شاہ زیب قتل کیس مجسٹریٹ اور مقتول کی والدہ کا بیان قلمبند
2 چشم دیدگواہوں نے میرے روبرو ملزمان کو شناخت کیا جن کا بیان بھی قلمبند ہوا، وقار سومرو.
بیٹے سے جھگڑے کے دوران شاہ رخ دھمکیاں دے رہا تھا،والدہ،وکیل صفائی کی جرح مکمل. فوٹو: فائل
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفٰی میمن نے شاہ زیب قتل کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ اور مقتول کے والدہ کا بیان قلمبند کرلیا اور سماعت آج تک ملتوی کردی ہے۔
پیر کوجیل حکام نے شاہ زیب قتل کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی،سجاد تالپور، سراج تالپوراور غلام مرتضیٰ لاشاری کو فاضل عدالت کے روبرو پیش کیا. سماعت کے موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی وقار سومرو نے بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ مقدمے کے تفتیشی افسر نے 9جنوری 2012کو شناخت پریڈکے لیے عدالت میں موجود سجاد تالپور ، سراج تالپور اور غلام مرتضٰی لاشاری کو شناخت پریڈ کے لیے پیش کیا تھا انھوں نے ان ملزمان کی شناخت پریڈ کی تھی اس موقع پردو چشم دیدگواہوں نے ان کے روبرو ان ملزمان کو شناخت کیا تھا۔ 19جنوری کوپولیس نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی جو کہ اس وقت عدالت میں موجود ہے۔
اسے بھی ان کے روبروشناخت پریڈ کیلیے پیش کیا تھا اور انہی دوچشم دید گواہوں نے اسے شناخت کیا تھا اس موقع پر فاضل جج نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے دونوںگواہوں کا ضابطہ فوجداری کی ایکٹ164کا بیان بھی ملزمان کی موجودگی میں قلمبند کیا تھا اورسیل شدہ بیان عدالت میں پیش کیا۔ بعدازاں فاضل عدالت نے مقتول کی والدہ کا بیان قلمبند کیا خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وقوع کے روز وہ شادی ہال سے واپس آئیں انکا بیٹا شاہ زیب اور اسکی بہن الگ گاڑی میں سوار تھے وہ اور اپنے شوہر کے ہمراہ خریداری کے لیے مارکیٹ چلے گئے تھے اسی اثنا بیٹی کا فون آیا کہ انکے پڑوسی کے خانسامہ غلام مرتضی نے اس سے بدتمیزی کی ہے۔
جس پراس نے اپنے بیٹے شاہ زیب کو فون کرکے پوچھا تواس نے معاملے سے آگاہ کیا لہذا وہ خریداری ترک کرکے واپس گھر آگئے۔ جب گھر پہنچے کواس کے بیٹے اورملزمان کے درمیان جھگڑا ہورہاتھا، شاہ رخ مسلسل دھمکیاں دے رہا تھا معاملہ رفع دفع ہونے کے بعد شاہ زیب گاڑی لیکر چلا گیا جس پراس کے والد نے شاہ زیب کے 2دوستوں کواسکے پیچھے روانہ کیا کہ کہیں دوبارہ معاملہ خراب نہ ہو جائے، بعدازاں چند منٹ بعد ہی اس کے دوستوں نے اسے فون کیا اور کہا کہ انکل سے بات کرائیں فون شاہ زیب کے والد کودیا جنھیں بتایا کہ شاہ زیب کوملزمان نے گولیاں ماردی ہیں اوراسے ضیا الدین لے گئے ہیں اسپتال پہنچے پر معلوم ہوا کہ وہ ہلاک ہوچکا تھا،گواہوں کے بیانات پر وکیل صفائی نے جرح مکمل کرلی ہے۔ فاضل عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی ہے۔
پیر کوجیل حکام نے شاہ زیب قتل کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی،سجاد تالپور، سراج تالپوراور غلام مرتضیٰ لاشاری کو فاضل عدالت کے روبرو پیش کیا. سماعت کے موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی وقار سومرو نے بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ مقدمے کے تفتیشی افسر نے 9جنوری 2012کو شناخت پریڈکے لیے عدالت میں موجود سجاد تالپور ، سراج تالپور اور غلام مرتضٰی لاشاری کو شناخت پریڈ کے لیے پیش کیا تھا انھوں نے ان ملزمان کی شناخت پریڈ کی تھی اس موقع پردو چشم دیدگواہوں نے ان کے روبرو ان ملزمان کو شناخت کیا تھا۔ 19جنوری کوپولیس نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی جو کہ اس وقت عدالت میں موجود ہے۔
اسے بھی ان کے روبروشناخت پریڈ کیلیے پیش کیا تھا اور انہی دوچشم دید گواہوں نے اسے شناخت کیا تھا اس موقع پر فاضل جج نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے دونوںگواہوں کا ضابطہ فوجداری کی ایکٹ164کا بیان بھی ملزمان کی موجودگی میں قلمبند کیا تھا اورسیل شدہ بیان عدالت میں پیش کیا۔ بعدازاں فاضل عدالت نے مقتول کی والدہ کا بیان قلمبند کیا خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وقوع کے روز وہ شادی ہال سے واپس آئیں انکا بیٹا شاہ زیب اور اسکی بہن الگ گاڑی میں سوار تھے وہ اور اپنے شوہر کے ہمراہ خریداری کے لیے مارکیٹ چلے گئے تھے اسی اثنا بیٹی کا فون آیا کہ انکے پڑوسی کے خانسامہ غلام مرتضی نے اس سے بدتمیزی کی ہے۔
جس پراس نے اپنے بیٹے شاہ زیب کو فون کرکے پوچھا تواس نے معاملے سے آگاہ کیا لہذا وہ خریداری ترک کرکے واپس گھر آگئے۔ جب گھر پہنچے کواس کے بیٹے اورملزمان کے درمیان جھگڑا ہورہاتھا، شاہ رخ مسلسل دھمکیاں دے رہا تھا معاملہ رفع دفع ہونے کے بعد شاہ زیب گاڑی لیکر چلا گیا جس پراس کے والد نے شاہ زیب کے 2دوستوں کواسکے پیچھے روانہ کیا کہ کہیں دوبارہ معاملہ خراب نہ ہو جائے، بعدازاں چند منٹ بعد ہی اس کے دوستوں نے اسے فون کیا اور کہا کہ انکل سے بات کرائیں فون شاہ زیب کے والد کودیا جنھیں بتایا کہ شاہ زیب کوملزمان نے گولیاں ماردی ہیں اوراسے ضیا الدین لے گئے ہیں اسپتال پہنچے پر معلوم ہوا کہ وہ ہلاک ہوچکا تھا،گواہوں کے بیانات پر وکیل صفائی نے جرح مکمل کرلی ہے۔ فاضل عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی ہے۔