ہمارا یہ الیکشن کمیشن

یہ حکومت بدستور جاری ہے لیکن جاتے جاتے کرپشن کے تماشے کر رہی ہے.

Abdulqhasan@hotmail.com

ہمارے سینیٹ میں ارکان نے اپنی تقریروں میں کہا کہ اگر عوام جعلی ڈگری والے نمایندے چاہتے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے۔ کمیشن تو ایسی ایسی پابندیاں لگانا چاہتا ہے کہ کوئی الیکشن لڑنے کے قابل ہی نہ رہے۔ بھارت کی پھولن دیوی ڈاکو تھی لیکن وہ پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہو گئی۔ یہ غالباً پہلی بار ہے اور پاکستان جیسے ملکوں میں ہی ہو سکتا ہے کہ الیکشن کا امیدوار کوئی بھی ہو خواہ وہ کل کی ڈاکو پھولن دیوی ہی کیوں نہ ہو اسے الیکشن لڑنے کا حق ہے لیکن ہمارا الیکشن کمیشن ایسے تمام لوگوں کو الیکشن سے دور رکھنا چاہتا ہے چنانچہ ہمارے سینیٹ کے کئی ارکان نے اس پر کمیشن کی مذمت کی ہے۔

حکومت چونکہ ان اراکین اسمبلی اور ان کے ہمنوائوں کے پاس ہوا کرتی ہے اس لیے ان جرائم پیشہ خواتین و حضرات سے کوئی باز پرس نہیں کرتا۔ یہی بنیادی وجہ ہے اس قومی سطح پر پھیلی ہوئی کرپشن کی جس کی سرپرستی کرنے بلکہ اس میں حصہ لینے والے تو بہت ہیں مگر اس کو روکنے اور ختم کرنے والا کوئی نہیں اور اب تو اس میں وکلاء بھی شامل ہیں، علماء بھی شامل ہیں ہم صحافی بھی شامل ہیں خاکی اور سفید وردیوں میں ملبوس افسر بھی شامل ہیں اور حسب توفیق عوام الناس بھی۔

اگر ان میں سے کسی کو ایسا موقع مل جائے تب اور ظاہر ہے کہ سیاستدان ان طبقوں میں سرفہرست ہیں کیونکہ جس کے پاس جتنا اقتدار اور اختیار زیادہ ہو گا وہ اتنا ہی کرپٹ ہو گا۔ انھی سیاستدانوں پر کچھ پابندی لگانے کے شوق فضول میں اس قوم کے عام لوگ مصروف ہیں اور ان کے خیال میں وہ الیکشن میں غلط لوگوں کو ووٹ نہیں دیں گے اور اس طرح ان پر پابندیاں لگیں گی۔ یہ قوم کوئی ایسا خوبصورت وقت دیکھے گی یا نہیں لیکن زندگی کے لیے ایسے فریب بہت ضروری ہوتے ہیں۔

خاکم بدہن والی بات ہے کہ اگر الیکشن نہیں ہوتے تو پھر چیف الیکشن کمشنر کے الفاظ میں یہ ملک بھی نہیں رہتا اور اسی قلبی اور ذہنی کیفیت میں الیکشن کی تیاری ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی ذمے داریاں بھی جانتا ہے اور قوم سے بھی غافل نہیں ہے اس لیے ملک کے وہ تمام لوگ اس کے خلاف ہیں جو عام اخلاقیات پر بھی پورے نہیں اترتے مثلاً چور اچکا نہ ہونا۔ ایک چوری تو وہ ہوتی ہے جو کوئی جیب کترا کرتا ہے اور ایک چوری وہ ہوتی ہے جو قومی سرمایہ چرا کر کی جاتی ہے اگر آپ چوروں ڈاکوئوں کو اسمبلی میں بھیج کر ان کو وزیر وغیرہ بنا دیتے ہیں تو پھر رونا دھونا کیسا۔


یہ حکومت بدستور جاری ہے لیکن جاتے جاتے کرپشن کے تماشے کر رہی ہے ایران سے گیس بھی سنا ہے ڈبل قیمت پر لی جا رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب جاتے جاتے جاگیریں بھی بخش رہے ہیں جنھیں آج کے دور میں پلاٹ کہا جاتا ہے اور جن بااثر لوگوں کے نفع بخش کام رکے ہوئے تھے وہ بھاگتے چور کی لنگوٹی کی اونی پونی قیمت دے کر اسے خرید رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں عوامی پارٹی نے عوام کو جس بے دردی اور بے خوفی کے ساتھ لوٹا ہے اس کی مثالیں اب سرکاری دفتروں کی فائلوں میں نہیں برسرعام نظر آتی ہیں۔

ریلوے بند ہے، پی آئی اے بھی بس ہے ہی، بجلی گیس نہیں ہے، روزی روز گار ختم ہے صنعت کار اپنی صنعتی مشینری اکھاڑ کر بھاگے جا رہے ہیں اور زراعت اگر بارش ہے تو ہے ورنہ ڈیزل نہیں کہ ٹیوب ویل چلایا جا سکے۔ یہ سب دیکھ کر اگر عوام یہ توقع کر رہے ہیں کہ الیکشن میں وہ اچھے لوگ لے آئیں گے تو ڈر بھی رہے ہیں کہ اگر الیکشن میں گڑ بڑ ہو گئی تو الیکشن سے محروم پاکستان کی کیا صورت برآمد ہو گی کیونکہ کوئی لیڈر ایسا نہیں جس پر قوم اعتماد کرے اور وہ اسے اس دھند میں سے نکال کر روشنی میں لے جائے۔

میں نے ایک سمجھدار رپورٹر سے پوچھا کہ الیکشن ہو رہے ہیں یا نہیں۔ اس نے جواب دیا کہ میں صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ دو بڑی جماعتیں الیکشن نہیں چاہتیں۔ تو پھر وہ کیا چاہتی ہیں میرے اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ ان دونوں بڑی پارٹیوں کو بھی اس کا پتہ نہیں ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ فوج امید کا ایک سہارا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم ایک طاقت ور دشمن کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں اور اس کے خلاف جنگیں بھی لڑتے رہے ہیں اور ایک اور جنگ اگر ہم باقی رہتے ہیں تو ناگزیر ہے وہ پانی کا مسئلہ ہے۔ علاوہ پیدائشی دشمنی کی اس مجبوری کے ملک کے اندر بھی ہم اپنی فوج سے بار بار مدد لیتے رہے ہیں اور زیادہ تر وہ خود ہی ہماری مدد کوآتی رہی ہے۔ ایک سابقہ فوجی حکمران ان دنوں پھر آس پاس منڈلا رہا ہے اسے پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت چین سے بیٹھنے نہیں دیتی اس نے تو پاکستانیوں کو بیچا بھی تھا۔

یہ بردہ فروش بھی پھر سے حکمرانی پر تیار ہے اب الیکشن کمیشن جب ایسے گدھوں کو پاکستان پر منڈلاتے ہوئے دیکھتا ہے تو امیدواروں کے لیے قانون سخت نہ بنائے تو کیا کرے۔ وہ سوائے سخت قوانین اور پابندیوں کے اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ جہاں تک ہماری فوج کا تعلق ہے وہ تو ان دنوں زیارتوں میں مصروف ہے شاید واپس آ گئی ہو۔ ہمارے پاس صرف الیکشن کمیشن رہ گیا ہے اور اس کی تائید میں سپریم کورٹ ہے لیکن یہ سب مولوی کے فتوے ہیں کوئی مانے یا نہ مانے۔ میں یہاں ان لوگوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اگر الیکشن میں کامیاب ہو گئے تو شاید ہمیں بچا لیں لیکن ہم وہ بددعائی ہوئی قوم ہیں جو دشمنوں کو دوست سمجھتی ہے بہرحال ایسے لوگوں کا ذکر جلد ہی ہو گا تاکہ ہم تو اپنی بے بس معروضات پیش کرتے رہیں۔
Load Next Story