حصص مارکیٹ جمود کا شکار56 فیصد شیئرپرائسزکم

سرمایہ کاروں کے2 ارب51 کروڑ12 لاکھ 65 ہزار833 روپے ڈوب گئے

سرمایہ کاروں کو2ارب51کروڑکانقصان،انڈیکس معمولی کمی سے14674پر بند فائل فوٹو

حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر محاذ آرائی، رواں ہفتے عدالت عالیہ کی جانب سے این آر او کیس کی سماعت پرممکنہ سخت فیصلہ صادر ہونے کے خدشات کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی آف لوڈنگ اور محتاط طرزعمل کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی اتارچڑھائو کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے 56 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے2 ارب51 کروڑ12 لاکھ 65 ہزار833 روپے ڈوب گئے،

ٹریڈنگ کے آغاز پر حکومت کی جانب سے قادر پورگیس فیلڈ کے وہیل ہیڈ پرائس بڑھنے کی خبر کے نتیجے میں ایک موقع پر 116.55 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی14700 کی حد بحال ہوگئی تھی لیکن سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال کی وجہ سے حصص کی آف لوڈنگ نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر30 لاکھ28 ہزار 315 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی


جبکہ مقامی کمپنیوں کی جانب سے12 لاکھ35 ہزار416 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے15 لاکھ30 ہزار891 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے2 لاکھ 62 ہزار7 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، مندی کی وجہ سے کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس2.66 پوائنٹس کی کمی سے 14673.77 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 21.33 پوائنٹس کی کمی سے 12629.37 اور کے ایم آئی30 انڈیکس74.14 پوائنٹس کی کمی سے 25440.81 ہوگیا،

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت20 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر5 کروڑ81 لاکھ17 ہزار970 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار265 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں99 کے بھائو میں اضافہ، 148 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا

ان میں رفحان میظ کے بھائو76 روپے بڑھ کر 3700 روپے اور اٹلس بیٹری کے بھائو 10.40 روپے بڑھ کر249.86 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور پاکستان کے بھائو 44.80 روپے کم ہوکر8400 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھائو15 روپے کم ہو کر 796 روپے ہوگئے۔
Load Next Story