اغوا برائے تاوان کے ملزم کو عمر قید جائیداد ضبط کرنے کا حکم
ملزمان نے2007میں ضیاالرحمن کو اغوا کیا تھا،25لاکھ روپے تاوان وصول کیا، ٹارگٹ کلر کا جسمانی ریمانڈ.
ملزمان نے2007میں ضیاالرحمن کو اغوا کیا تھا،25لاکھ روپے تاوان وصول کیا، ٹارگٹ کلر کا جسمانی ریمانڈ. فوٹو: فائل
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے اغوا برائے تاوان کے الزام میں ملوث مجرم عبدلمالک عرف لکھ پتی کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان میر بخش ، عبدا لمالک اور عطااﷲ نے4ستمبر2007کو مغوی ضیا الرحمن کو تاوان کی غرض سے منگھو پیر سے اغوا کیا تھا اور اس کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا، بعدازاں 25 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا،3اکتوبر کو ملزمان نے حب چوکی کے علاقے میں رقم وصول کرکے مغوی کو رہا کردیا تھا۔
پولیس نے2ملزمان عطااﷲ اور میر بخش کو گرفتار کرلیا تھا،2008میں فاضل عدالت نے ملزم میر بخش کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ عطااﷲ کو عدم ثبوت پر بری کردیا تھا، ملزم عبدالماک جو کہ مفرور تھا پولیس نے 22 جولائی 2008کو گرفتار کرلیا تھا، دوران سماعت مغوی اور گواہوں نے شناخت کیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت اور سٹی کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کنیز فاطمہ نے ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی پولیس مقابلہ اقدام قتل کے الزامات میں ملوث کالعدم تحریک کے نور محمد عرف لالو کو پبلک پراسیکیوٹر سید شمیم احمد کی استدعا پر15مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا،ملزم کو سی آئی ڈی پولیس نے ماڑی پور کے علاقے سے مقابلے کے بعد گرفتار اور اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد دوران تفتیش ملزم نے متعدد قتل کی واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان میر بخش ، عبدا لمالک اور عطااﷲ نے4ستمبر2007کو مغوی ضیا الرحمن کو تاوان کی غرض سے منگھو پیر سے اغوا کیا تھا اور اس کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا، بعدازاں 25 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا،3اکتوبر کو ملزمان نے حب چوکی کے علاقے میں رقم وصول کرکے مغوی کو رہا کردیا تھا۔
پولیس نے2ملزمان عطااﷲ اور میر بخش کو گرفتار کرلیا تھا،2008میں فاضل عدالت نے ملزم میر بخش کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ عطااﷲ کو عدم ثبوت پر بری کردیا تھا، ملزم عبدالماک جو کہ مفرور تھا پولیس نے 22 جولائی 2008کو گرفتار کرلیا تھا، دوران سماعت مغوی اور گواہوں نے شناخت کیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت اور سٹی کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کنیز فاطمہ نے ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی پولیس مقابلہ اقدام قتل کے الزامات میں ملوث کالعدم تحریک کے نور محمد عرف لالو کو پبلک پراسیکیوٹر سید شمیم احمد کی استدعا پر15مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا،ملزم کو سی آئی ڈی پولیس نے ماڑی پور کے علاقے سے مقابلے کے بعد گرفتار اور اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد دوران تفتیش ملزم نے متعدد قتل کی واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔