سندھ ہائیکورٹ کا نیب کو جے ایس انوسٹمنٹ کیخلاف تحقیقات کا حکم

تحقیقات سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں ہوگی،این آئی سی ایل کو25کروڑکانقصان پہنچایا

 نیب نے کمپنی کے ڈائریکٹرز علی رضا صدیقی، منورصدیقی اور نجم علی کیخلاف اہم شواہد حاصل کرلیے۔ فوٹو: فائل

MOSCOW:
سندھ ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو(نیب) کو جہانگیر صدیقی(جے ایس) انوسٹمنٹ کی جانب سے نیشنل انوسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کو پہنچائے جانے والے مالی نقصان کے معاملے پر سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

این آئی سی ایل کی جانب سے فنانس ڈویڑن کی واضح ہدایات کے برعکس20 کروڑ روپے کے بجائے جہانگیر صدیقی گروپ کی کمپنی میں2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں سرمایہ کاری کے دوران پائے جانے والی سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی جن میں جے ایس میوچیئل فنڈ کی جانب سے چارج کیے جانے والے 5 فیصد ایکسز بیک اینڈ لوڈ اور فنانس ڈویڑن کی ہدایات کی واضح خلاف ورزیاں شامل تھیں۔

نیب کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیے جانے کے بعد جے ایس انویسمنٹ نے عدالت میں انکوائری کے خلاف درخواست دائر کی، جے ایس انویسمنٹ کی درخواست میں ایف آئی اے، نیب اور ایس ای سی پی کو فریق بنایا گیا تھا اور انھوں نے تحقیقات کے خلاف حکم امتناع حاصل کرلیا، دو سال قبل ایف آئی اے کی جانب سے انسپکٹر گل شیر مغیری نے عدالت میں تحریری بیان دیا کہ جے ایس انویسمنٹ کے خلاف شواہد حاصل نہیں ہوسکے ہیں اس لیے مجاز اتھارٹی کی جانب سے تحقیقات کوکلوز(بند) کیا جاچکا ہے۔


اسی دوران عدالت کو ایک اور فریق کی جانب سے ایف آئی اے کی اصل تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں جے ایس انوسٹمنٹ کے ڈائریکٹرز علی رضا صدیقی، منور صدیقی اور نجم علی کو این آئی سی ایل کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے دیے جانے والے حکم نامے میں ہدایت کی گئی تھی کہ نیب 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے معاملے کی تحقیقات کرے اور درخواست گزار(جے ایس انویسمنٹ) تحقیقات میں نیب سے مکمل تعاون کریں تاہم نیب جے ایس انوسٹمنٹ کے کسی ذمے دار کو طلب نہیں کرسکتی تاہم اگر تحقیقات کے دوران نیب کو مالی اسکینڈل میں جے ایس انویسمنٹ کے ملوث ہونے اور ریفرنس دائر کرنے کیلیے کافی شواہد جمع ہوجاتے ہیں تو وہ عدالت سے تحقیقات یا انویسٹی گیشن کیلیے رجوع کرے، جس کے بعد نیب نے ایک بار تحقیقات کا آغاز کیا اور رواں سال ستمبر میں مالی اسکینڈل میں جے ایس انوسٹمنٹ کے ڈائریکٹرز علی رضا صدیقی، منورصدیقی اور نجم علی کے ملوث ہونے کے اہم شواہد حاصل کرکے سندھ ہائیکورٹ سے جے ایس انویسمنٹ کے خلاف باقاعدہ انویسٹی گیشن شروع کرنے کیلیے رجوع کیا۔

نیب نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جے ایس انوسٹمنٹ نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا اور نیب کو درکار ریکارڈ اور دستاویزات فراہم کرنے سے انکارکردیا گیا۔

نیب نے موقف اختیار کیا کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ قومی خزانے کو پہنچائے والے نقصان سے جو فریق مستفید ہوئے ان میں جے ایس انوسٹمنٹ بھی شامل ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر جامع اور مکمل تحقیقات کی جاسکیں، 5 دسمبر 2017 کو نیب، جے ایس انوسٹمنٹ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایک اور فریق کا موقف سننے کے بعد عدالت نے نیب کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالی اسکینڈل میں جے ایس انوسٹمنٹ کے ملوث کی ہونے کے معاملے کی باقاعدہ انویسٹی گیشن سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں کرے اور نیب کو اس سلسلے میں عدالت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
Load Next Story