شام کے فوجی اڈے پر اسرائیل کا میزائل حملہ

مسلم ممالک اپنے باہمی تعصبات اور تنازعات پر قابو پا لیں تو شام، عراق اور یمن میں امن قائم ہوجائے گا

اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک فوجی اڈے پر فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے ہی، فوٹو: اے ایف پی

RAWALPINDI:
شام کا بحران حل ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے خصوصاً اس صورت میں کہ امریکا اور روس کے علاوہ اب اسرائیل کی بھی اس بحران میں خطرناک مداخلت نمایاں ہو گئی ہے جس نے صورتحال کو خاصا دھماکا خیز بنا دیا ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک الکسوہ کے علاقے میں فوجی اڈے پر فضا سے زمین تک مار کرنے والے میزائل داغے ہیں۔ اس فوجی اڈے کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ اڈہ ایران کی جانب سے تعمیر کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کرنا تھا، مگر اسرائیل نے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے خلاف متوقع حملہ پیشگی طور پر ناکام بنا دیا۔

بتایا گیا ہے کہ اس فوجی اڈے پر فضا سے زمین تک مار کرنے والے میزائل داغے گئے ہیں۔ ادھر شامی حکومت کے میڈیا نے بتایا ہے کہ شام کے دفاعی نظام نے دمشق کے نزدیک الکسوہ میں کئی ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں کے بعد فضائی اہداف پر میزائل داغے۔ اسرائیلی حملوں میں الکسوہ میں موجود شامی حکومت کی فوج کے فرسٹ ڈویژن کو نشانہ بنایا گیا۔


ایرانی خبر رساں ادارے نے العالم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے دارالحکومت دمشق کے علاقوں صحنایا اور الکسوۃ میں فوج کے اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا اور دمشق کے اطراف میں بمباری کی جس کے جواب میں شامی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے کئی میزائلوں کو تباہ کر دیا۔ شام میں اسرائیل کا حملہ' شام کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو مزید بگاڑے گا جس سے یہاں قیام امن کے رہے سہے امکانات بھی ختم ہوجائیں گے ۔

شام کی ریاستی اور دفاعی طاقت ختم ہو چکی ہے' لبنان بھی فوجی اعتبار سے بہت کمزور ملک ہے' یہاں بھی حزب اﷲ لبنانی فوج سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس لیے اسرائیل بلاخوف شام اور لبنان میں کارروائی کرتا ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس صورت حال کا ذمے دار کون ہے؟ اگر غور سے اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو نظر اس خطے کے مسلم ممالک پر ہی جاتی ہے۔ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے' یہ خطے کے مسلم ممالک کی پراکسی وار کا نتیجہ ہے۔

اسرائیل' امریکا یا یورپی ممالک کا کیا قصور' انھوں نے تو حالات کا فائدہ اٹھانا ہی ہے اور وہ حالات سے فائدہ اٹھا بھی رہے ہیں، اگر مسلم ممالک اپنے باہمی تعصبات اور تنازعات پر قابو پا لیں تو شام' عراق' یمن میں امن قائم ہو جائے گا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ شام' یمن اور لبنان وغیرہ صرف نام کے مقتدر اور اقتدار اعلیٰ کے حامل ملک ہیں' اسرائیل کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے' وہ جب چاہے ان پر قبضہ کرسکتا ہے، یا یہاں بمباری کرسکتا ہے۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کی قیادت متحد ہو جائے تاکہ اسرائیل کا راستہ روکا جا سکے۔
Load Next Story