نامزدگی فارم چھپوانے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شدید احتجاج فیصلے پر تشویش ہے اسپیکر کی رولنگ
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران ارکان نے مختلف امورنکتہ ہائے اعتراض پراٹھائے
عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور، ضابطہ اخلاق کا بل قومی اسمبلی میں نہ لایا جاسکا، سرکاری ملازمین کی مراعات غیرمنصفانہ ہیں،اکاؤنٹس کمیٹی فوٹو: فائل
MULTAN:
آئندہ عام انتخابات کے امیدواروں کیلیے صدرکی منظوری کے بغیر نئے کاغذات نامزدگی فارم چھپوانے پر قومی اسمبلی اورسینیٹ میں حکومتی ارکان نے منگل کوشدیداحتجاج کیاجبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمشن کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رولنگ دی ہے کہ جب پارلیمنٹ موجود ہے تو اس کی مشاورت کے بغیرکیسے کوئی کام کیا جاسکتا ہے ۔
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران ارکان نے مختلف امورنکتہ ہائے اعتراض پراٹھائے حکومتی رکن ندیم افضل چن نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے اگر اپنی من مانیاں کرنی ہیں تواسمبلیوںکوختم کردیا جائے اورٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جائے۔ اگرپری پول دھاندلی کرنی ہے تو کم از کم 16مارچ تک ہی انتظار کرلیا جاتا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جب پارلیمنٹ موجود ہے تو اس طرح پارلیمنٹ کے باہر فیصلے نہ کیے جائیں بلکہ پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے۔
قبل ازیں اسمبلی نے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے متعلق عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کے بل 2013 کواتفاق رائے سے منظورکرلیاجس کے تحت اب امیدوار پر ذاتی طور پر پیش ہوکر کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے ۔ بل کے تحت کوئی بھی امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے کیلیے بااختیارنمائندہ بھی نامزدکرسکے گا ۔ترمیم کابل ن لیگ کے زاہدحامدنے پیش کیا تھا، وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہاہے کہ سابق ڈکٹیٹر نے عام انتخابات 2002میں بے نظیر بھٹو کو الیکشن سے روکنے کیلیے ایک حربے کے طور پر یہ آرڈر پاس کرایا تھا،کیونکہ بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں۔ ایم کیو ایم کے وسیم اختر نے کہاکہ الطاف حسین خود الیکشن میں حصہ نہیں لیتے مگر اس کے باوجودیہ اچھی پیش رفت ہے اور ہم اس کو سراہتے ہیں۔
ق لیگ کے شیخ وقاص اکرم نے بھی اس بل کی حمایت کی۔ دوسری جانب سینیٹ میںالیکشن کمیشن کے بعض ارکان کے بیانات کے حوالے سے وفاقی وزیرمولا بخش چانڈیو نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کرنیکااعتراف کیا ہے،چیف الیکشن کمشنرفخر الدین جی ابراہیم کی غیرجانبداری پرداغ لگ چکا ہے، انتخابی شیڈول جاری ہونے سے قبل بھرتیوں اور ترقیاتی فنڈز پر پابندیاں کیوںلگائی گئیں؟۔ ایم کیو ایم کے سینیٹرعبدالحسیب خان نے کہاکہ الیکشن کے التواء کے حوالے سے شکوک و شبہات نہ پیدا کیے جائیں۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹرسعید غنی نے نے کہا کہ جو قوانین موجود ہیں، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کام کرنے کاپابندہے،ہمیںمن مانی تشریحات کی وجہ سے پہلے ہی بہت سے مسائل کاسامناہے۔ ن لیگ کے جعفر اقبال نے کہاکہ فیصلے سے اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے الیکشن ملتوی ہونیکی راہ ہموار ہوگی۔ سینیٹرکاظم خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہوش کے ناخن لے اور سیاسی جماعتوں پر بدنیتی کے الزامات نہ لگائے ۔ دریں اثنا قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بعض سرکاری اداروںکے ملازمین کوحاصل خصوصی مراعات اورالاؤنسزکوغیرمنصفانہ عمل قراردیتے ہوئے حکومت کوتجویزدی ہے کہ اس معاملے پر3 ماہ کے اندرکمیشن قائم کیاجائے،کمیٹی کاآخری اجلاس منگل کوچیئرمین ندیم افضل چن کی زیرصدارت ہوا۔
چیئرمین کمیٹی کاکہناتھاکہ جوسپاہی جنگ زدہ علاقوںمیں ذمے داریاں سرانجام دے رہے ہیں ان کیلیے خصوصی مراعات دینے پرکوئی اعتراض نہیں لیکن جوافسران وزیراعظم ہاؤس یاایوان صدرمیںبراجمان ہیں اوروہ دہری تنخواہیں وصول کررہے ہیں، انکاکوئی جوازنہیں بنتا۔کمیٹی کو بتایاگیاکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ 5 لاکھ 37ہزار865روپے اور سپیریئر جوڈیشل الانس 2لاکھ 35 ہزار463 روپے ہے، اسی طرح سپریم کورٹ کے افسران ایک تنخواہ کیساتھ 3 تنخواہیں اورالاؤنسزلیتے ہیں۔
نیشنل ہائی وے اورموٹروے پولیس کے افسران کوتنخواہ کیساتھ ہرمہینے 20 دن کاٹی اے ڈی اے دے دیاجاتاہے،چاہے وہ سفرکریں یانہ کریں۔دریں اثنا قومی اسمبلی کے2روزباقی رہ گئے لیکن الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق بل کوتاحال قومی اسمبلی میں پیش نہیںکیاجاسکا۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق اگرضابطہ اخلاق کوقانونی تحفظ نہ دیاگیاتو کمیشن خودضابطہ اخلاق لاگوکرنیکااعلان کریگا۔
بل سینیٹ میں پیش کیا گیا لیکن تاحال قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیاجاسکا۔اس حوالے سے خصوصی کمیٹی کے رکن اور ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل (ر) طاہر مشہدی نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی پارلیمنٹ سے توثیق نہ کرائی گئی تو اس کی قانونی حیثیت پر ایک سوالیہ نشان ہو گا۔ بڑی محنت سے یہ بل تیارکیاگیا تھا،سمجھ نہیں آتی اسے قومی اسمبلی میں کیوں نہیں پیش کیاگیا۔ناکامی کی ذمے د ارپیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن ہونگی۔
آئندہ عام انتخابات کے امیدواروں کیلیے صدرکی منظوری کے بغیر نئے کاغذات نامزدگی فارم چھپوانے پر قومی اسمبلی اورسینیٹ میں حکومتی ارکان نے منگل کوشدیداحتجاج کیاجبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمشن کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رولنگ دی ہے کہ جب پارلیمنٹ موجود ہے تو اس کی مشاورت کے بغیرکیسے کوئی کام کیا جاسکتا ہے ۔
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران ارکان نے مختلف امورنکتہ ہائے اعتراض پراٹھائے حکومتی رکن ندیم افضل چن نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے اگر اپنی من مانیاں کرنی ہیں تواسمبلیوںکوختم کردیا جائے اورٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جائے۔ اگرپری پول دھاندلی کرنی ہے تو کم از کم 16مارچ تک ہی انتظار کرلیا جاتا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جب پارلیمنٹ موجود ہے تو اس طرح پارلیمنٹ کے باہر فیصلے نہ کیے جائیں بلکہ پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے۔
قبل ازیں اسمبلی نے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے متعلق عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کے بل 2013 کواتفاق رائے سے منظورکرلیاجس کے تحت اب امیدوار پر ذاتی طور پر پیش ہوکر کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے ۔ بل کے تحت کوئی بھی امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے کیلیے بااختیارنمائندہ بھی نامزدکرسکے گا ۔ترمیم کابل ن لیگ کے زاہدحامدنے پیش کیا تھا، وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہاہے کہ سابق ڈکٹیٹر نے عام انتخابات 2002میں بے نظیر بھٹو کو الیکشن سے روکنے کیلیے ایک حربے کے طور پر یہ آرڈر پاس کرایا تھا،کیونکہ بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں۔ ایم کیو ایم کے وسیم اختر نے کہاکہ الطاف حسین خود الیکشن میں حصہ نہیں لیتے مگر اس کے باوجودیہ اچھی پیش رفت ہے اور ہم اس کو سراہتے ہیں۔
ق لیگ کے شیخ وقاص اکرم نے بھی اس بل کی حمایت کی۔ دوسری جانب سینیٹ میںالیکشن کمیشن کے بعض ارکان کے بیانات کے حوالے سے وفاقی وزیرمولا بخش چانڈیو نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کرنیکااعتراف کیا ہے،چیف الیکشن کمشنرفخر الدین جی ابراہیم کی غیرجانبداری پرداغ لگ چکا ہے، انتخابی شیڈول جاری ہونے سے قبل بھرتیوں اور ترقیاتی فنڈز پر پابندیاں کیوںلگائی گئیں؟۔ ایم کیو ایم کے سینیٹرعبدالحسیب خان نے کہاکہ الیکشن کے التواء کے حوالے سے شکوک و شبہات نہ پیدا کیے جائیں۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹرسعید غنی نے نے کہا کہ جو قوانین موجود ہیں، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کام کرنے کاپابندہے،ہمیںمن مانی تشریحات کی وجہ سے پہلے ہی بہت سے مسائل کاسامناہے۔ ن لیگ کے جعفر اقبال نے کہاکہ فیصلے سے اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے الیکشن ملتوی ہونیکی راہ ہموار ہوگی۔ سینیٹرکاظم خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہوش کے ناخن لے اور سیاسی جماعتوں پر بدنیتی کے الزامات نہ لگائے ۔ دریں اثنا قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بعض سرکاری اداروںکے ملازمین کوحاصل خصوصی مراعات اورالاؤنسزکوغیرمنصفانہ عمل قراردیتے ہوئے حکومت کوتجویزدی ہے کہ اس معاملے پر3 ماہ کے اندرکمیشن قائم کیاجائے،کمیٹی کاآخری اجلاس منگل کوچیئرمین ندیم افضل چن کی زیرصدارت ہوا۔
چیئرمین کمیٹی کاکہناتھاکہ جوسپاہی جنگ زدہ علاقوںمیں ذمے داریاں سرانجام دے رہے ہیں ان کیلیے خصوصی مراعات دینے پرکوئی اعتراض نہیں لیکن جوافسران وزیراعظم ہاؤس یاایوان صدرمیںبراجمان ہیں اوروہ دہری تنخواہیں وصول کررہے ہیں، انکاکوئی جوازنہیں بنتا۔کمیٹی کو بتایاگیاکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ 5 لاکھ 37ہزار865روپے اور سپیریئر جوڈیشل الانس 2لاکھ 35 ہزار463 روپے ہے، اسی طرح سپریم کورٹ کے افسران ایک تنخواہ کیساتھ 3 تنخواہیں اورالاؤنسزلیتے ہیں۔
نیشنل ہائی وے اورموٹروے پولیس کے افسران کوتنخواہ کیساتھ ہرمہینے 20 دن کاٹی اے ڈی اے دے دیاجاتاہے،چاہے وہ سفرکریں یانہ کریں۔دریں اثنا قومی اسمبلی کے2روزباقی رہ گئے لیکن الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق بل کوتاحال قومی اسمبلی میں پیش نہیںکیاجاسکا۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق اگرضابطہ اخلاق کوقانونی تحفظ نہ دیاگیاتو کمیشن خودضابطہ اخلاق لاگوکرنیکااعلان کریگا۔
بل سینیٹ میں پیش کیا گیا لیکن تاحال قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیاجاسکا۔اس حوالے سے خصوصی کمیٹی کے رکن اور ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل (ر) طاہر مشہدی نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی پارلیمنٹ سے توثیق نہ کرائی گئی تو اس کی قانونی حیثیت پر ایک سوالیہ نشان ہو گا۔ بڑی محنت سے یہ بل تیارکیاگیا تھا،سمجھ نہیں آتی اسے قومی اسمبلی میں کیوں نہیں پیش کیاگیا۔ناکامی کی ذمے د ارپیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن ہونگی۔