ٹرانسپورٹ کی بے لگامی

کراچی میں ہر روز ٹرانسپورٹ حادثات میں چار چھ شہریوں کی ہلاکت اور درجنوں شہریوں کا زخمی ہونا روز کا معمول بنا ہوا ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

دو ہفتہ قبل موٹر سائیکل پر سوار میری بیٹی اور اس کے کزن کو بلوچ کالونی پل پر ایک تیز رفتار بس نے ٹکر ماردی۔ بیٹی اور کزن دونوں گرین بس کے نیچے آگئے۔ موٹر بائیک ٹوٹ پھوٹ گئی اور ہماری بیٹی کے سیدھے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور کزن کا پیر بری طرح کٹ گیا۔ 2014 میں ہم سبزی مارکیٹ جا رہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل سوار نے ہمیں اس زور سے ٹکر ماری کہ ہم بے ہوش ہوگئے۔

اتفاق سے ہمیں جاننے والے دو نوجوان وہاں سے گزر رہے تھے، انھوں نے ہمیں گھر پہنچایا، ہماری پسلی اور کندھے پر سخت چوٹیں آئی تھیں۔ پسلی اور کندھے پر سویلنگ ہوگئی تھی۔ اتفاق سے اسپتال قریب تھا، سو ہمیں وہاں لے جایا گیا اور فرسٹ ایڈ دی گئی۔ بسوں کی بے لگام رفتار شہریوں کے لیے عذاب بن کر رہ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کراچی میں دو پبلک بسوں کی ریس میں شکار ہونے والی کمسن بچی کے حادثے نے اہل دل کو تڑپا کر رکھ دیا۔

کراچی میں ہر روز ٹرانسپورٹ حادثات میں چار چھ شہریوں کی ہلاکت اور درجنوں شہریوں کا زخمی ہونا روز کا معمول بنا ہوا ہے۔ اخبارات میرے سامنے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ کی بے لگامی کا شکار ہونے والوں کی تفصیل ہے۔ بلوچ کالونی پل پر لوگ بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ ایک کرولا کار نے، جسے ایک 15 سالہ لڑکا چلا رہا تھا، اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر کار چڑھا دی۔ اس حادثے میں میاں بیوی ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے 55 سالہ عبدالعزیز اپنے بھائی سے ملنے نارتھ کراچی اپنی بیوی کے ساتھ جا رہے تھے کہ کار کے 15 سالہ ڈرائیور نے انھیں قبرستان پہنچادیا۔ پولیس نے کار ڈرائیور ولید اور اس کے دو دوستوں خضر حیات اور عبدالرحمن کو گرفتار کرلیا۔ عبدالعزیز مرحوم محکمہ تعلیم میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔ ولید کے دونوں ساتھیوں کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔

درخشاں تھانے کی حدود سی ویو چوکی کے قریب ایک تیز رفتار کار نے موٹر سائیکل سوار دو افراد کو کچل دیا۔ نیشنل ہائی وے ٹول پلازہ کے قریب ایک شخص ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔ گارڈن کے قریب شادی ہال کے سامنے ایک تیز رفتار مسافر کوچ کی ٹکر سے 3 سالہ بچہ حمید ولد عبدالرشید جاں بحق ہوگیا۔ بلدیہ ٹاؤن رئیس گوٹھ میں تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے 30 سالہ ارباب ولد روشن جاں بحق ہوگیا۔ یہ 17افراد ایک ہی دن میں ٹرانسپورٹ حادثات میں جاں بحق ہوگئے۔ یہ ایک دن کی سرسری رپورٹ ہے، ہر روز درجنوں افراد ٹرانسپورٹ حادثات کا شکار ہوکر جان سے جاتے ہیں اور زخمی ہوجاتے ہیں۔

17 نومبر کو ہماری بیٹی کا آپریشن ہوا، ہڈی کچھ اس طرح ٹوٹی تھی کہ اس میں راڈ ڈالنا پڑا اور یہ حادثہ دائیں ہاتھ میں زندگی بھر کا نقص چھوڑ گیا۔ اس جسمانی نقصان کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑا۔ جانے ہر روز کتنے لوگ حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر کسی خاندان کا سربراہ جس پر گھر کی ساری ذمے داریاں ہوتی ہیں اس قسم کے حادثات میں جان سے جاتا ہے تو اس کا پورا خاندان سخت معاشی مشکلات کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔


حکومت کی طرف سے سڑکوں کے حادثات میں مارے جانے والوں کے لیے مالی امداد کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد کی صورتحال کیا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ عوام کے فلاحی منصوبے عام طور پر اخباری بیانات اور کاغذی کارروائیوں تک محدود ہوتے ہیں اور اس کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے کہ مستحق لوگ بھی اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے تھک جاتے ہیں اور اپنے حق سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔

ویسے تو سارے ملک ہی میں ٹرانسپورٹ قوانین کی بے ضابطگیاں عام ہیں لیکن کراچی میں تو ٹرانسپورٹ کے قوانین کا حال جنگل کے قوانین سے بدتر ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹریفک پولیس کی اولین ترجیح ٹرانسپورٹ قوانین پر عملدرآمد کے بجائے زیادہ سے زیادہ مال بنانا ہوتی ہے، جہاں مال اولین ترجیح بن جاتا ہے وہاں قوانین شرم سے منہ چھپاتے نظر آتے ہیں۔ ٹریفک کے شعبے میں بھی نیچے سے اوپر تک تقسیم کا ایک منظم نظام موجود ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ہر اہلکار کو دن بھر کی کمائی کا حساب دینا پڑتا ہے اور اپنا مقررہ حصہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ کراچی کا ہر شہری صبح سے آدھی رات تک اپنی آنکھوں سے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے نظارے کرتا ہے اور ایک سرد آہ بھر کر رہ جاتا ہے۔ کراچی میں بھی ٹرانسپورٹ پر ایک خاص مافیا کا قبضہ ہے اور یہ مافیا اتنی منظم اور اس قدر طاقتور ہے کہ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

کراچی میں حادثات کا ایک بڑا سبب ٹرانسپورٹ کی شدید کمی ہے۔ یہ بیماری نئی نہیں ہے، بلکہ عشروں پرانی ہے۔ ٹرانسپورٹ کی یہ صورتحال قیمتی جانوں کے زیاں کا باعث بنی ہوئی ہے۔ عوام بسوں کے پائیدانوں پر لٹک کر اور چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹرانسپورٹر متعلقہ محکمے کی ملی بھگت کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور عوام کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ انھیں سیٹ بائی سیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی، لیکن یہ یقین دہانیاں ایک دل فریب دھوکے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں، اور بے چارے عوام بس اسٹاپوں پر گھنٹوں بسوں کا انتظار کرتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح سفر کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

گزشتہ دور حکومت میں گرین بسیں عوام کی سفری مشکلات کم کرنے کے لیے چلائی گئی تھیں، مختلف اسٹاپس پر گرین بس کے ٹکٹس کے لیے خوبصورت کیبن بنائے گئے تھے لیکن کچھ ہی عرصہ میں یہ گرین بسیں کراچی کی سڑکوں سے غائب ہوگئیں اور ٹکٹ کیبن بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر ناپید ہوگئے۔ کراچی میں آٹو رکشہ اور ٹیکسیوں میں میٹر سرے سے ہوتے ہی نہیں، ڈرائیوروں کی مرضی سے کرایہ طے ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چنگچی رکشوں سے عوام کو سفری سہولتیں میسر آرہی تھیں، لیکن کم عمر لڑکوں کو چنگچی چلانے کی آزادی ملی تو یہ سفر بھی خطرناک ہوگیا۔ کراچی میں سرکلر ریلوے کے دوبارہ اجرا کی خبریں وقتاً فوقتاً اخباروں کی زینت بنتی ہیں لیکن بوجوہ یہ مسئلہ سرد خانے کی نذر ہوجاتا ہے۔

ہم نے کئی بار لکھا ہے کہ کراچی کے عوام کو ٹرانسپورٹ کی مشکلات اور حادثات سے بچانے کے لیے اس محکمے میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کا سختی سے خاتمہ کیا جائے لیکن اہل قلم کی آواز بھینس کے آگے بین بجانے جیسی ہوکر رہ گئی ہے۔ حکومت سندھ ''جلد'' چھ سو بسیں کراچی کی سڑکوں پر لانے کے اعلانات کر رہی ہے اور عوام بڑی دیر سے اس ''جلد'' کا انتظار کر رہے ہیں۔
Load Next Story