عامر سہیل نے ڈومیسٹک کرکٹ کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیدیا

سسٹم سے ہرسال چھیڑچھاڑجاری ہے، بورڈ کی کوئی سمت متعین نہیں،سابق کپتان

حتمی شیڈول کاکچھ پتہ نہیں ہوتا، نیا بیٹنگ ٹیلنٹ نہ آنے کی بڑی وجہ ناقص پچز ہیں، سابق کپتان۔ فوٹو: فائل

سابق قومی کپتان عامر سہیل نے ڈومیسٹک کرکٹ کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹم کے ساتھ ہر سال چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری ہے جب کہ بورڈ کی کوئی سمت متعین نہیں۔

غیرملکی ویب سائٹ کیلیے بلاگ میں عامر سہیل نے تحریر کیاکہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ تباہی سے دوچار نظر آتی ہے، کھیل کی یہ نرسری مسلسل پامال ہونے لگی، ہر سال سسٹم میں تبدیلی کردی جاتی اور محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ کو اندازہ ہی نہیں کہ کس سمت میں جانا ہے،ڈومیسٹک اسٹرکچر درست نہ ہونے کی وجہ سے باصلاحیت کرکٹرز تلاش کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 4،5سال سے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے تو دوسری طرف سال بھر سیزن کے شیڈول کا ہی کچھ پتہ نہیں ہوتا، کرکٹرز ملکی سطح کے مقابلوں کا کوئی حتمی پلان جاری نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی لیگز کیلیے معاہدے کر لیتے ہیں، بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں، کیریبیئن لیگ سے کھلاڑیوں کو واپس بلایا جانا اور اس کے باوجود قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا نہ ہونا ناقص پلاننگ کی ایک مثال ہے۔


عامر سہیل نے کہا کہ ایک سال قبل ہی ڈومیسٹک کرکٹ کا شیڈول طے کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بھی آگاہ کر دیا جائے تو سب کو اندازہ ہو گا کہ وہ کس لیگ میں شرکت کیلیے جا سکتے ہیں اور کس موقع پر ڈومیسٹک کرکٹ کو ترجیح دینا ضروری ہے،قومی ایونٹ ادھورے چھوڑ کر جانے جیسے مسائل ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں نیا بیٹنگ ٹیلنٹ سامنے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ناقص پچز بھی ہیں، لمبی اننگز کھیلنے کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والے بیٹسمین میسر نہیں آ رہے، ہمارے دور میں ہر شہر کی پچ کا ایک الگ مزاج ہوتا تھا، لاہور سلو، کراچی ٹرننگ، پنڈی گھاس اور گوجرانوالہ پیس والی پچ کی وجہ سے مشہور تھا، کھلاڑیوں کو مختلف کنڈیشنز میں پرفارم کرنے کی اچھی پریکٹس ملتی لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تکنیکی طور پر مضبوط کھلاڑیوں کا انتخاب نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کے اوپننگ میں مسائل ختم نہیں ہوتے، توفیق عمر اچھی دریافت تھے لیکن سلیکٹرز نے انھیں ضائع کر دیا۔
Load Next Story