اہلکارگلزارکے بھائی کو بھی 6 سال قبل قتل کردیا گیاتھا

مقتول دو بیٹیوں کا باپ تھا اور گزشتہ 8 سال سے ناظم آباد تھانے میں تعینات تھا،بھائی

پولیس اہلکار گلزار حسین ۔ فوٹو : ایکسپریس

ناظم آباد کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے پولیس اہلکار گلزار حسین کے بھائی کو بھی 6 سال قبل اس کے چھوٹے بھائی کی شادی کے روز فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو ناظم آباد تھانے کے علاقے میں انو بھا ئی پارک کے قریب کھڑی ہوئی پولیس موبائل پر موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہوکر بدھ کی صبح دوران علاج عباسی شہید اسپتال میں دم توڑ جانے والے ناظم آباد پولیس لائن کوارٹرز نمبر K-5 کے رہائشی38 سالہ پولیس اہلکار گلزار حسین ولد امیر حسین کے بھائی توقیر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود محکمہ پولیس میں ہیں اور مقتول بھائی کے ساتھ ہی ناظم آباد تھانے میں تعینات تھے۔




انھوں نے بتایا کہ 6 سال قبل2007 میں مارچ کے مہینے میں ہی ان کے بڑے بھائی مظہر حسین کو ان کی اپنی شادی کے روز گولیمار چورنگی پر اے ٹی ایم مشین سے رقم نکلواکر واپس گھر آنے کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا اور مارچ میں ہی ان کے ایک اور بھائی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا،مقتول دو بیٹیوں کا باپ تھا اور گزشتہ 8 سال سے ناظم آباد تھانے میں تعینات میں تھا۔

ان کے بھائی گلزار حسین کو کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں ملی تھی اور نہ ہی ان کی کسی سے کوئی دشمنی تھی،مقتول پولیس اہلکار گلزار حسین کے 6 سال قبل قتل کیے جانے والے بھائی مظہر حسین کے بیٹے دانش نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ7 بہن بھائیوںمیں سب سے بڑے ہیں، والد سپر مارکیٹ تھانے میں تعینات تھے، 6 سال گزر چکے ہیں،محکمہ پولیس کی جانب سے اعلان کردہ معاوضہ نہیں ملا،اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ گلزار حسین اور مظہر حسین کے قتل کے واقعے میں ملوث ملزمان کوگرفتارکیا جائے۔
Load Next Story