انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی خاموشی سے گزرگئی

یوم وفات پر کوئی تقریب نہ ہوسکی،جالب نے معاشرتی ناانصافیوں پر نظمیں لکھیں۔

حبیب جالب نے ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور آمریت میں متعددبارقیدوبندکی صعوبتیں جھیلیں اور جمہوریت کیلیے جنگ لڑتے رہے۔ فوٹو : فائل

عوامی اور انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیسویں برسی خاموشی سے گزرگئی برسوں اپنے اشعار سے عوام کے دلوں پر راج کرنے والے شاعر کو کراچی کی ادبی تنظیمیں بھول گئیں۔

حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو بھارتی پنجاب ہوشیارپور میں پیدا ہوئے اوراینگلوعربک اسکول دہلی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 15 سال کی عمر میں ہی مشق سخن شروع کردی،ابتدا میں جگر مرادآبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں لکھیں، آزادی کے بعد کراچی آگئے اور سندھ ہاری تحریک میں کچھ عرصہ کام کیا۔


حبیب جالب نے معاشرتی مسائل اور ناانصافیوں کو دیکھتے ہوئے نظمیں بھی لکھیں ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور آمریت میں متعددبارقیدوبندکی صعوبتیں جھیلیں اور جمہوریت کیلیے جنگ لڑتے رہے مگر افسوس جمہوری حکومت میں ان کو نظرانداز کردیا گیا اور انکی برسی کے موقع پر تمام ادبی ثقافتی اور سرکاری تنظیمیں خاموش رہیں۔



حبیب جالب کی شاعری آج بھی عام آدمی کو ظلم کے خلاف بے باک آواز اٹھانے کا سبق دیتی ہے مگر افسوس ان کے اشعار کو سیاست دان اپنی تقاریر تک محدودکیے ہوئے ہیں،حبیب جالب نے اپنی زندگی میں ادب کیلیے بے شمار کام کیا انکی شاعری پر مبنی انکے 5 مجموعے شائع ہو ئے جن میں ''برگ آوارہ، سرمقتل، عہدستم، ذکربہتے خون کا، گوشے قفس کے'' شامل ہیں،عوام کے دلوں پر راج کرنے والا یہ عظیم شاعر 12 مارچ 1993 کواس جہان فانی سے کوچ کرگیا۔
Load Next Story