صدارتی منظوری رسمی کارروائی ہے نامزدگی فارم کی چھپائی آج شروع ہوگی الیکشن کمیشن

11مارچ تک وقت دیا تھا،صدر کی جانب سے جواب نہ آنے پر پرنٹنگ کی ہدایات دیں

جمہوری حکومت الیکشن کمیشن کو مزید بااختیار بنانے میں کردار ادا کرے،میڈیا کمیشن کی خبروں میں سنسنی نہ پھیلائے، سیکریٹری اشتیاق احمد فوٹو: فائل

LONDON:
الیکشن کمیشن نے نئے کاغذات نامزدگی فارم کی صدر کی جانب سے منظوری کا مزید انتظار کرنے کے بجائے منگل سے فارم کی چھپائی کا کام شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

کمیشن نے واضح کیا کہ صدر کی جانب سے کاغذات نامزدگی فارم کی منظوری محض ایک رسمی کارروائی ہے۔ آئین الیکشن کمیشن کو صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلیے تمام اختیارات استمعال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے ورکرزپارٹی کیس کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد اور بااختیار ادارہ ہے۔

کمیشن کو آئین اختیار دیتا ہے کہ وہ آئینی ذمے داریاں پورا کرنے کیلیے ضروری اقدامات کرنے کا مجاز ہے۔ الیکشن کمیشن نے11مارچ دن12بجے تک صدر کی جانب سے مجوزہ فارم کے حوالے سے کوئی جواب نہ آنے پر کاغذات نامزدگی فارم کی پرنٹنگ کا کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پیر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے نئے کاغذات نامزدگی فارم کا مسودہ 20فروری کو صدر کے پاس منظوری کیلیے بھیجنے کیلیے وزارت قانون کو ارسال کیا، 20فرروی سے 7مارچ تک مجوزہ فارم کے حوالے سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔

7مارچ کو وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی کی الیکشن کمیشن حکام کے ساتھ ملاقات میں اعتراضات سامنے آئے جس پر کمیشن نے کہا کہ ان اعتراضات کو جلد کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔ 8مارچ کو کمیشن نے وزارت قانون کے اعتراضات کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ ان اعتراضات اور کمیشن کے مجوزہ فارم کو صدر کے سامنے پیش کیا جائے اور11مارچ کو دن 12بجے تک اس کی منظوری لی جائے لیکن11مارچ کو اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا لہٰذا کمیشن نے فیصلہ کیا کہ کہ مجوزہ فارم کی پرنٹنگ کا کام شروع کردیا جائے۔ کاغذات نامزدگی فارم کی منظوری محض ایک رسمی کارروائی ہے۔

صدر سے منظوری کا مزید انتظار نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کہا کہ کمیشن کو کوئی جواب نہ ملا تو کوئی فیصلہ کرنا پڑیگا، انتخابات کے انعقاد کیلیے کاغذات نامزدگی فارم کی پرنٹنگ کا کام جلد مکمل کرنا ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ڈیڈلاک بالکل واضح تھا لیکن ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ کوئی ڈیڈلاک نہیں، صدر بیرون ملک ہیں اور وطن واپس پر آکر رات12بجے مجوزہ فارم کی منظوری دے دیتے ہیں تو ایک لاکھ فارم آدھے گھنٹے میں پرنٹ ہوجائیں گے۔




الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی جانچ پڑتال کا مکمل اختیار ہے جس میں مزید سختی بھی کی جاسکتی ہے لیکن الیکشن کمیشن جمہوریت کی ماں ہے، ہم جمہوری حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ اسکو مزید بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ این این آئی نے میڈیا رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے الیکشن کمیشن کے اجلاس میں دیگر ارکان کی رائے کے تحت کاغذات نامزدگی کی چھپائی کیلیے صدر مملکت کی منظوری کا انتظار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کے بعد ترامیم شدہ کاغذات نامزدگی کی چھپائی منگل سے شروع کردی جائے گی۔

جسٹس (ر)ریاض کیانی نے اس حوالے سے کہا کہ اب وہی کاغذات نامزدگی چھپیں گے جس کی الیکشن کمیشن نے منظوری دی ہے۔ قومی اسمبلی کی قانون اور پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کو سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے بتایاکہ کاغذات نامزدگی کی منظوری کیلیے پیر کی ڈیڈلائن دی گئی تھی، صدرمنگل تک بھی منظوری دے دیں تو مسئلہ نہیں ہوگا جبکہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کافی حاصل اختیارات ہیں، ان کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔

انتخابی امیدواروں کوسخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑیگا۔ میڈیا الیکشن کمیشن کے بارے میں خبروں میں سنسنی پھیلانے سے گریز کرے، تمام صحافتی ادارے ذمے دار اور سینئر صحافیوں کو الیکشن کمیشن کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کیلیے نامزد کریں۔آئی این پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے فارم میں تجویز کردہ ترامیم کی منظوری کیلیے حکومت کو مزید 24 گھنٹے کی مہلت دی ہے اور وزارت قانون نے مسودہ ایوان صدرکو بھجوا دیا ہے جس میں الیکشن کمیشن کی ترامیم اور وزارت قانون کے اعتراضات شامل ہیں۔

ڈی جی الیکشن کمیشن کی جانب سے پیر اور منگل کی درمیانی شب کاغذات نامزدگی کے فارم پرنٹنگ کیلئے بھجوانے کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ میرے پاس اس حوالے سے درست معلومات نہیں تھیں۔ اگر مزید24 گھنٹے حکومتی جواب کا انتظار کرلیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑیگا۔
Load Next Story