زیرو ریٹنگ ریجیم کا خاتمہ کل ملک بھر میں صنعتیں بند کرنے کا اعلان

حکومت ٹیکس گزاروں پرمزید بوجھ ڈال کرکرپشن کی راہ ہموار کررہی ہے، چیئرمین ایف بی آرنے صرف غیردستاویزی سپلائزپر2 فیصد۔۔۔

متنازع ایس آر اوز 98 ،140 اور154واپس لیے جائیں، جاوید بلوانی، مہتاب الدین چاؤلہ، فواد اعجاز، زین بشیر و دیگر کی پریس کانفرنس، آج سے احتجاج شروع کرنے کا انتباہ۔ فوٹو: فائل

ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری نے زیرو ریٹنگ ریجیم سے جبری انخلا پر جمعہ 15 مارچ سے ملک بھرکی صنعتوں میں تالہ بندی کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے جبکہ جمعرات سے ابتدائی طور پر احتجاجی مظاہرے اوراحتجاجی بینرز آویزاں کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔

بدھ کو پی ایچ ایم اے ہائوس کراچی میں 5 زیروریٹڈ سیکٹرزبشمول ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے سربراہان ونمائندوں بشمول جاوید بلوانی، مہتاب الدین چائولہ، فواد اعجاز، زین بشیر،شاہدرشید ملک، کامران چاندنا، عامرحیدربٹ، جہانگیر انوار، شیخ شفیق رفیق، ذوالفقار علی چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف بی آر پر واضح کیا کہ آئندہ دوروز میں 3 متنازع ایس آراوز 98 ،140 اور 154 کو واپس نہ لیا گیا تو ہڑتال کی صورت میں پیدا ہونے والے بحران کی ذمے دار ایف بی آر پر عائد ہوگی، 5 زیروریٹڈ سیکٹرزبشمول ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے چیئرمینز نے ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کی استدعا منظور نہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت صرف حقیقی برآمد کنندگان پرٹیکسوں کا بوجھ بڑھاکرکرپشن کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں 28 فروری 2013 کو جاری ہونے والے ایس آر او 154(1)2013 کو واپس لینے اورایس آراو 1125/2011 میں ترمیم کر کے 5 زیرو ریٹڈ ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے رجسٹرڈ افراد پرسیلز ٹیکس کی شرح صفر کرنے اورغیررجسٹرڈ افرادپر 2 فیصد کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس پرچیئرمین ایف بی آر نے اتفاق کرتے ہوئے جلد ہی نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن افسوس اس امر پرہے کہ ایف بی آرکی بیوروکریسی کرپشن برقرار رکھنے کے لیے ریفنڈکا نظام برقرار رکھنا چاہتی ہے جن کے غلط مشوروں پر چیئرمین ایف بی آر اپنے وعدے سے مکرگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے متعلقہ سرکاری افسران سمجھتے ہیں کہ ریفنڈ پروسیس کے بغیر ان کی بقا خطرے میں پڑجائے گی۔




ایف بی آر کے اعلیٰ حکام رجسٹرڈ افراد کی حوصلہ شکنی کر کے ان کے ایماندار ٹیکس گزار ہونے کی سزا دینا چاہتے ہیں اور غیر رجسٹرڈ چور افراد کی حوصلہ افزائی کر کے کرپشن کو فروغ دینے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 مارچ کو ندیم افضل گوندل کی سر براہی میں قومی اسمبلی کی پبلک اکائنٹس کمیٹی نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ایف بی آر پر ایس آر او کے اجرا پر پابندی عائد کی، اجلاس میں ندیم افضل گوندل نے کہا کہ ٹیرف اور ڈیوٹیز وغیرہ میں تبدیلی صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے، ہم ایس آر او کلچر کے خلاف ہیں جو ٹیکس چوروں سے سودے بازی کے مترادف ہے۔

جاوید بلوانی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پانچ زیرو ریٹڈ ایکسپورٹ سیکٹرز کی برآمدات کو تباہ و برباد کرنا چاہتی ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایس آر او کے اجرا سے قبل ان اہم سیکٹرز اور بڑے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاتی لیکن ایف بی آر کے حکام نے حیرت انگیز طور پر ان افراد کو اعتماد میں لے کر ایس آراو جاری کردیا جو غیر رجسٹرڈ افراد کو اپنا مال فروخت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 60 ارب روپے مالیت کے سیلزٹیکس ریفنڈز، ڈی ایل ٹی ایل کلیمز اور کسٹم ری بیٹ روک کر برآمدی سیکٹرز کو مالی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے جبکہ یوٹیلٹیز کے غیر معمولی طور پر بلند نرخوں، بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار کرنے کی زیادہ لاگت اور امن و امان کی نا گفتہ بہ صورتحال نے پہلے ہی برآمدات پر منفی اثرات مرتب کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حریف ممالک سے مسابقت کے لیے مراعات اور ترغیبات فراہم کرنے کے بجائے حوصلہ شکن اقدامات کرکے برآمدکنندگان کی مشکلات بڑھارہی ہے، اگر حکومت برآمدات کی بقا اور برآمدی صنعتوں کو بربادہونے سے بچانے میں سنجیدہ ہے تو اسے فی الفور ایس آر او 1125 میں ترمیم اور ایس آر او 154 کو واپس لے لینا چاہیے۔
Load Next Story