اولمپکس شرمناک کارکردگی پر آسٹریلیا تحقیقات کرائے گا

تیراکوں کے ناقص کھیل نے قوم کی امیدیں خاک میں ملادیں،فنڈز میںکٹوتی ذمہ دار قرار

تیراکوں کے ناقص کھیل نے قوم کی امیدیں خاک میں ملادیں،فنڈز میںکٹوتی ذمہ دار قرار، فوٹو فائل

ISLAMABAD:
لندن اولمپکس میں شرمناک کارکردگی پر آسٹریلیا تحقیقات کرائے گا، تیراکوں کی ناقص ترین کارکردگی نے قوم کی امیدیں خاک میں ملادیں،گولڈ میڈلز میں ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ بھی بازی لے گیا، کینگروز کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار فنڈز کٹوتی کو ٹھہرایا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ایتھلیٹس 1988 کے سیئول گیمز کے بعد ناقص ترین پرفارمنس کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

نویں دن کے اختتام تک اس نے صرف 2سونے کے تمغے جیتے اور میڈلز ٹیبل پر 24 ویں نمبر پر تھا،اس کا ایک چھوٹا ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ 3 گولڈ میڈل اپنے نام کرچکا اور آسٹریلوی شائقین کیلیے سب سے زیادہ غصے کا سبب یہ ہے کہ ان کا کھیلوں میں روایتی حریف ملک برطانیہ 18 سونے کے تمغے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو چکا۔ آسٹریلوی سوئمرز نے خاص طور پر اپنی قوم کومایوس کیا جن سے کافی امیدیں وابستہ کی جارہی تھیں ۔


انھوں نے پولز میں سونے کا ایک، چاندی کے 6 اور کانسی کے 3 تمغے حاصل کیے جو1992 کے بارسلونا اولمپکس کے بعد سوئمنگ میں مایوس کن پرفارمنس ہے،1976 کے بعد پہلی مرتبہ ان کا کوئی بھی تیراک انفرادی گولڈ میڈل نہیں جیت سکا۔ آسٹریلوی سوئمنگ فیڈریشن کے صدر ڈیوڈ ارک ہارٹ کا کہنا ہے کہ لندن گیمز میں خراب ترین کارکردگی کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔

دوسری جانب انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی میں آسٹریلیا کے سینئر ترین ممبر کیوین گوسپر کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت نے کھیلوں کے فروغ کیلیے فنڈز میں کمی کردی ، یورپی ممالک کی بانسبت بہت کم بجٹ کھیلوں پر صرف کیا جارہا ہے، آپ کو انٹرنیشنل مقابلوں کیلیے تیاری اور ان میں حصہ لینے کیلیے زیادہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔
Load Next Story