شفاف انتخابات میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دینگے الیکشن کمیشن نا اہل اور بد عنوانوں کا راستہ روکے چیف جسٹس

تین چار روز بعد نگراں سیٹ اپ آ جائیگا، وفاق جواب نہیں دے رہا کہ انتخابات کیلیے کیا کر رہا ہے،عدالت،مہلت کی استدعامسترد

حکومت کوانتخابات کی نگرانی پراعتراض ہے،الیکشن کمیشن، انتخابی اصلاحات فیصلے پر عمل کیلیے کسی منظوری کی ضرورت نہیں، عدالت فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عام انتخابات سر پرہیں، اصلاحات میں تاخیر قومی مفاد میں نہیں،18کروڑ عوام کو شفاف اور ایماندارانہ الیکشن چاہئیں۔

شفاف انتخابات میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے، الیکشن کمیشن نااہل اور بدعنوان لوگوں کا راستہ روکے اوریقینی بنائے کہ انتخابات میں پیسے کاغلط استعمال نہ ہو،چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مقدمہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے عوامی نمائندگی قانون میں مجوزہ ترامیم پر حکومت سے واضح جواب طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے کہا جن ترامیم کا تعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے ہے اس کیلئے کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شفاف انتخابات میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے، سپریم کورٹ نے فیصلے میں جن اصلاحات کا کہا ہے اس کی پابندی سب پر لازمی ہے تاہم جن اصلاحات کیلئے قانون میں ترمیم ضروری ہے حکومت اس پر اپنا موقف واضح کر ے، اگر واضح جواب نہ آیا تو عدالت خود فیصلہ کرے گی۔

چیف جسٹس نے کہا انتخابات سر پر آگئے ہیں اور ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل نظر نہیں آرہا، ہر قسم کا ابہام دور ہونا چاہیے،آزادانہ،منصفانہ اور شفاف الیکشن آئین کا تقاضا ہے اور آئین کی کمانڈ پر عمل ہوکر رہے گا،اس بارے میں کسی کوکسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل منیر پراچہ نے عوامی نمائندگی قانون میں مجوزہ ترامیم کی رپورٹ پیش کی اور بتایا عدالت کے فیصلے پر عمل ہورہاہے، مجوزہ ترامیم میں ایک شق کے علاوہ حکومت کوکوئی اعتراض نہیں۔




عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایا انتخابی مہم کی نگرانی پر حکومت کو اعتراض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا اس پر تو اعتراض بالکل نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو آزادانہ اور شفاف الیکشن کیلئے انتظامات کرنے کا حکم عدالت نے دیا ہے،کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ نااہل اور بدعنوان لوگوںکا راستہ روکے اور یقینی بنائے کہ انتخابات میں پیسے کا غلط استعمال نہ ہو ۔چیف جسٹس نے کہا یہ طے ہے کہ ملک میں جمہوری نظام ہوگا اور حکومت منتخب نمائندوں کے ذریعے چلائی جائے گی، منتخب نمائندوں کا انتخاب بھی شفاف طریقے سے ضروری ہے تاکہ کوئی بدعنوان شخص منتخب نہ ہو سکے۔چیف جسٹس نے کہا جہاں تک اصلاحات کیلیے عدالت کا فیصلہ ہے تو اس پر عمل کرنے کیلئے کمیشن کوکسی کی منظوری کی ضرورت نہیں،اس ضمن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا الیکشن کمیشن حکومت کی تذلیل کررہاہے، ایک طرف ترامیم منظوری کیلیے حکومت کو بھیج دیں اور دوسری طرف خود ہی ان ترامیم پر عمل شروع کر دیا۔انھوں نے کہا حکومت ہر حال میں شفاف الیکشن کرائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا اصلاحات کے فیصلے سے اختلاف نہیں لیکن حکومت کا جواب سیکرٹری قانون کی طرف سے ہدایات ملنے کے بعد جمع کرایا جائے گا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا الیکشن کمیشن بہت حد تک خود مختار ہے لیکن اگرکوئی رکاوٹ آئی تو برداشت نہیں کی جائے گی۔چیف جسٹس نے کہا18کروڑ عوام کو شفاف اور ایماندارانہ الیکشن چاہئیں،جب الیکشن کمیشن کی پشت پر عوام ہے تو اطلاق خود بخود ہو گا،آئین کے اطلاق کیلیے اور بھی فیصلے دیے جاسکتے ہیں۔

عدالت نے درخواست گزارکے وکیل کو ہدایت کی الیکشن کمیشن کی طرف سے مجوزہ ترامیم کو دو حصوں میں تقسیم کرکے رپورٹ پیش کریں کہ کن ترامیم کا تعلق عدالتی فیصلے سے ہے اورکن کی منظوری کی ضرورت ہے۔ عدالت نے آبزرویشن دی عام انتخابات سر پرہیں اصلاحات میں تاخیر قومی مفاد میں نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مہلت کی درخواست کی جو عدالت نے مستردکر دی اور سماعت آج صبح تک کیلیے ملتوی کر دی۔ثناء نیوزکے مطابق عدالت نے کہا حکومت کوکرپشن اورکرپٹ پریکٹس روکنے پرکوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے نے بتایا کہ وفاقی حکومت کو امیدواروںکی انتخابی مہم کی مانیٹرنگ کے طریقہ کار پر اعتراض ہے ۔چیف جسٹس نے کہا انتخابی مہم کی مانیٹرنگ تو عدالتی فیصلہ کے نتیجہ میں ہے، وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کی دخواست کیوں قبول نہیں کر رہی، تین چار روز بعد ملک میں نگران سیٹ اپ آ جائیگا ۔ وفاق جواب نہیں دے رہا کہ وہ شفاف انتخابات کیلیے کیا کر رہا ہے ۔ وزارت قانون نے الیکشن کمیشن کی تجاویزکے حوالہ سے عملدرآمد رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کرائی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیااور ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ کس طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں ۔

عدالت نے کہا وزارت قانون الیکشن کمیشن کی جانب سے آرٹیکل 218 تین کے تحت قابل عمل تجاویز پر فوری عمل کرے،ابھی تک ان تجاویز پر عمل نہ کرنے کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا ۔خصوصی خبر نگارکے مطابق فاضل بینچ نے سمندر پار پاکستانیوںکو ووٹ کا حق دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت پر کہاکہ تارکین وطن کو انتخابی سرگرمیوں میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ٹی وی پر بیٹھ کر تارکین وطن کے بارے میں عدالتی فیصلے پر اداروں کیخلاف زبان درازی کی جاتی ہے لیکن جب کام کا وقت آیاتوکوئی سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے استعمال کرنے کا حق دینے کیلئے تیار نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا تارکین وطن کثیر سرمایہ بھیجتے ہیں، انھیں ملک کے انتخابی نظام میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے ۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا تارکین وطن کیلئے ووٹ ڈالنے کے مختلف طریقہ کارکا جائزہ لیا جا رہا ہے،خلیجی ممالک پولنگ اسٹیشنوں کی اجازت نہیں دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا اگر ای پولنگ کو فول پروف بنایا جائے تو یہ سب سے بہتر آپشن ہو سکتا ہے ،آج پھر سماعت ہوگی۔آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لیگل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق عدالتی فیصلہ قانون بن گیا ہے۔ عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ ہے تو واضح کریں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد علی زئی نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے تحت ترامیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کی ضرورت ہے۔
Load Next Story