رشوت کو قانونی حیثیت دینے کی طنزیہ تجویز
پارلیمنٹ اور عدلیہ مصمم ارادہ کرلیں تو رشوت کا ناسور ختم نہیں تو انتہائی کم ضرور ہوجائے گا
کرپشن اور رشوت ملکی نظام میں اس قدر گہری جڑیں پکڑ چکی ہیں کہ وہ نظام کا ایک حصہ معلوم ہوتی ہیں، فوٹو: فائل
کرپشن اور رشوت ملکی نظام میں سرائیت کرتے ہوئے اس قدر گہری جڑیں پکڑ چکی ہیں کہ وہ ملکی نظام کا ایک باقاعدہ اور ناگزیر حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان دونوں ناسور کے خلاف حکومتی' سیاسی اور عدالتی سطح پر وقفہ وقفہ سے آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں' کہیں حکومت اس کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ کرتی ہے تو کہیں اپوزیشن اس کا خاتمہ اپنے منشور کا حصہ بنا کر احتجاجی رنگ لیے ہوئے ہے۔
معزز جج صاحبان رشوت کے خلاف آواز اٹھا کر اس کے خاتمے کے لیے حکومت کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں مگر حیرت انگیز امر ہے کہ رشوت اور کرپشن کے خلاف جتنا احتجاج کیا جاتا ہے' یہ ناسور اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ رشوت دیتے ہوئے پکڑا گیا اور رشوت دے کر چھوٹ گیا، کا محاورہ عام ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے رشوت لینے کے الزام میں ملوث ایک پٹواری کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے طنزیہ یہ تجویز پیش کی کہ کرپشن ختم نہیں کرسکتے تو قانونی تحفظ لے کر حکومت' افسران اور اہلکار اپنے اپنے حصے مقرر کرا لیں۔ معزز جج کے یہ ریمارکس دکھ اور بے بسی کا اظہار ہیں جو ہمارے حکمرانوں اور سرکاری عمال کی ناقص کارکردگی پر مہر ثبت کرتے ہیں کہ رشوت اس قدر طاقتور اور لازم و ملزوم ہو چکی ہے کہ اسے ختم کرنا ناممکنات میں شمار ہونے لگا ہے اور اگر اسے دیمک زدہ ملکی نظام سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو سارا نظام ہی زمین بوس ہو جائے گا، جب رشوت ختم نہیں ہو سکتی تو بہتر ہے کہ اسے قانونی حیثیت ہی دے دی جائے تاکہ کسی کو اس کے بارے میں ابہام نہ رہے۔
صورت حال یہ ہے کہ تھانے' کچہریاں اور عدالتیں اور دیگر سرکاری محکمے رشوت اور کرپشن کی دلدل میں اس قدر لتھڑ چکے ہیں کہ جائز کام کا بھی رشوت کے بغیر ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، ان ملکی اداروں میں جا بجا منشی اور بروکر دکھائی دیتے ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر رشوت لے کر سائل کی ''خدمت'' کرتے ہیں۔
بیانات تو سبھی دے دیتے ہیں مگر کرپشن اور رشوت کے خاتمے کے لیے کوئی بھی جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلابی قدم نہیں اٹھاتا۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ ملک کے طاقتور ادارے ہیں اگر یہ رشوت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مصمم ارادہ کر لیں اور ذمے داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں تو امید ہے کہ یہ ناسور ختم تو شاید نہ ہو مگر کم ضرور ہو جائے گا ۔
معزز جج صاحبان رشوت کے خلاف آواز اٹھا کر اس کے خاتمے کے لیے حکومت کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں مگر حیرت انگیز امر ہے کہ رشوت اور کرپشن کے خلاف جتنا احتجاج کیا جاتا ہے' یہ ناسور اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ رشوت دیتے ہوئے پکڑا گیا اور رشوت دے کر چھوٹ گیا، کا محاورہ عام ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے رشوت لینے کے الزام میں ملوث ایک پٹواری کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے طنزیہ یہ تجویز پیش کی کہ کرپشن ختم نہیں کرسکتے تو قانونی تحفظ لے کر حکومت' افسران اور اہلکار اپنے اپنے حصے مقرر کرا لیں۔ معزز جج کے یہ ریمارکس دکھ اور بے بسی کا اظہار ہیں جو ہمارے حکمرانوں اور سرکاری عمال کی ناقص کارکردگی پر مہر ثبت کرتے ہیں کہ رشوت اس قدر طاقتور اور لازم و ملزوم ہو چکی ہے کہ اسے ختم کرنا ناممکنات میں شمار ہونے لگا ہے اور اگر اسے دیمک زدہ ملکی نظام سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو سارا نظام ہی زمین بوس ہو جائے گا، جب رشوت ختم نہیں ہو سکتی تو بہتر ہے کہ اسے قانونی حیثیت ہی دے دی جائے تاکہ کسی کو اس کے بارے میں ابہام نہ رہے۔
صورت حال یہ ہے کہ تھانے' کچہریاں اور عدالتیں اور دیگر سرکاری محکمے رشوت اور کرپشن کی دلدل میں اس قدر لتھڑ چکے ہیں کہ جائز کام کا بھی رشوت کے بغیر ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، ان ملکی اداروں میں جا بجا منشی اور بروکر دکھائی دیتے ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر رشوت لے کر سائل کی ''خدمت'' کرتے ہیں۔
بیانات تو سبھی دے دیتے ہیں مگر کرپشن اور رشوت کے خاتمے کے لیے کوئی بھی جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلابی قدم نہیں اٹھاتا۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ ملک کے طاقتور ادارے ہیں اگر یہ رشوت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مصمم ارادہ کر لیں اور ذمے داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں تو امید ہے کہ یہ ناسور ختم تو شاید نہ ہو مگر کم ضرور ہو جائے گا ۔