٹی نمائش کا افتتاح

وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر اے مغل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کمپیوٹرائزڈ ہوگئی ہے اور اہم کام پَلَک جھپکنے میں ہو جاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں نمائش کا انعقاد کیا گیاجس کا افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر اے مغل نے کیا۔

نمائش میں انفارمیشن ٹیکنالاجی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور الیکٹرانکس کے فائنل ایئر کے طلباء و طالبات نے اپنے پروجیکٹس پیش کیے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد شیخ نے بتایا کہ اس وقت انفارمیشن ٹیکنا لوجی میں 37، سافٹ ویئر انجینئرنگ میں 25، ٹیلی کمیونیکیشن میں 16 اور الیکٹرانکس میں 18 پروجیکٹس جاری ہیں جن کے لیے وائس چانسلر نے 25 لاکھ روپے منظور کیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے منظوری ملتے ہی سافٹ ویئر اور الیکٹرانکس شعبوں میں انجینئرنگ ڈگری پروگرام شروع کر دیا جائے گا۔

وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر اے مغل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کمپیوٹرائزڈ ہوگئی ہے اور اہم کام پَلَک جھپکنے میں ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں خود کے منوانے کے لیے آئی ٹی شعبے کومزید فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔ یونیورسٹی نے بلا جواز احتجاج کے باوجود گزشتہ3 برسوںکے دوران 136 پی ایچ ڈی اسکالرز پیدا کیے ہیں، ساتھ ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں موجود 241 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے سندھ یونیورسٹی نے11 ویں نمبر پر بہترین جامعہ کا درجہ حاصل کیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کو پہلے نمبر پر لانے کے لیے تحقیق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔




مختلف اوقات میں افواہیں پھیلا کر اس عظیم ادارے کے امیج کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن سازشی عناصر سن لیں کہ سندھ یونیورسٹی کا گراف کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ ڈاکٹر نذیر اے مغل نے کہا کہ انہوںنے تحقیقی کام کا بجٹ کو دُگنا کیا تاکہ اسکالرز بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مختلف شعبوں میں تحقیق جاری رکھ سکیں۔ سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے 15 ہزار سندھی المنائی امریکا میں اونچے عہدوں پر فائز ہیں جن میں سے 3 ڈاکٹرز کے پاس ذاتی ہیلی کاپٹر ہیں۔ ہمیں دوبارہ سندھ یونیورسٹی کو تعلیمی عروج دلانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ 2010 میں وائس چانسلر کا چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے تحقیق کلچر متعارف کروایا تاکہ طلبا ریسرچ پر بھی توجہ دیں۔ سندھ یونیورسٹی کے چند ڈپارٹمنٹ ایسے ہیں، جہاں 5 طالب علم ہوتے ہیں اور 15 پروفیسرز انہیں پڑھانے پر وقف ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان تمام تعلیمی شعبوں کو ضم کیا جائے لیکن جب چند غیر ضروری ڈپارٹمنٹس کے انضمام کی بات کی جاتی ہے تو چند لابیاں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ ایسے شعبے جاری رکھنے سے یونیورسٹی کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل ہیک سے فنڈنگ بند ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اب یونیورسٹیوں کو اپنے وسائل پیدا کرنے ہوں گے۔ ڈاکٹر مغل نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یونیورسٹی میں آئی ایس او کو متعارف کروایا جائے، لیکن اس کے لیے اساتذہ کو ریگولر ہونا ہوگا اور اپنے 4 کورسز پڑھانے ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ کی مہربانی سے یونیورسٹی پر امن طریقے سے رواں دواں ہے جبکہ اساتذہ کی تنطیم سوٹا اور ملازمین کی تنظیم سیوا بھرپور تعاون کر رہی ہیں۔
Load Next Story