ہم نے مذہب کوتشدد کیلیے استعمال کرنا سیکھ لیاجاوید ہاشمی
سانحہ بادامی باغ دوشرابیوں کی لڑائی تھی،خلیل سندھو،علما کی تربیت کی ضرورت ہے،طاہرہ عبداللہ.
ناکامیاں چھپانے کیلیے ہرسانحہ کومذہب سے جوڑاجاتاہے،حمداللہ ’’لائیو ود طلعت‘‘میں گفتگو فوٹو : فائل
تحریک انصاف کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سانحہ بادامی باغ پرحکومت اور عوام کا روائتی قسم کا ردعمل ہے۔تھوڑے سے پیسے دے دیے مکان تعمیرکرانے سے، گرفتاریوں سے اورپھر رہائیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ہم نے مذہب کو تشدد کے لیے استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، اس روائت کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ آج بھی جیلوں میں بیشمار لوگ ہیں جو توہین رسالت کے قانون کی زد میں سزابھگت رہے ہیں ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ ہم ہر سانحہ کو مذہب سے جوڑ تے ہیں ہم اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔
مذہب اور نبیؐ کی تعلیمات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کو روکنے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ن لیگ کے اقلیتی رکن اسمبلی خلیل طاہر سندھونے کہا کہ بادامی باغ کے سانحے کی اسٹڈی اوراصل حقائق جاننے کی ضرورت ہے یہ دوشرابیوں کی لڑائی تھی ایک حجام اور دوسراعیسائی تھا،دونوں نے لڑائی میں مذہب کو شامل کرلیا۔انسانی حقوق کی ترجمان طاہرہ عبداللہ نے کہاکہ علماکی تربیت کی ضرورت ہے۔سانحے کی ذمے داری بادامی باغ تھانے کے ایس ایچ اوپرعائد ہوتی ہے جس نے غلط ایف آئی آرکاٹی اور معاملے کو سلجھانے کے بجائے ہوا دی۔
ہم نے مذہب کو تشدد کے لیے استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، اس روائت کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ آج بھی جیلوں میں بیشمار لوگ ہیں جو توہین رسالت کے قانون کی زد میں سزابھگت رہے ہیں ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ ہم ہر سانحہ کو مذہب سے جوڑ تے ہیں ہم اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔
مذہب اور نبیؐ کی تعلیمات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کو روکنے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ن لیگ کے اقلیتی رکن اسمبلی خلیل طاہر سندھونے کہا کہ بادامی باغ کے سانحے کی اسٹڈی اوراصل حقائق جاننے کی ضرورت ہے یہ دوشرابیوں کی لڑائی تھی ایک حجام اور دوسراعیسائی تھا،دونوں نے لڑائی میں مذہب کو شامل کرلیا۔انسانی حقوق کی ترجمان طاہرہ عبداللہ نے کہاکہ علماکی تربیت کی ضرورت ہے۔سانحے کی ذمے داری بادامی باغ تھانے کے ایس ایچ اوپرعائد ہوتی ہے جس نے غلط ایف آئی آرکاٹی اور معاملے کو سلجھانے کے بجائے ہوا دی۔