کل سے سبزی منڈی بند اور سپر ہائی وے پر دھرنے کا اعلان

آتشزدگی کو5روز گزر چلے، اب تک حکومت اور متعلقہ حکام نے متاثرین کی داد رسی کے لیے منڈی کا دورہ نہیں کیا، عبدالرزاق.

24 گھنٹے میں متاثرین کی بحالی کیلیے قابل قبول اقدامات نہیں کیے گئے تو بھرپور احتجاج کیا جائیگا، پریس کانفرنس سے خطاب فوٹو: فائل

سبزی منڈی کے بیوپاریوں نے حکومت کو24 گھنٹوں کا مزید الٹی میٹم دیتے ہوئے بدھ سے منڈی میں تالہ بندی اور سپرہائی وے پر دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے۔

پیر کو کراچی پریس کلب میں آل ویجیٹیبل تاجربرادری الائینس کے چیئرمین سید عبدالرزاق نے کراچی تاجراتحاد کے چیئرمین عتیق میر اور بہرام خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام نے آگ لگنے کے5روزگزرنے کے باوجود متاثرین کی داد رسی کیلیے نہ توسبزی منڈی کا دورہ کیا اور نہ ہی انکے نقصانات کے ازالے اوربحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔

حکومت، صوبائی وزارت زراعت اور ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کمیٹی کی اس ہٹ دھرمی سے مایوس ہوکرمنڈی کے تمام بیوپاریوں نے بدھ سے بطوراحتجاج منڈی میں تالہ بندی اورسپرہائی وے کوبلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے،حکومت کی جانب سے آئندہ24 گھنٹیں میں متاثرین کی بحالی کے لیے قابل قبول اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو سپرہائی وے پردھرنے کے بعد آنے جانے والی تمام قسم کی ٹریفک بند کردی جائے گی جس کی تمام تر ذمے داری حکومت سندھ پر عائد ہوگی۔




عبدالرزاق نے بتایا کہ بدھ6 مارچ کولگنے والی آگ سے منڈی کے990 گوداموں کے ساتھ مجموعی طور پر2200 دکانیں، 513 سائیکل رکشا308 ریڑھیاں اورہزاروں خالی پیٹیاں، باردانہ جل کر خاکستر ہوگئی ہیں، اس طرح سے منڈی کے بیوپاریوں کو مجموعی طور پر4.5 ارب روپے مالیت کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ منڈی میں اس سانحے کے بعد منڈی سے منسلک6 ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہوگئے، بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ان کے خاندانوں کا چولہا بجھ جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے ضرور سبزی منڈی کا دورہ کرکے متاثرین کی داد رسی کی لیکن اتنے بڑے واقعے پرحکومت وقت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، انھوں نے بتایا کہ مارکیٹ کمیٹی کے ایڈمنسٹریٹرکی حیثیت سے غیرقانونی تقرری کے حامل مرتضیٰ بلوچ جو درحقیقت منڈی اوربیوپاریوں کی خدمات کے لیے تعینات کیے گئے ہیں کی جانب سے بھی متاثرین کی دادرسی نہیں کی گئی اور نہ ہی انھوں نے منڈی کا دورہ کیا ہے۔

حالانکہ اسی سبزی منڈی سے مارکیٹ کمیٹی کے حکام مختلف فیسوں اور چارجز کی مد میں یومیہ5 تا6 لاکھ روپے کا ریونیو اکھٹا کرتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ الائنس کی جانب سے گورنرسندھ، وزیراعلیٰ سندھ، وزیرزراعت، سیکریٹری زراعت اور کمشنر کراچی کو منڈی میں آگ لگنے سے جلنے والی دکانوں، گوداموں، مال، سائیکل رکشہ ریڑھیوں سمیت دیگر تفصیلات پر مبنی رپورٹ اور متاثرین کی فہرست ارسال کردی گئی ہے۔
Load Next Story