4اہلکاروں کے قتل میں9ایم ایم پستول کا استعمال مقدمہ درج
مقتولین کے موبائل فونزکوجلد ڈیجیٹل لیبارٹری بھجوایا جائے گا، پولیس افسر.
پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کر لیے،جلد اصل ملزمان گرفتار ہوسکتے ہیں ۔ فوٹو: فائل
فائرنگ کے واقعات میں قتل کیے جانے والے نیب پولیس اہلکار اور سب انسپکٹر سمیت 4اہلکاروں کے قتل کے مقدمات دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرکے تفتیش شروع کردی گئیں۔
دونوں فائرنگ کے واقعات میں9 ایم ایم پستول استعمال کی گئیں، تفصیلات کے مطابق منگل کو ناظم آباد انو بھائی پارک کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے سب انسپکٹر عابد حسین اور دوران علاج دم توڑ جانے والے کانسٹیبل گلزار حسین کے قتل کا مقدمہ 54/2013 بذریعہ سرکار ناظم آبادتھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس افسر اور اہلکار کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATA اور دیگر دفعات 302 ،342/34 کے تحت ناظم آباد تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔
جبکہ دوسری جانب ڈیفنس کے علاقے ڈیفنس گارڈن میں فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے نیب اہلکار جاوید خان ولد شیرین خان اور مدد گار 15 بوٹ بیسن میں تعینات عمران خان ولد مشتاق احمد اعوان کے قتل کا مقدمہ 109/2013 مقتول عمران کے والد مشتاق اعوان کی مدعیت میں ڈیفنس تھانے میں درج کر لیا گیا ہے دونوں اہلکاروں کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATAاور دفعہ 302/34 کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
ناظم آباد کے انویسٹی گیشن افسر ذوالفقار نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوع سے پولیس کو 9 ایم ایم پستول کے 11خول ملے تھے جنھیں فارنسک ڈویژن میں جمع کرادیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تحقیقات میں پولیس افسر اور اہلکار کو کسی قسم کی دھمکی ملنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
ڈیفنس تھانے کے انویسٹی گیشن افسر محمد سلام نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کے موبائل فون بھی موجود ہیں جنھیں جلد ڈیجیٹل لیبارٹری بھجوایا جائے گا ، انھوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے وقوع سے تمام تر شواہد اکھٹے کرلیے گئے ہیں اور امید ہے پولیس شواہد کی روشنی میں جلد اصل ملزمان تک پہنچ جائے گی۔
دونوں فائرنگ کے واقعات میں9 ایم ایم پستول استعمال کی گئیں، تفصیلات کے مطابق منگل کو ناظم آباد انو بھائی پارک کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے سب انسپکٹر عابد حسین اور دوران علاج دم توڑ جانے والے کانسٹیبل گلزار حسین کے قتل کا مقدمہ 54/2013 بذریعہ سرکار ناظم آبادتھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس افسر اور اہلکار کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATA اور دیگر دفعات 302 ،342/34 کے تحت ناظم آباد تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔
جبکہ دوسری جانب ڈیفنس کے علاقے ڈیفنس گارڈن میں فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے نیب اہلکار جاوید خان ولد شیرین خان اور مدد گار 15 بوٹ بیسن میں تعینات عمران خان ولد مشتاق احمد اعوان کے قتل کا مقدمہ 109/2013 مقتول عمران کے والد مشتاق اعوان کی مدعیت میں ڈیفنس تھانے میں درج کر لیا گیا ہے دونوں اہلکاروں کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATAاور دفعہ 302/34 کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
ناظم آباد کے انویسٹی گیشن افسر ذوالفقار نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوع سے پولیس کو 9 ایم ایم پستول کے 11خول ملے تھے جنھیں فارنسک ڈویژن میں جمع کرادیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تحقیقات میں پولیس افسر اور اہلکار کو کسی قسم کی دھمکی ملنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
ڈیفنس تھانے کے انویسٹی گیشن افسر محمد سلام نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کے موبائل فون بھی موجود ہیں جنھیں جلد ڈیجیٹل لیبارٹری بھجوایا جائے گا ، انھوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے وقوع سے تمام تر شواہد اکھٹے کرلیے گئے ہیں اور امید ہے پولیس شواہد کی روشنی میں جلد اصل ملزمان تک پہنچ جائے گی۔