تھر کول میں حکومت سندھ کا حصہ 51 فیصد کردیا گیا

اینگرو گروپ کے ساتھ جوائنٹ وینچر پروجیکٹ کی منظوری ، سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس.

پروجیکٹ میں 4000 افراد کو روزگار مہیا ہوگا،اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق. فوٹو: فائل

CHENNAI:
وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت پیرکو وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں تھرکول ترقیاتی منصوبے کے ضمن میں جوائنٹ وینچر پروجیکٹ کو تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھانے کے حوالے سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں پیر مظہرالحق، نادر مگسی ، سید مراد علی شاہ، زاہد بھرگڑی ، شرجیل انعام میمن ، چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس اور دیگر محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔


اجلاس میں تھرکول ڈیولپمنٹ کے ضمن میں جوائنٹ وینچر پروجیکٹ کو تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھانے کے حوالے سے صوبائی سیکریٹری کول و انرجی ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ اعجاز علی خان نے کابینہ کے خصوصی اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت سندھ کا حصہ 40فیصد سے بڑھاکر51 فیصد کیا گیا ہے تاکہ 700ملین ڈالر تک ساورن گارنٹی حاصل کی جاسکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مائننگ کے ساتھ SECM کا جوائنٹ وینچر منصوبہ میں 300 میگاواٹ پاور پلانٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔

اجلاس میں جوائنٹ وینچر معاہدے کیمنظوری کے لیے زبیر موتی والا کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلد اس منصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ تقریب منعقد کی جائے جس کے لیے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے استدعا کی جائے گی ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت سندھ اس منصوبے کے لیے 450 ملین روپے کی رقم فراہم کرے گی، اس منصوبے میں ابتدائی طور پر 4000 لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا، 800 سے 1000ڈرائیور بھی مطلوب ہوں گے۔ بعد میں سندھ کابینہ نے اینگرو گروپ کے ساتھ حکومت سندھ کے جوائنٹ وینچر پروجیکٹ کے ایگریمنٹ کی متفقہ طور پر منظوری دی۔
Load Next Story