کافروں سے بھی زیادہ ظالم مسلمان

اس وقت ساری دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم اور سب سے بڑے ظلم کا شکار پاکستان کے عوام ہیں

barq@email.com

وہ تو اچھا ہے کہ ہم اصلی تے وڈے میڈیا والے نہیں بلکہ کچھ سوتیلے سے، کچھ بے قاعدہ سے اور کچھ غیر مستند سے میڈیا والے ہیں ورنہ وہ تمام الفاظ ہمارے حصے میں آتے جو عام تحریروں میں استعمال نہیں ہوتے صرف ڈکشنری میں ہوتے ہیں یا لڑائی جھگڑے کے وقت زبان زد عوام ہوتے ہیں اور آج کل موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ''میڈیا والوں'' کے نذر کیے جا رہے ہیں، عام طور پر ان الفاظ کو بے وضو، غیرپارلیمانی اور غیراخلاقی الفاظ کہا جاتا ہے اور جسے سن کر ہر کوئی ''بے مزہ'' ہو جاتا ہے سوائے میڈیا والوں اور غالب کے رقیب کے

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

لیکن اس کے ساتھ ہمیں ایک دوسرا ''شکر'' اس بات کا بھی ادا کرنا ہے کہ ہم نے بھارتی اداکار راجیش کھنہ کی موت پر کچھ نہیں کہا نہ لکھا ہے کیونکہ میڈیا والوں کو یہ خصوصی الفاظ راجیش کھنہ کے تعلق سے ہدیہ کیے جا رہے ہیں مثلاً ایک نمونہ ہم دے رہے ہیں جس میں خالی جگہوں کو آپ خود ہی کسی ڈکشنری یا ایس ایم ایس میں دیکھ کر پُر کر سکتے ہیں، گزشتہ اور رواں ہفتے کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایس ایم ایس ''راجیش کھنہ کی موت پر پاکستانی میڈیا کئی دن تک ۔۔۔۔۔ لکھتا رہا جسے ان کا ۔۔۔۔ مر گیا ہو لیکن برما کے مسلمانوں پر ان ۔۔۔۔۔ کو ایک لفظ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی''

گویا تین باتوں میں دو سے تو ہم بچ کر نکل آئے یعنی ہم نہ میڈیا والے ہیں اور نہ ہی راجیش کھنہ سے ہمارا کوئی رشتہ ہے لیکن ایک تیسری بات میں پھنس گئے جس میں وہ ڈکشنری سے مخصوص بے وضو الفاظ تو استعمال نہیں کیے گئے ہیں لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ہم روہنگیا (برما) کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر کچھ کیوں نہیں لکھ رہے ہیں، بات تو ان لوگوں کی صحیح ہے لیکن ان کو خود ہمارے بارے میں علم نہیں کہ ان دنوں برما کے مسلمانوں سے بھی کئی گنا زیادہ عذاب ہم پر مسلط رہا ہے ۔۔۔۔

عذاب ممکن ہے برما والوں سے کچھ کم ہو لیکن برما والوں پر نازل ہونے والے عذاب کو کم از کم عذاب تو کہا جا رہا ہے اور دنیا کو ان سے ہمدردی تو ہو رہی ہے جب کہ ہمارے والے عذاب کو بڑی دیدہ دلیری سے ثواب کہا جارہا ہے اور ہماری جو چیخیں نکل رہی ہیں ان کو ہماری خوش نصیبی کہا جا رہا ہے، رمضان کا مہینہ بے شک مبارک مہینہ ہے، اس میں ثواب کمانے کے بڑے ''مواقع'' پوشیدہ ہیں، کم از کم ان مواقع سے بھی زیادہ جو سیاست میں لیڈروں کو حاصل ہوتے ہیں لیکن اسے کیا کیجیے کہ اس بابرکت اور ثوابوں بھرے مہینے کو ہمارے ہاں ۔۔۔ صرف ہمارے ہاں یعنی مملکت خداداد پاکستان میں ایک بڑا عذاب بنا کر عوام پر مسلط کیا جاتا ہے، بقول ایک دانا کے، سونا بہت ہی قیمتی چیز ہے، ہر کوئی اسے چاہتا ہے بلکہ اس کے بارے میں ساری دنیا ایک کورس کی شکل میں گاتی رہتی ہے کہ

لیلیٰ او لیلیٰ تو ایسی ہے لیلیٰ
ہر کوئی چاہے تم سے ملنا اکیلا


لیکن اگر قیمتی، پسندیدہ اور محبوب سونے کی چھری بنائی جائے اور کسی کے پیٹ میں گھونپ کر کہا جائے کہ لو تمہیں سونا دیا ۔۔۔۔ آج سے یہ سارا سونا تمہارا ۔۔۔۔ تو کیا وہ ا سے خوشی خوشی قبول کرے گا، بھٹ پڑے وہ سونا جس سے پھاٹے کان، ہمارا پروسیجر یوں ہوتا ہے کہ ''روزہ'' یوں سمجھئے کہ سونے کی ایک ڈلی ہے حکومت اسے پگھلا دیتی ہے پھر اس کے مددگار سرکاری افسر اسے کوٹ کوٹ کر چھری کی شکل میں ڈھالتے ہیں اور تیار ہونے کے بعد تاجروں کے حوالے کر کے عوام کو برما کے مسلمان بنانے کے لیے دے دیتے ہیں بلکہ اس مرتبہ تو حکومت نے خاص مہربانی کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی طرف سے ایک لوہار کا پیکیج بھی دیا کہ اگر چھری کی دھار میں کمی ہو تو فوراً ہی اسے سان پر چڑھا کر تیز کر دیا کرو، ان سب نے مل کر اپنی مساعی جمیلہ سے ''سونے کی اس چھری'' کو عوام کے دل و جگر میں ایسا جھونکا ہے، ایسا جھونکا ہے بلکہ آخری خبریں آنے تک جھونکے جا رہے ہیں کہ لوگ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں، کاش ہم برما میں ہوتے ،کم از کم یہ تسلی تو رہتی کہ غیروں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں۔

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

اب آپ بتایئے کہ ایسی حالت میں ہم برما کے مسلمانوں کا رونا کیسے رو سکتے ہیں، جب گھر ہی میں لہولہان میت پڑی ہو تو پڑوس کا ماتم کون کر سکے گا۔ مانا کہ ان کی تکلیف بڑی ہے لیکن اپنی ''تکلیف'' بھی کچھ کم نہیں ہے کیونکہ ان کی تو صرف تکلیف ہے اور ہماری والی تکالیف کی ماں ہے، وہ تو کسی نہ کسی دن چھٹکارا پا لیں گے، موت کے دامن ہی میں سہی لیکن ہم کہاں جائیں گے کیونکہ ہمارے صیاد تو ہمیں مرنے بھی نہیں دے رہے ہیں، بھلا دودھ دینے والی گائے کو بھی کوئی مرنے دیتا ہے،

غم اگرچہ جاں گسل ہے پر کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

کسی کو کچھ بھی لگے، ہمیں تو ایسا لگتا ہے جیسے بازار میں چنگیز خان کے تاتاری آگئے ہوں اور انھوں نے دکانیں سجا کر کلہ مینار بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہو، فرق صرف یہ ہے کہ چنگیز خان کے تاتاری کھلے عام کلہ مینار بناتے تھے اور ہماری سرکار کے تاجر اور اہل کار اپنی جیبوں اپنے گلوں اور بینکوں میں بناتے ہیں، ہمیں برما کے مسلمانوں سے ہمدردی ہے لیکن ان کے لیے پھر بھی کوئی امید کی کرن تو ہے کہ آخرکار دشمن تھک جائیں گے یا دنیا کی شرما شرمی میں اپنا ہاتھ روک دیں، ایسا کچھ نہیں ہوا تو برما کے مسلمان ہی ختم ہو کر آخرت میں پناہ لے لیں گے۔

لیکن ہم کہاں جائیں گے کہ ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی ہمارے حق میں ہمدردی کا کوئی لفظ کہنے کو تیار نہیں اور کہے بھی تو کیسے ۔۔۔۔ جسے آگ جلائے ہے، اسے پانی ڈال کر بجھا دیا جاتا ہے لیکن جسے پانی جلائے وہ کہاں جائے گا جسے دریا ڈبوے اسے ملاح بچا لیتا ہے لیکن جسے ملاح ڈبوئے اس کا کیا ہو گا جسے کافر مارے اسے مسلمان بچا لے گا لیکن جسے مسلمان مارے اسے کون بچائے گا۔ چور لوٹے تو محافظ بچا لیتا ہے لیکن محافظ لوٹے تو کون مدد کو آئے گا، گویا اس وقت ساری دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم اور سب سے بڑے ظلم کا شکار پاکستان کے عوام ہیں، اس سے زیادہ بدنصیبی اور بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کسی کا ثواب بھی عذاب بن جائے، برکت ہی ہلاکت بن جائے اور دشمن کے بجائے بھائی اس کا گلا گھونٹ دے، ایسے میں ہم کسی اور طرف کیا توجہ دے سکتے ہیں۔
Load Next Story