پاک ایران منصوبے کے خاتمے کیلیے امریکی سفارتی سرگرمیاں تیز
امریکی عہدیداروں کی2دنوں میں8اہم ملاقاتیں،منصوبے پرخدشات کااظہارکیا.
امریکی عہدیداروں کی2دنوں میں8اہم ملاقاتیں،منصوبے پرخدشات کااظہارکیا. فوٹو: فائل
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے سنگ بنیادکے بعدامریکانے سفارتی سرگرمیاں تیز کردیں۔
امریکی عہدیداروں نے گزشتہ2دنوںمیں8اہم سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیں۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان اورایران گیس پائپ لائن منصوبے کاجس دن سنگ بنیادرکھا گیااسی شام اسلام آبادمیں نائب سفیر کی رہائش گاہ پر رچرڈ اولسن اور دیگر عہدیداروں نے قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف چوہدری نثار، سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اسحاق ڈاراورمسلم لیگی رہنماخواجہ آصف سے ملاقاتیں کیں۔
منگل کی رات مشیر پٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین،بدھ کی صبح وفاقی وزیرخورشید شاہ،و زیرخارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ امریکی پولٹیکل قونصلرنے مشاہدحسین سید،منظور وٹو سے بھی ملاقاتیں کیں،ان تمام ملاقاتوں میں امریکی عہدیداروں نے گیس پائپ لائن منصوبے پرخدشات کا اظہار کیااورکہاکہ اس منصوبے کے بعدپاکستان پراقتصادی پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔
امریکی عہدیداروں نے گزشتہ2دنوںمیں8اہم سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیں۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان اورایران گیس پائپ لائن منصوبے کاجس دن سنگ بنیادرکھا گیااسی شام اسلام آبادمیں نائب سفیر کی رہائش گاہ پر رچرڈ اولسن اور دیگر عہدیداروں نے قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف چوہدری نثار، سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اسحاق ڈاراورمسلم لیگی رہنماخواجہ آصف سے ملاقاتیں کیں۔
منگل کی رات مشیر پٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین،بدھ کی صبح وفاقی وزیرخورشید شاہ،و زیرخارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ امریکی پولٹیکل قونصلرنے مشاہدحسین سید،منظور وٹو سے بھی ملاقاتیں کیں،ان تمام ملاقاتوں میں امریکی عہدیداروں نے گیس پائپ لائن منصوبے پرخدشات کا اظہار کیااورکہاکہ اس منصوبے کے بعدپاکستان پراقتصادی پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔