دودھ کا ضیاع روکنے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں
دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں ایک عرصے سے پانچویں نمبر پر ہے
فارم کی سطح پر دودھ کو ٹھنڈا کرنے اور ٹرانسپورٹ کی ناکافی سہولتوں کے باعث دودھ کی کافی پیداوار ضایع ہو جاتی ہے، فوٹو فائل
لاہور:
ایک خبر کے مطابق پاکستان میں بعد از پیداوار نقصانات کے باعث سالانہ 169 ارب روپے مالیت کا دودھ ضایع ہو جاتا ہے یعنی فارم کی سطح پر دودھ کو ٹھنڈا کرنے اور ٹرانسپورٹ کی ناکافی سہولتوں کے باعث دودھ کی کافی پیداوار ضایع ہو جاتی ہے۔ یہ خبر اپنے طور پر اس امر کا اظہار ہے کہ اگر دودھ کے اس ضیاع کو روک لیا جائے تو نہ صرف ملک میں دودھ کی فراہمی کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے بلکہ اس دودھ کو اسٹور کر کے اور بعد ازاں برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔
اگرچہ محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک کے شعبہ کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے تاہم واضح ہے کہ اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو گوشت بلکہ دودھ کی پیداوار مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں ایک عرصے سے پانچویں نمبر پر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان شعبوں کی ترقی پر مناسب توجہ مبذول نہیں کی گئی ورنہ کچھ ضرور سامنے آتی۔
پاکستان ڈیری ڈویلپمنٹ کمپنی کے حکام نے کہا ہے کہ بنیادی سہولتوں میں اضافہ کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں جو ظاہر ہے خوش آیند ہے اور جس سے اس شعبے میں بہتری کے آثار پیدا ہوں گے پھر بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ان اقدامات میں تیزی لائی جائے۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اس لیے ہمارے لیے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانا زیادہ مشکل نہیں ہے ضرورت تھوڑی سی اضافی توجہ دینے کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دودھ اور گوشت کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں کیونکہ جب تک یہ اسمگلنگ نہیں روکی جائے گی اس وقت تک ان دونوں اشیاء کی پیداوار بڑھانے کے تمام اقدامات بے فائدہ ثابت ہوں گے۔ علاوہ ازیں ضروری ہے کہ دودھ میں ہونے والی مختلف نوعیت کی ملاوٹ ختم کرنے کے لیے بھی انتظامی سطح پر کام کیا جائے کیونکہ یہ ملاوٹ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔
ایک خبر کے مطابق پاکستان میں بعد از پیداوار نقصانات کے باعث سالانہ 169 ارب روپے مالیت کا دودھ ضایع ہو جاتا ہے یعنی فارم کی سطح پر دودھ کو ٹھنڈا کرنے اور ٹرانسپورٹ کی ناکافی سہولتوں کے باعث دودھ کی کافی پیداوار ضایع ہو جاتی ہے۔ یہ خبر اپنے طور پر اس امر کا اظہار ہے کہ اگر دودھ کے اس ضیاع کو روک لیا جائے تو نہ صرف ملک میں دودھ کی فراہمی کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے بلکہ اس دودھ کو اسٹور کر کے اور بعد ازاں برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔
اگرچہ محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک کے شعبہ کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے تاہم واضح ہے کہ اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو گوشت بلکہ دودھ کی پیداوار مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں ایک عرصے سے پانچویں نمبر پر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان شعبوں کی ترقی پر مناسب توجہ مبذول نہیں کی گئی ورنہ کچھ ضرور سامنے آتی۔
پاکستان ڈیری ڈویلپمنٹ کمپنی کے حکام نے کہا ہے کہ بنیادی سہولتوں میں اضافہ کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں جو ظاہر ہے خوش آیند ہے اور جس سے اس شعبے میں بہتری کے آثار پیدا ہوں گے پھر بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ان اقدامات میں تیزی لائی جائے۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اس لیے ہمارے لیے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانا زیادہ مشکل نہیں ہے ضرورت تھوڑی سی اضافی توجہ دینے کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دودھ اور گوشت کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں کیونکہ جب تک یہ اسمگلنگ نہیں روکی جائے گی اس وقت تک ان دونوں اشیاء کی پیداوار بڑھانے کے تمام اقدامات بے فائدہ ثابت ہوں گے۔ علاوہ ازیں ضروری ہے کہ دودھ میں ہونے والی مختلف نوعیت کی ملاوٹ ختم کرنے کے لیے بھی انتظامی سطح پر کام کیا جائے کیونکہ یہ ملاوٹ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔