بینک منیجرورینجرز افسران کی یونیورسٹی میں رہائش کا انکشاف

انتظامیہ کی غفلت سے مزید 14 گھروں میں غیر قانونی رہائش کا معاملہ سامنے آگیا.

انتظامیہ کی غفلت سے مزید 14 گھروں میں غیر قانونی رہائش کا معاملہ سامنے آگیا. فوٹو: فائل

NEW DEHLI:
جامعہ کراچی کی ہاؤس الاٹمنٹ کمیٹی اوراس کے سابق سربراہ کی غفلت کے باعث یونیورسٹی کیمپس میں مزید14گھروںمیں مقیم افرادکی غیرقانونی رہائش کاانکشاف ہواہے۔

ہاؤس الاٹمنٹ کمیٹی کے سابق سربراہ نے جامعہ کی انتظامیہ کو اس معاملے سے لاعلم رکھا تھا،یونیورسٹی کیمپس میں کم از کم غیرقانونی طور پرمقیم خاندانوں کی تعداد71 ہوگئی ہے ان میں 14 گھر یونیورسٹی کیمپس میں ای ٹائپ کیٹگری میں بنائے گئے ہیں جہاں بجلی ،گیس اور پانی یونیورسٹی کی استعمال ہوتی ہے جبکہ یونیورسٹی کوان گھروں کاکرایہ دیا جاتا ہے نہ ہی یوٹیلیٹی بلوں کی مد میں کوئی رقم اداکی جاتی ہے۔




تاہم ہاؤس الاؤٹمنٹ کمیٹی کے سابق سربراہ پروفیسرابوذرواجدی اور اسٹیٹ افسر نعیم الرحمٰن نے انتظامیہ کی توجہ اس جانب کبھی مبذول نہیں کرائی،ان 14گھروں کے علاوہ متعلقہ بینک کے منیجرکوبھی غیرقانونی طورپریونیورسٹی کوڈ کے برخلاف ایک بنگہ الاٹ کیاگیا ہے جبکہ تین بنگلے رینجرز افسران کے پاس ہیں ایک افسرکو یونیورسٹی کی جانب سے بنگلہ الاٹ کیاگیا ہے۔

جبکہ 2 افسران بغیرکسی الاٹمنٹ کے رہ رہے ہیں واضح رہے کہ گزشتہ ایک عشرے سے جامعہ کراچی کی ہاؤس الاٹمنٹ کمیٹی کے سربراہ پروفیسرڈاکٹرابوذرواجدی تھے جبکہ یونیورسٹی کی کینٹینز کمیٹی کاچارج بھی ان ہی کے پاس تھا،جامعہ کراچی غیرقانونی طور پر مقیم کسی بھی شخص سے گھرخالی کے معاملے میں بے بس رہی ہے،ادھرکینٹینزکاحال یہ ہے کہ آئے دن کینٹین مالکان کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔
Load Next Story