کمزور معاشی اشاریے
خراب حالات کے سبب ملکی سرمایہ کار گھبرا رہا ہے جب کہ غیر ملکی افراد سرمایہ کاری پر آمادہ نہیں
ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، فوٹو: انٹرنیٹ
QUETTA:
پاکستان کی معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے' ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے' اشیاء ضروریہ کی مہنگائی کا گراف بھی مسلسل اوپر کی جانب جا رہا ہے۔ بیروز گاری اور غربت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میڈیا کی اطلاع کے مطابق وزارت خزانہ کی جون 2017ء کی پبلک ڈیٹ مینجمنٹ رسک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں تقریباً تمام اقتصادی اشاریے کمزور نظر آ رہے ہیں۔ قرضوں کا حجم 21.4 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے جو مجموعی قومی آمدن کا 67.2 فیصد بنتا ہے۔
ملک کی غیرمستحکم سیاسی صورت حال نے ملکی معیشت کو خاصا متاثر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے افشا کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے' وہ بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے اندرون ملک کاروباری سرگرمیاں خاصی حد تک متاثر ہو رہی ہیں۔ ادھر حکومت کے اکنامک منیجرز کی معاشی حکمت عملی بھی موثر ثابت نہیں ہو سکی جس کے نتیجے میں ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک کا مڈل کلاس طبقہ سخت معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ نچلا طبقہ معاشی جدوجہد سے باہر ہو چکا ہے۔ بڑے شہروں کی شاہراہوں کے ٹریفک سگنلز اور تجارتی مراکز بھکاریوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جرائم کی بھرمار ہے۔ ادھر ملک کی سیاسی صورت حال غیریقینی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے گھبرا رہا ہے جب کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری پر آمادہ نہیں ہے۔ اگر صورت حال یونہی جاری رہی تو ملکی معیشت کا حال مزید ابتر ہوتا چلا جائے گا۔
پاکستان کی معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے' ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے' اشیاء ضروریہ کی مہنگائی کا گراف بھی مسلسل اوپر کی جانب جا رہا ہے۔ بیروز گاری اور غربت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میڈیا کی اطلاع کے مطابق وزارت خزانہ کی جون 2017ء کی پبلک ڈیٹ مینجمنٹ رسک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں تقریباً تمام اقتصادی اشاریے کمزور نظر آ رہے ہیں۔ قرضوں کا حجم 21.4 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے جو مجموعی قومی آمدن کا 67.2 فیصد بنتا ہے۔
ملک کی غیرمستحکم سیاسی صورت حال نے ملکی معیشت کو خاصا متاثر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے افشا کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے' وہ بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے اندرون ملک کاروباری سرگرمیاں خاصی حد تک متاثر ہو رہی ہیں۔ ادھر حکومت کے اکنامک منیجرز کی معاشی حکمت عملی بھی موثر ثابت نہیں ہو سکی جس کے نتیجے میں ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک کا مڈل کلاس طبقہ سخت معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ نچلا طبقہ معاشی جدوجہد سے باہر ہو چکا ہے۔ بڑے شہروں کی شاہراہوں کے ٹریفک سگنلز اور تجارتی مراکز بھکاریوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جرائم کی بھرمار ہے۔ ادھر ملک کی سیاسی صورت حال غیریقینی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے گھبرا رہا ہے جب کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری پر آمادہ نہیں ہے۔ اگر صورت حال یونہی جاری رہی تو ملکی معیشت کا حال مزید ابتر ہوتا چلا جائے گا۔