ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

پاکستان، افغانستان اور بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے باہمی تنازعات انھیں خود ہی حل کرنے ہوں گے

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس کی ساتویں وزارتی کانفرنس گزشتہ روز ختم ہوگئی، فوٹو: اے ایف پی

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس کی ساتویں وزارتی کانفرنس گزشتہ روز ختم ہو گئی، اس کانفرنس میں پاکستان، بھارت، افغانستان، آذر بائیجان، چین، ایران، کرغزستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات سمیت 14 ممالک نے شرکت کی، یوں اس کانفرنس کا حجم خاصا بڑا ہے، کانفرنس کے اختتام پر باکو اعلامیہ کی منظوری دی گئی۔

اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، تمام ریاستیں بین الاقوامی ذمے داریوں اور اقوام متحدہ کے عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے مطابق اپنی قومی دہشت گردی کی پالیسیوں کو اجاگر کریں، بین الاقوامی کمیونٹی ایک محفوظ،مستحکم اور خوشحال افغانستان کی مسلسل کوششوں کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنائے۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ ریاستوں کی خود مختاری، آزادی، علاقائی سالمیت، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام کیا جائے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس تو اختتام پذیر ہو گئی، کئی اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ کئی سوال بھی چھوڑ گئی ہے' مثلاً اس کانفرنس کے میزبان ملک آذربائیجان نے نگورنوکارا باخ کے تنازعے کا ذکر کیا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکی انخلا عمل میں آئے' آذر بائیجان کے صدر نے مطالبہ کیا کہ امریکا نگورنو کا را باخ کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور عالمی قوانین کے مطابق حل کرائے گا۔ یہ تنازعہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہے۔ یہ توآذربائیجان کی بات ہے' اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان بھی شریک ہیں اورپاکستان بھی۔


ان ممالک کے درمیان بھی تنازعات موجود ہیں اور یہ تنازعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں' اسی کانفرنس میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے' اس کانفرنس میں چین اور ایران بھی موجود ہیں۔ روس' سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی' اب اگر باکو کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے کے نکات کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں دہشت گردی کا ایشو سرفہرست نظر آتا ہے' اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کانفرنس کے رکن ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدام کریں گے؟ اس وقت حالت یہ ہے کہ افغانستان لہولہان ہے، عرب ممالک بھی دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہیں لیکن ہر مسلم ملک کی اپنی اپنی منطق اور استدلال ہے، ایک ملک دوسرے پر دہشت گردی کو پرموٹ کرنے کا الزام لگا رہا ہے لیکن اپنے گریبان میں جھا نکنے کے لیے تیار نہیں۔

عالمی کانفرنسوں کی ایک روایت یہ ہے کہ رکن ممالک کے سربراہان یا مندوبین اچھی اچھی باتیں کرکے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں جب کہ تنازعات اور دہشت گردی وہیں کی وہیں رہتے ہیں۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو ممالک شریک ہوئے یہ دنیا کے دیگر اتحادوں میں بھی شریک ہیں لیکن ان کی عملاً افادیت کچھ نہیں ہے۔ مثلاً سعودی عرب، عرب لیگ میں شامل ہے، اس لیگ کی جو حالت ہے، وہ سب کے سامنے ہے ۔ اس کانفرنس میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کو ایک طرح سے مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن اب یہ صورت پذیر کب اور کیسے ہو گی' اس کا کسی کو پتہ نہیں ہے' حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں' اقوام متحدہ کے قیام کے اغراض و مقاصد ہی یہ تھے کہ اس ادارے کے رکن ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرایا جائے اور جنگیں روکی جائیں' جب اقوام عالم کا یہ معتبر ترین ادارہ موجود ہے تو پھر علاقائی اتحادوں کی کیا ضرورت ہے۔

ویسے بھی علاقائی اتحاد اتنے موثر ثابت نہیں ہوئے' صرف ایک اتحاد ہے جو سب سے زیادہ موثر اور مضبوط ہے' اس کا نام نیٹو ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ پوری دیانت داری سے کام کر رہے ہیں اور یہی اس اتحاد کی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہی اتحاد اس وقت سب سے زیادہ موثر اور فعال ہے۔ پاکستان' افغانستان اور بھارت کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے درمیان جو باہمی تنازعات ہیں' انھیں خود ہی حل کرنا ہو گا' ان ممالک کے پاس سارک کی شکل میں موثر پلیٹ فارم بھی موجود ہے' اس پلیٹ فارم کو جتنا زیادہ موثر اور فعال بنایا جائے گا' اس خطے کے مصائب اور مشکلات کم ہوتے چلی جائیں گی۔ وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے اپنے مسائل ہیں اور ان مسائل کو وہاں کے ممالک ہی بہتر انداز میں حل کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہارٹ آف ایشیا یا کسی اور پلیٹ فارم کو باہمی اتحاد و یگانگت کے طور پر استعمال کیا جائے جب کہ مضبوط ان اتحادوں کو کیا جائے جو خطے کے ممالک پر مشتمل ہوں۔
Load Next Story