سیاست میں الزام تراشی سے اجتناب کی ضرورت
سیاست دان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں
سیاست دان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ فوٹو: فائل
فیض آباد دھرنے کی سنگینی ختم ہوجانے کے بعد لازم تھا کہ سیاست دانوں کے مابین افہام وتفہیم کا ماحول بنتا، تمام مین اسٹریم فہمیدہ حلقے پورے جمہوری اسپرٹ کے ساتھ سیاست کو 2018ء کے الیکشن کی گہماگہمی سے مشروط کردیتے، سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال پر لانے کی سعی کی جاتی، مکالمہ اور مشاورت کے ذریعہ قومی ایشوز کے حل کے لیے مشترکہ بنیادوں پر کوئی ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا جو مہذب جمہوری ملکوں کا مسلمہ پارلیمانی اور جمہوری طریقہ کار ہے، مغربی معاشروں میں سیاسی صورتحال لاکھ تشویش ناک ہو وہاں عوام کو ریلیف دینے میں نہ تو کوئی کمی کا تصور کرسکتا ہے اور نہ شہری زندگی کو یرغمال بناکر ہفتوں میڈیا پر ہنگامہ داروگیر کے دلگداز مناظر دلوں کو صدمات سے دوچار کرتے ہیِں۔
یہ سیاسی روش ہماری پیدا کردہ ہے، جو مہلک اور اندوہناک ہونے کے ساتھ ساتھ نظام اقدار کو بھسم کردینے والی ہے، جسے جلد سے جلد ختم ہونا چاہیے، جب کہ حکمراں، قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین، سینیٹرز، سول سوسائٹی، میڈیا، سیاسی رہنما بشمول اپوزیشن جماعتیں قومی سیاست میں سنجیدگی، تدبر، صبر وتحمل، رواداری اور شائستگی کی متاع بے بہا کا اضافہ کرتیں، ملکی سیاست اور قومی وقار کا امیج اجاگر ہوتا، دنیا کو ایک جمہوری، روادار اور انسانی اقدار سے آراستہ نظم حکمرانی کا آئینہ دار پاکستان دکھانے کی جستجو کی جاتی۔ مگر بدقسمتی سے یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے، کسی سیاست دان کو شکایت ہے کہ ابھی جمہوریت نہیں آئی، سیاستدانوں کے متبادل مل جاتے ہیں، تاہم افواج کا کوئی متبادل نہیں، اس لیے افواج متنازع بننے کے بجائے سلامتی کے لیے کردار ادا کرے اور سیاست میں دلچسپی نہ لے۔ ادھر چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کا انتباہ بر وقت تھا کہ بدقسمتی سے ایک بار پھر مذہب کو سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ملک میں وارلارڈ ازم جنم لے رہی ہے، اداروں کے درمیان محاذ آرائی وفاق کے لیے خطرہ ہے، ریاست کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں، لازم ہے کہ ملک کے تمام ادارے اکٹھے ہوں۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک تقسیم کرنے کی سازش ہورہی ہے، عدلیہ اور فوج کے خلاف سازش اور بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان داؤ پر لگایا جارہا ہے، ملک کو فرقہ وارانہ اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بلاشبہ سیاست جو ناممکنات کو ممکن بنانے کا ہنر اور سیاسی دانائی کے ساتھ قوم کو بحرانوں سے نکال کر منزل مقصود تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرتی ہے، دشمنوں سے چوکنا رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تمام تقاضوں کو ہمہ وقت اپنے پیش نظر رکھتی ہے، اس وقت ضرورت ایسی ہی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی ہے، سیاست دان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں، مثبت اور تعمیری تنقید ضرور کریں مگر عوام کو خیر کی خبریں بھی دیں، ان کے زخموں پر مرہم بھی رکھیں، ان کی تقدیر بدلنے کے محض دعوے نہ کریں، ان کی عملی تعبیر کے لیے مل بیٹھ کر مادر وطن کو بحرانوں کے دلدل سے نکالنے کا عہد کریں۔
سیاست جمہوری طرز فکر کے ساتھ ہوگی تبھی عوام کو جمہوریت کے ثمرات ملیں گے، لیکن زمینی حقائق کے تناظر میں سیاسی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو عام آدمی بھی اس تاثر سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا کہ ایک طرف حکمراں اپنی حکومتی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر گرانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، ان کا ہدف فوج، عدلیہ اور دیگر قومی ادارے ہیں، ضرورت اشاروں کنایوں میں ریاستی وقار، وفاقی نظام کی روح اور صوبوں میں خیرسگالی کا ماحول پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کی نہیں بلکہ پارلیمان کی بالادستی اور اس کے وقار کو سربلند رکھنے کی ہے۔ یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ نہیں رہی تو کچھ نہیں بچے گا، ملکی سالمیت، معاشی و سیاسی استحکام کے بغیر سیاست گالیوں سے آگے نہیں بڑھ سکے گی اور اس بات کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر وقت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ سیاسی مین اسٹریم اور اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی ناکامیوں کو کھلے دل سے تسلیم کریں، پسپائی، سیاسی، اخلاقی اور پارلیمانی سطح پر کثیر جہتی رونما ہوئی ہے، لہٰذا احساس زیاں سے دامن چھڑانا مناسب نہیں۔ سیاسی قیادت قوم کے تن مردہ میں جان ڈالنے کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے، جمہوریت اقتدار و اختلاف کے ادارہ جاتی نظام سے عبارت ہے، سیاسی محاذ آرائی سے گریز میں قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے، امن ومان کی صورتحال ٹھیک ہوگی تو سیاسی کشمکش بھی تھم سکتی ہے۔
احساس کیجیے کہ ملکی سیاست اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے اور یہ سب کچھ محض غیر ملکی کارستانی کا نتیجہ نہیں، خود ہمارے سیاستدانون کی ناتدبیریوں، جذباتیت، جارحانہ طرزعمل اور سیاسی منشور اور سیاسی ضابطہ اخلاق کو پس پست ڈالنے کا شاخسانہ ہے۔ اگر کردار کشی، دشنام طرازی اور اشتعال انگیز بیان بازی کا سلسلہ رکتا اور قومی سیاسی حلقوں میں زمینی حقائق اور خطے کو درپیش بحرانون اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس روڈ میپ تیار کیا جاتا، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی رسہ کشی ختم ہوجاتی تو کتنا دلفریب جمہوری منظرنامہ ہوتا۔
یہ سیاسی روش ہماری پیدا کردہ ہے، جو مہلک اور اندوہناک ہونے کے ساتھ ساتھ نظام اقدار کو بھسم کردینے والی ہے، جسے جلد سے جلد ختم ہونا چاہیے، جب کہ حکمراں، قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین، سینیٹرز، سول سوسائٹی، میڈیا، سیاسی رہنما بشمول اپوزیشن جماعتیں قومی سیاست میں سنجیدگی، تدبر، صبر وتحمل، رواداری اور شائستگی کی متاع بے بہا کا اضافہ کرتیں، ملکی سیاست اور قومی وقار کا امیج اجاگر ہوتا، دنیا کو ایک جمہوری، روادار اور انسانی اقدار سے آراستہ نظم حکمرانی کا آئینہ دار پاکستان دکھانے کی جستجو کی جاتی۔ مگر بدقسمتی سے یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے، کسی سیاست دان کو شکایت ہے کہ ابھی جمہوریت نہیں آئی، سیاستدانوں کے متبادل مل جاتے ہیں، تاہم افواج کا کوئی متبادل نہیں، اس لیے افواج متنازع بننے کے بجائے سلامتی کے لیے کردار ادا کرے اور سیاست میں دلچسپی نہ لے۔ ادھر چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کا انتباہ بر وقت تھا کہ بدقسمتی سے ایک بار پھر مذہب کو سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ملک میں وارلارڈ ازم جنم لے رہی ہے، اداروں کے درمیان محاذ آرائی وفاق کے لیے خطرہ ہے، ریاست کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں، لازم ہے کہ ملک کے تمام ادارے اکٹھے ہوں۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک تقسیم کرنے کی سازش ہورہی ہے، عدلیہ اور فوج کے خلاف سازش اور بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان داؤ پر لگایا جارہا ہے، ملک کو فرقہ وارانہ اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بلاشبہ سیاست جو ناممکنات کو ممکن بنانے کا ہنر اور سیاسی دانائی کے ساتھ قوم کو بحرانوں سے نکال کر منزل مقصود تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرتی ہے، دشمنوں سے چوکنا رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تمام تقاضوں کو ہمہ وقت اپنے پیش نظر رکھتی ہے، اس وقت ضرورت ایسی ہی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی ہے، سیاست دان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں، مثبت اور تعمیری تنقید ضرور کریں مگر عوام کو خیر کی خبریں بھی دیں، ان کے زخموں پر مرہم بھی رکھیں، ان کی تقدیر بدلنے کے محض دعوے نہ کریں، ان کی عملی تعبیر کے لیے مل بیٹھ کر مادر وطن کو بحرانوں کے دلدل سے نکالنے کا عہد کریں۔
سیاست جمہوری طرز فکر کے ساتھ ہوگی تبھی عوام کو جمہوریت کے ثمرات ملیں گے، لیکن زمینی حقائق کے تناظر میں سیاسی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو عام آدمی بھی اس تاثر سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا کہ ایک طرف حکمراں اپنی حکومتی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر گرانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، ان کا ہدف فوج، عدلیہ اور دیگر قومی ادارے ہیں، ضرورت اشاروں کنایوں میں ریاستی وقار، وفاقی نظام کی روح اور صوبوں میں خیرسگالی کا ماحول پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کی نہیں بلکہ پارلیمان کی بالادستی اور اس کے وقار کو سربلند رکھنے کی ہے۔ یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ نہیں رہی تو کچھ نہیں بچے گا، ملکی سالمیت، معاشی و سیاسی استحکام کے بغیر سیاست گالیوں سے آگے نہیں بڑھ سکے گی اور اس بات کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر وقت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ سیاسی مین اسٹریم اور اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی ناکامیوں کو کھلے دل سے تسلیم کریں، پسپائی، سیاسی، اخلاقی اور پارلیمانی سطح پر کثیر جہتی رونما ہوئی ہے، لہٰذا احساس زیاں سے دامن چھڑانا مناسب نہیں۔ سیاسی قیادت قوم کے تن مردہ میں جان ڈالنے کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے، جمہوریت اقتدار و اختلاف کے ادارہ جاتی نظام سے عبارت ہے، سیاسی محاذ آرائی سے گریز میں قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے، امن ومان کی صورتحال ٹھیک ہوگی تو سیاسی کشمکش بھی تھم سکتی ہے۔
احساس کیجیے کہ ملکی سیاست اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے اور یہ سب کچھ محض غیر ملکی کارستانی کا نتیجہ نہیں، خود ہمارے سیاستدانون کی ناتدبیریوں، جذباتیت، جارحانہ طرزعمل اور سیاسی منشور اور سیاسی ضابطہ اخلاق کو پس پست ڈالنے کا شاخسانہ ہے۔ اگر کردار کشی، دشنام طرازی اور اشتعال انگیز بیان بازی کا سلسلہ رکتا اور قومی سیاسی حلقوں میں زمینی حقائق اور خطے کو درپیش بحرانون اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس روڈ میپ تیار کیا جاتا، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی رسہ کشی ختم ہوجاتی تو کتنا دلفریب جمہوری منظرنامہ ہوتا۔