گڈ گورننس اور جمہوریت
جمہوری سسٹم کی بقا کے لیے ان معاملات کو متنازعہ بنائے بغیر جلد از جلد حل کر لے
جمہوری سسٹم کی بقا کے لیے ان معاملات کو متنازعہ بنائے بغیر جلد از جلد حل کر لے۔ فوٹو: فائل
حالیہ دھرنے بلکہ دھرنا در دھرنے کے دوران وطن عزیز کے مستقبل کے حوالے سے بعض ذہنوں میں سوالات پیدا ہونے لگے تھے جن کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کھل کر جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ آیندہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے، دوسری کوئی چوائس نہیں، وزیر اعظم کے اس اعلان سے ان اذہان کو مطمئن ہو جانا چاہیے جو شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئے تھے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج پاکستان میں جمہوریت متحرک اور اظہار رائے کی آزادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن ادارے دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ پورٹ قاسم میں 660 میگاواٹ کے بجلی یونٹ کا افتتاح پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انھوں نے انکشاف کیا کہ پورٹ قاسم سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا پہلا بڑا منصوبہ ہے، وزیراعظم کا یہ ارشاد بہت سے لوگوں کے لیے باعث حیرت ہوگا کہ آج پاکستان اضافی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوچکا ہے۔ وہ گزشتہ روز کراچی کے پورٹ قاسم پر 1320 میگاواٹ کے بن قاسم کول پاور پروجیکٹ کے پہلے فیز کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
توانائی کا یہ منصوبہ 660 میگاواٹ پر مشتمل ہے جو چین کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ دوسرا فیز فروری 2018ء میں مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ بجلی گھر سی پیک منصوبے کا حصہ ہیں۔ تقریب میں قطری شہزادے حماد بن جاسم نے بھی شرکت کی جن کا وزیراعظم نے خصوصی شکریہ ادا کیا۔ پورٹ قاسم پاور پلانٹ منصوبہ ماحول دوست ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کی علامت ہے۔ گوادر پورٹ پر اربوں روپے سے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ توانائی کے بحران میں کمی اور حکومت کی تاجر دوست پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریو نیو میں کرپشن اور بدانتظامی کا نوٹس لیتے ہوئے زیر التوا ء محکمانہ انکوائریوں کی رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعظم کی خوش کن باتیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں لیکن ملک کی معیشت اور سیاست پر غور کیا جائے تو حالات زیادہ اچھے نظر نہیں آتے۔ بلاشبہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اور دوسری کوئی چوائس نہیں ہے لیکن اس پہلو پر غور کیا جانا چاہیے کہ کیا ہماری حکومتیں اور سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کی پاسداری کر رہی ہیں؟ اس وقت حالت یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔
کیا جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی سیاسی قیادت کی یہ ذمے داری نہیں ہے کہ جمہوری سسٹم کی بقا کے لیے ان معاملات کو متنازعہ بنائے بغیر جلد از جلد حل کر لے۔ ادھر اس وقت کہا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار بڑھ گئی ہے لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ سردی کے اس موسم میں بھی دیہی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے بلکہ کئی علاقوں میں 8,8گھنٹے بجلی نہیں آ رہی۔
ادھر ملک میں پانی مسلسل کم ہو رہا ہے۔ دریاؤں میں بھی پانی کم ہے اور زیر زمین پانی کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔اس حوالے سے بھی منصوبہ بندی کا فقدان نظر آیا ہے۔ زرعی معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے' کسان کی حالت انتہائی پتلی ہو چکی ہے' بڑے زمیندار تو کسی نہ کسی طرح اپنا کام چلا رہے ہیں لیکن چھوٹے کاشتکار کی حالت بہت خراب ہے' اس کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بہت بڑھ چکی ہے۔ کھاد مہنگی ہے' بیج مہنگا ہے اور اسے پانی بھی مہنگا مل رہا ہے۔ یوں وہ غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔اپنے گزر اوقات کے لیے وہ شہروں میں آ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
صنعتی معیشت پر غور کیا جائے تو سوائے چند ایک صنعتوں کے باقی صنعتیں مخدوش حالت میں ہیں' بے روز گاری بڑھ رہی ہے' غیر ہنر مند مزدور کے لیے تو تعمیراتی شعبے میں اینٹیں اٹھانے کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔ ہنر مند مزدور بھی بے روز گار ہے۔مزدور کی اجرت بھی بہت کم ہے 'معاشرے میںامیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے 'اس کی وجہ سے پورا ملک ایک انتشار اور مایوسی کا شکار ہے۔اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
ملک میں جاری حالیہ سیاسی چپقلش سے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی سیاسی حکومتوں کو اپنی انتظامی اور معاشی کارکردگی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ جمہوریت اسی وقت کامیاب ہو گی جب حکومتوں کی گورننس بہتر ہو گی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج پاکستان میں جمہوریت متحرک اور اظہار رائے کی آزادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن ادارے دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ پورٹ قاسم میں 660 میگاواٹ کے بجلی یونٹ کا افتتاح پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انھوں نے انکشاف کیا کہ پورٹ قاسم سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا پہلا بڑا منصوبہ ہے، وزیراعظم کا یہ ارشاد بہت سے لوگوں کے لیے باعث حیرت ہوگا کہ آج پاکستان اضافی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوچکا ہے۔ وہ گزشتہ روز کراچی کے پورٹ قاسم پر 1320 میگاواٹ کے بن قاسم کول پاور پروجیکٹ کے پہلے فیز کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
توانائی کا یہ منصوبہ 660 میگاواٹ پر مشتمل ہے جو چین کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ دوسرا فیز فروری 2018ء میں مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ بجلی گھر سی پیک منصوبے کا حصہ ہیں۔ تقریب میں قطری شہزادے حماد بن جاسم نے بھی شرکت کی جن کا وزیراعظم نے خصوصی شکریہ ادا کیا۔ پورٹ قاسم پاور پلانٹ منصوبہ ماحول دوست ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کی علامت ہے۔ گوادر پورٹ پر اربوں روپے سے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ توانائی کے بحران میں کمی اور حکومت کی تاجر دوست پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریو نیو میں کرپشن اور بدانتظامی کا نوٹس لیتے ہوئے زیر التوا ء محکمانہ انکوائریوں کی رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعظم کی خوش کن باتیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں لیکن ملک کی معیشت اور سیاست پر غور کیا جائے تو حالات زیادہ اچھے نظر نہیں آتے۔ بلاشبہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اور دوسری کوئی چوائس نہیں ہے لیکن اس پہلو پر غور کیا جانا چاہیے کہ کیا ہماری حکومتیں اور سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کی پاسداری کر رہی ہیں؟ اس وقت حالت یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔
کیا جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی سیاسی قیادت کی یہ ذمے داری نہیں ہے کہ جمہوری سسٹم کی بقا کے لیے ان معاملات کو متنازعہ بنائے بغیر جلد از جلد حل کر لے۔ ادھر اس وقت کہا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار بڑھ گئی ہے لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ سردی کے اس موسم میں بھی دیہی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے بلکہ کئی علاقوں میں 8,8گھنٹے بجلی نہیں آ رہی۔
ادھر ملک میں پانی مسلسل کم ہو رہا ہے۔ دریاؤں میں بھی پانی کم ہے اور زیر زمین پانی کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔اس حوالے سے بھی منصوبہ بندی کا فقدان نظر آیا ہے۔ زرعی معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے' کسان کی حالت انتہائی پتلی ہو چکی ہے' بڑے زمیندار تو کسی نہ کسی طرح اپنا کام چلا رہے ہیں لیکن چھوٹے کاشتکار کی حالت بہت خراب ہے' اس کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بہت بڑھ چکی ہے۔ کھاد مہنگی ہے' بیج مہنگا ہے اور اسے پانی بھی مہنگا مل رہا ہے۔ یوں وہ غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔اپنے گزر اوقات کے لیے وہ شہروں میں آ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
صنعتی معیشت پر غور کیا جائے تو سوائے چند ایک صنعتوں کے باقی صنعتیں مخدوش حالت میں ہیں' بے روز گاری بڑھ رہی ہے' غیر ہنر مند مزدور کے لیے تو تعمیراتی شعبے میں اینٹیں اٹھانے کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔ ہنر مند مزدور بھی بے روز گار ہے۔مزدور کی اجرت بھی بہت کم ہے 'معاشرے میںامیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے 'اس کی وجہ سے پورا ملک ایک انتشار اور مایوسی کا شکار ہے۔اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
ملک میں جاری حالیہ سیاسی چپقلش سے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی سیاسی حکومتوں کو اپنی انتظامی اور معاشی کارکردگی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ جمہوریت اسی وقت کامیاب ہو گی جب حکومتوں کی گورننس بہتر ہو گی۔