کان کا بہنا دماغ کے امراض و دیگر پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے مقررین
ملک کی 18 فیصد آبادی کان کے مختلف امراض کا شکار ہے، پروفیسر اقبال اے خیانی
امراض غیرمتوازن غذا، صفائی نہ ہونے اور سردی کے موسم میں خاص طور پر بچوں میں احتیاط نہ کرنے کے باعث ہوتے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پروفیسرڈاکٹر اقبال اے محمد خیانی نے کہا ہے کہ کان کا بہنا دماغ کے امراض ودیگر پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے جس کے نتیجے میں معذوری یا موت واقع ہو سکتی ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی میں دسویں ینڈز آن ٹیمپورل بون ورکشاپ اینڈ ایئر سرجری کورس کے آخری دن کورس کے ڈائریکٹر پروفیسر اقبال اے خیانی نے کہا کہ پاکستان میں کان کے مختلف امراض کے شکار افراد آبادی کا 18فیصد ہیں اور جسم کا یہ عضو اپنی مخصوص بناوٹ کے لحاظ سے اس قدر نازک اور پیچیدہ ہے کہ سرجری نہایت مشکل ہے، بعض امراض کا علاج سرجری کے بغیر ممکن ہی نہیں، پاکستان میں سول اسپتال کراچی میں روزانہ غریب لوگوں کے کان کے آپریشن ہو رہے ہیں، پاکستان میں یہ سہولت ملک کے کسی اور علاقے میں دستیاب نہیں،
ستائیسویں قومی ای این ٹی کانفرنس سے پہلے پاکستان بھر سے آئے ڈاکٹرز کیلیے عملی تربیت کا انتظام ڈاؤ میڈیکل کالج کے اناٹمی ڈائی سیکشن ہال میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔
پروفیسرڈاکٹر اقبال اے محمد خیانی نے مزید بتایا کہ کان کا بہنا دماغ کے امراض ودیگر پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے جس کے نتیجے میں معذوری یا موت واقع ہو سکتی ہے۔ کان کا آپریشن انتہائی نازک ہے، اس کے قریب گزرنے والی شہ رگ یا کوئی دوسری شریا ن کو نادانستہ نقصان پہنچ جائے تو عمر بھر کی معذوری یا موت کی صورت میں نکل سکتا ہے،کان کے امراض غیر متوازن غذا، صفائی نہ ہونے اور سردی کے موسم میں خاص طور پر بچوں میں احتیاط نہ کرنے کے باعث ہوتے ہیں، اس لیے بچوں کو عام نزلے یا ناک بہنے کی صورت میں بہت احتیاط کرائی جائے کیونکہ ناک بہنے کا مرض بڑھ کر کا ن بہنے کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے۔
اس ورک شاپ میں پروفیسر محمد سعید قریشی ڈاؤ یونورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز، پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع وائس چانلسر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد وگن، پروفیسر سید اقبال حسین (پی این ایس شفاء)، پروفیسر کلیم اللہ تھہیم (سرسید میڈیکل کالج) پروفیسر سید سعود حسین، پروفیسر سکندر عادل مغل سمیت ای این ٹی کے دیگر سینئر پروفیسر نے شرکت کی۔
پروفیسر اقبال خیانی نے مزید بتایا کہ اس طرح کی ورک شاپ ای این ٹی کے ڈاکٹرز کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے جو عام طور پر ملک کے باہر ہی کرائی جاتی ہے جوکہ خاصی مہنگی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ڈاکٹر اس سے محروم رہ جاتے ہیں، اس ورکشاپ میں زیر تربیت شرکا نے مقامی ماسٹر ٹرینر پروفیسر شکیل آر سعید پروفیسر اوٹولوجی، نیرواوٹولوجی یونورسٹی آف لندن کے زیر تربیت رہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی میں دسویں ینڈز آن ٹیمپورل بون ورکشاپ اینڈ ایئر سرجری کورس کے آخری دن کورس کے ڈائریکٹر پروفیسر اقبال اے خیانی نے کہا کہ پاکستان میں کان کے مختلف امراض کے شکار افراد آبادی کا 18فیصد ہیں اور جسم کا یہ عضو اپنی مخصوص بناوٹ کے لحاظ سے اس قدر نازک اور پیچیدہ ہے کہ سرجری نہایت مشکل ہے، بعض امراض کا علاج سرجری کے بغیر ممکن ہی نہیں، پاکستان میں سول اسپتال کراچی میں روزانہ غریب لوگوں کے کان کے آپریشن ہو رہے ہیں، پاکستان میں یہ سہولت ملک کے کسی اور علاقے میں دستیاب نہیں،
ستائیسویں قومی ای این ٹی کانفرنس سے پہلے پاکستان بھر سے آئے ڈاکٹرز کیلیے عملی تربیت کا انتظام ڈاؤ میڈیکل کالج کے اناٹمی ڈائی سیکشن ہال میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔
پروفیسرڈاکٹر اقبال اے محمد خیانی نے مزید بتایا کہ کان کا بہنا دماغ کے امراض ودیگر پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے جس کے نتیجے میں معذوری یا موت واقع ہو سکتی ہے۔ کان کا آپریشن انتہائی نازک ہے، اس کے قریب گزرنے والی شہ رگ یا کوئی دوسری شریا ن کو نادانستہ نقصان پہنچ جائے تو عمر بھر کی معذوری یا موت کی صورت میں نکل سکتا ہے،کان کے امراض غیر متوازن غذا، صفائی نہ ہونے اور سردی کے موسم میں خاص طور پر بچوں میں احتیاط نہ کرنے کے باعث ہوتے ہیں، اس لیے بچوں کو عام نزلے یا ناک بہنے کی صورت میں بہت احتیاط کرائی جائے کیونکہ ناک بہنے کا مرض بڑھ کر کا ن بہنے کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے۔
اس ورک شاپ میں پروفیسر محمد سعید قریشی ڈاؤ یونورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز، پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع وائس چانلسر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد وگن، پروفیسر سید اقبال حسین (پی این ایس شفاء)، پروفیسر کلیم اللہ تھہیم (سرسید میڈیکل کالج) پروفیسر سید سعود حسین، پروفیسر سکندر عادل مغل سمیت ای این ٹی کے دیگر سینئر پروفیسر نے شرکت کی۔
پروفیسر اقبال خیانی نے مزید بتایا کہ اس طرح کی ورک شاپ ای این ٹی کے ڈاکٹرز کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے جو عام طور پر ملک کے باہر ہی کرائی جاتی ہے جوکہ خاصی مہنگی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ڈاکٹر اس سے محروم رہ جاتے ہیں، اس ورکشاپ میں زیر تربیت شرکا نے مقامی ماسٹر ٹرینر پروفیسر شکیل آر سعید پروفیسر اوٹولوجی، نیرواوٹولوجی یونورسٹی آف لندن کے زیر تربیت رہے۔