امریکا 6 مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کا افسوسناک فیصلہ
صدر ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف اپنے دل میں کس قدر بغض و عناد رکھتے ہیں
صدر ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف اپنے دل میں کس قدر بغض و عناد رکھتے ہیں ۔فوٹو: فائل
لاہور:
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ حکومت کو 6 مسلم ممالک پر سفری پابندی مکمل طور پر نافذ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپیلٹ عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں جب تک سپریم کورٹ معاملے کی سماعت کا فیصلہ نہیں کرتی سفری پابندیاں برقرار رہیں گی، پابندی کی قانونی حیثیت کے متعلق ذیلی عدالتوں میں مقدمات جاری رہیں گے۔ فیصلے میں سپریم کورٹ کے 9 میں سے 7 ججوں نے پابندی کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیا، فیصلے کے بعد اب چاڈ، ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی مکمل طور پر نافذ العمل ہوگی۔ غریب مسلم ممالک پر یہ سفری پابندیاں نہایت افسوسناک ہیں، کیونکہ صدر ٹرمپ سیاسی و معاشی اختلافات کی آڑ میں اپنے ذاتی عناد کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ مسلمانوں کی امریکا آمد پر مکمل پابندی صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا، ٹرمپ نے سفری پابندیوں کا پہلا حکم جنوری میں صدر کی ذمے داریاں سنبھالنے کے چند روز بعد جاری کیا تھا جس میں کئی مسلمان ملکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، اس حکم نامے پر امریکا کی وفاقی عدالتوں نے عمل درآمد روک دیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے مارچ میں ایک تبدیل شدہ حکم جاری کیا تھا جس کی مدت رواں سال ستمبر میں ختم ہوگئی تھی، تیسرا حکم نامہ ستمبر میں ختم ہونے والی پابندیوں کی جگہ لینے کے لیے جاری کیا گیا تھا، جسے فوراً ہی عدالتوں میں چیلنج کردیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران ہی مسلم مخالف رویہ کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنائے گئے اور بعد ازاں انھوں نے اپنی حرکتوں اور پالیسیوں سے بھی واضح کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنے دل میں کس قدر بغض و عناد رکھتے ہیں۔ سفری پابندی سے متعلق صدر ٹرمپ کے نئے حکم نامے میں بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے جو امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے، جب کہ اس مسلم مخالف رویے کے مستقبل میں بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کا ادراک امریکی حکومت کو لازمی کرنا چاہیے۔
امریکی عدالت عظمیٰ کے 2 لبرل ججوں رتھ بیڈر اور سونیاسوٹو میئر نے اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی عدالتوں کی جانب سے صدارتی حکم نامے کی جزوی معطلی برقرار رہنی چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ امریکی تھنک ٹینک امریکا کے وسیع تر مفاد میں ٹرمپ کے ذاتی جنون کا ادراک کرتے ہوئے مسلم ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک کے سدباب کی پالیسی اپنائے گا۔
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ حکومت کو 6 مسلم ممالک پر سفری پابندی مکمل طور پر نافذ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپیلٹ عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں جب تک سپریم کورٹ معاملے کی سماعت کا فیصلہ نہیں کرتی سفری پابندیاں برقرار رہیں گی، پابندی کی قانونی حیثیت کے متعلق ذیلی عدالتوں میں مقدمات جاری رہیں گے۔ فیصلے میں سپریم کورٹ کے 9 میں سے 7 ججوں نے پابندی کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیا، فیصلے کے بعد اب چاڈ، ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی مکمل طور پر نافذ العمل ہوگی۔ غریب مسلم ممالک پر یہ سفری پابندیاں نہایت افسوسناک ہیں، کیونکہ صدر ٹرمپ سیاسی و معاشی اختلافات کی آڑ میں اپنے ذاتی عناد کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ مسلمانوں کی امریکا آمد پر مکمل پابندی صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا، ٹرمپ نے سفری پابندیوں کا پہلا حکم جنوری میں صدر کی ذمے داریاں سنبھالنے کے چند روز بعد جاری کیا تھا جس میں کئی مسلمان ملکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، اس حکم نامے پر امریکا کی وفاقی عدالتوں نے عمل درآمد روک دیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے مارچ میں ایک تبدیل شدہ حکم جاری کیا تھا جس کی مدت رواں سال ستمبر میں ختم ہوگئی تھی، تیسرا حکم نامہ ستمبر میں ختم ہونے والی پابندیوں کی جگہ لینے کے لیے جاری کیا گیا تھا، جسے فوراً ہی عدالتوں میں چیلنج کردیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران ہی مسلم مخالف رویہ کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنائے گئے اور بعد ازاں انھوں نے اپنی حرکتوں اور پالیسیوں سے بھی واضح کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنے دل میں کس قدر بغض و عناد رکھتے ہیں۔ سفری پابندی سے متعلق صدر ٹرمپ کے نئے حکم نامے میں بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے جو امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے، جب کہ اس مسلم مخالف رویے کے مستقبل میں بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کا ادراک امریکی حکومت کو لازمی کرنا چاہیے۔
امریکی عدالت عظمیٰ کے 2 لبرل ججوں رتھ بیڈر اور سونیاسوٹو میئر نے اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی عدالتوں کی جانب سے صدارتی حکم نامے کی جزوی معطلی برقرار رہنی چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ امریکی تھنک ٹینک امریکا کے وسیع تر مفاد میں ٹرمپ کے ذاتی جنون کا ادراک کرتے ہوئے مسلم ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک کے سدباب کی پالیسی اپنائے گا۔