نامزدگی فارموں پر سندھ کے رکن کا اعتراض مسترد فخر الدین کی وزیر قانون کے ساتھ ملاقات سے معذرت
صدرکی منظوری لازمی ہے، روشن عیسانی کادستخط سے انکار،انتخابات نئے کاغذات نامزدگی فارم کے مطابق ہی ہوں گے،الیکشن کمیشن
شیڈول کااعلان 17یا18مارچ کوہوگا،اشتیاق احمد،فنڈزروکے تونگراںحکومت سے لینگے،کیانی، فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، شہزاد اکبر فوٹو: ایکسپریس/فائل
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اگر صدرمملکت نے کاغذات نامزدگی فارم کاترمیمی مسودہ منظور نہ بھی کیاتب بھی الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر قائم رہے گااورانتخابات نئے کاغذات نامزدگی فارم کے مطابق ہی ہوں گے۔
اس حوالے سے اگر کوئی عدالت جانا چاہے توچلا جائے، عدالت جو بھی فیصلہ دیگی اسے تسلیم کیا جائے گا۔ دوسری جانب کمیشن کے سندھ سے رکن نے نئے نامزدگی فارم کی صدرسے منظوری لیے بغیرچھپائی سے اختلاف کرتے ہوئے اس پردستخط سے انکارکر دیاہے۔الیکشن کمیشن کے رکن شہزاد اکبر نے منگل کوصحا فیوںسے گفتگوکر تے ہو ئے کہاکہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ کرنا تھاکردیا،اب اس سے کسی طور بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ نئے انتخابی کاغذات نامزدگی کے بارے میں فیصلہ پر الیکشن کمیشن کے سندھ کے رکن نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اجتماعی فیصلے پر دستخط نہیں کیے۔سندھ کے رکن روشن عیسانی کاموقف ہے کہ نئے انتخابی فارموں کی چھپائی کیلیے صدر کی منظوری حاصل کرنالازمی تھی۔ ادھرنئے کاغذات نامزدگی کامسودہ پرنٹنگ کارپوریشن کومل گیاہے جہاں اس کی چھپائی کاعمل شروع کردیاگیا ہے۔ فارم کی کمپوزنگ کے بعدپروف ریڈنگ کامرحلہ جاری ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر قانون نے کاغذات نامزدگی کے تنازعے پر مذاکرات کیلیے الیکشن کمیشن سے خط کے ذریعے رابطہ کیا اور ملاقات کیلیے وقت مانگا لیکن الیکشن کمیشن نے ملاقات سے معذرت کرلی ۔ الیکشن کمیشن نے خط کے جواب میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم بیمارہیں، ملاقات نہیں کرسکتے۔ آن لائن کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے نئی انتخابی اصلاحات پرمشتمل آرڈیننس کی تیاری شروع کردی ہے۔
جسے نگراں حکومت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے رکن جسٹس( ر) ریاض کیانی نے میڈیاکو بتایا کہ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری نہیں کیے اور یہی لگ رہا ہے کہ وہ آگے بھی جاری نہیں کریگی یہ فنڈز بھی ہم نگراں حکومت سے لیں گے۔الیکشن کمیشن کے ڈی جی ایڈمن امتیاز عالم ،پنجاب سے ایس ایم طارق قادری،سندھ سے محبوب انور،پختونخوا سے سانوخان بلوچ جبکہ بلوچستان سے سید سلطان بازیدکاتقررکیاگیاہے۔
اس حوالے سے اگر کوئی عدالت جانا چاہے توچلا جائے، عدالت جو بھی فیصلہ دیگی اسے تسلیم کیا جائے گا۔ دوسری جانب کمیشن کے سندھ سے رکن نے نئے نامزدگی فارم کی صدرسے منظوری لیے بغیرچھپائی سے اختلاف کرتے ہوئے اس پردستخط سے انکارکر دیاہے۔الیکشن کمیشن کے رکن شہزاد اکبر نے منگل کوصحا فیوںسے گفتگوکر تے ہو ئے کہاکہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ کرنا تھاکردیا،اب اس سے کسی طور بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ نئے انتخابی کاغذات نامزدگی کے بارے میں فیصلہ پر الیکشن کمیشن کے سندھ کے رکن نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اجتماعی فیصلے پر دستخط نہیں کیے۔سندھ کے رکن روشن عیسانی کاموقف ہے کہ نئے انتخابی فارموں کی چھپائی کیلیے صدر کی منظوری حاصل کرنالازمی تھی۔ ادھرنئے کاغذات نامزدگی کامسودہ پرنٹنگ کارپوریشن کومل گیاہے جہاں اس کی چھپائی کاعمل شروع کردیاگیا ہے۔ فارم کی کمپوزنگ کے بعدپروف ریڈنگ کامرحلہ جاری ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر قانون نے کاغذات نامزدگی کے تنازعے پر مذاکرات کیلیے الیکشن کمیشن سے خط کے ذریعے رابطہ کیا اور ملاقات کیلیے وقت مانگا لیکن الیکشن کمیشن نے ملاقات سے معذرت کرلی ۔ الیکشن کمیشن نے خط کے جواب میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم بیمارہیں، ملاقات نہیں کرسکتے۔ آن لائن کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے نئی انتخابی اصلاحات پرمشتمل آرڈیننس کی تیاری شروع کردی ہے۔
جسے نگراں حکومت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے رکن جسٹس( ر) ریاض کیانی نے میڈیاکو بتایا کہ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری نہیں کیے اور یہی لگ رہا ہے کہ وہ آگے بھی جاری نہیں کریگی یہ فنڈز بھی ہم نگراں حکومت سے لیں گے۔الیکشن کمیشن کے ڈی جی ایڈمن امتیاز عالم ،پنجاب سے ایس ایم طارق قادری،سندھ سے محبوب انور،پختونخوا سے سانوخان بلوچ جبکہ بلوچستان سے سید سلطان بازیدکاتقررکیاگیاہے۔