پشتونوں کا مقدمہ
پنجاب میں اور پورے پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی اصل اور بنیادی وجہ اب ہماری سمجھ میں آگئی ہے۔
barq@email.com
قارئین کو یاد تو نہیں ہوگا کیونکہ یادداشت کے معاملے میں تھوڑے نہیں بلکہ بہت زیادہ ڈس ایبل واقع ہوئے ہیں، ایک سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کے باوجود ہر دم ڈسوانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔اس لیے دوبارہ یاد دلائے دیتے ہیں کہ ایک کالم میں ہم نے اسلام آباد ٹریفک پولیس کا رونا رویا تھا کہ ائیرپورٹ پر ایک انسپکٹر یا سب انسپکٹر نے ہماری گاڑی پر پشاور کی نمبر پلیٹ دیکھ کر کیا کیا تھا اور کیا کیا بولا تھا، اس پر ہم نے آئی جی پی پنجاب کو کالم کے ذریعے فریاد بھی کی تھی لیکن ہمارے مہربان لطیف چوہدری صاحب چونکہ ہم سے زیادہ جانکار بھی ہیں اور سمجھدار بھی اس لیے انھوں نے اس کالم کے سارے '' ڈنک '' نکال کر چھاپ دیا تھا ۔
اور یہ بہت اچھا ہوا بلکہ ہم چوہدری صاحب کے ہمیشہ ممنون رہیں گے کہ ہم تو جذباتی دیہاتی ناخبراتی قسم کے غیر دانشور کالم نگار ہیں، اس لیے بعض اوقات بے مہار ہو جاتے ہیں لیکن اچھا ہے کہ وہ فوراً مناسب اقدام کر لیتے ہیں ورنہ بقول ان کے ہم اب تک نہ جانے کہاں ہوتے، شاید وہاںجہاں سے کسی کو بھی اپنی خبر نہیں آتی۔چنانچہ اس کالم کی کٹائی ٹکائی اور کتر بیونت سے ہمیں دکھ ہوا تھا لیکن اب جب حقیقت کا پتہ چل گیا ہے تو چوہدری صاحب کو دعائیں دیتے ہیں کہ ہم کتنے غلط ٹریک پر چل پڑے تھے۔
اسلام آباد یا پنجاب پولیس کا اتیا چار اپنی جگہ وہی ہے جس کی وجہ سے ہم نے اٹک پار جانا ہی چھوڑ دیا کہ کیا پتہ اگر وہاں کے قانون نافذ کرنے والوں نے ہمیں اونٹ کا بچہ سمجھ کر پکڑ لیا تو جب تک ہم اپنے آپ کو لومڑی ثابت کرلیں گے تب تک چوہے بن چکے ہوں گے لیکن چند حقائق ایسے ہیں، جن کا مجھے بھی اعتراف ہے۔
پنجاب میں اور پورے پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی اصل اور بنیادی وجہ اب ہماری سمجھ میں آگئی ہے کہ پشتونوں کو بحیثیت قوم دہشت گرد، اسمگلر یا دیگر القابات دینے کا ذمے دار کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔ عین ممکن تھا کہ ہم اپنی اس ناپسندیدہ شناخت کو ختم کر دیتے لیکن خدا حضرت مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو اس کا صلہ بیش از بیش عطا فرمائیے کہ انھوں نے اپنی تمام انرجیوں کو استعمال کرکے صورتحال کو جوں کا توں رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور ''آزاد قبائل ''کے انضمام کو امریکی اور شاید یہودوہنود کا ایجنڈا بتا کر تہس نہس کر دیا اور پشتون بدستور بلیک لسٹ رکھے جائیں گے۔
اب ذرا اس اجمال کی تفصیل پر نظر ڈالتے ہیں، انگریزوں نے روس کے خوف سے جو دیواریں بنائی تھیں، ان میں ڈریورنڈ لائن کے بعد ان کو خیال آیا کہ ایک اور دیوار بھی بنائی جانی چاہیے تاکہ انگریزی امپائر تک پہنچنے کے لیے روس کو لاشو ں کے ڈھیر پر سے گزرنا پڑے، ایسی لاشوں کی جن سے انگریزوں کی اور ان کے امپائر کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔حالانکہ کابل تک پہنچنے والے انگریزوں کے لیے اس '' آزاد قبائل '' کو رعیت بنانے میں کوئی مشکل نہ تھی اور وہ آزاد کہاں چھوڑے گئے تھے، مغل شہنشا جتنے اختیارات رکھنے والے پولیٹکل ایجنٹ کو ان کے سر پر بٹھائے رکھا۔درمیان میں اس مختصر سی پٹی میں جہاں نام نہاد آزاد قبائل رہتے ہیں، طرح طرح کے نام دیے گئے، یا غستان، علاقہ غیر، آزاد قبائل وغیرہ ۔خدا پاکستان کا بھی بھلا کرے کہ اس نے امانت میں ذرا بھی خیانت کیے بغیر سب کچھ جوں کا توں رکھا ۔
اب اس آزاد قبائلی علاقے میں ہوتا کیاہے کہ پولیٹکل نظام کے تحت وہاں سرکار تو اپنے لیے جو چاہیے کر سکتی ہے، پاٹا اور فاٹا کے عجیب و غریب قانون کرفیو اور مارشل لا سے بھی زیادہ موثر ہیں کہ لیکن '' عوامی جرائم'' پر وہاں کوئی پابندی نہیں، دنیا بھر کے چور، اسمگلر، منشیات فروش، منشیات پیدا کرنے والے مجرموں کو پناہ دینے والے، چوری کی گاڑیاں رکھنے والے، اغوا برائے تاوان کے سارے مجرم وہاں بڑے آرام سے رہتے ہیں بلکہ وہاں کے سرکاری طور پر منظور شدہ معزرین اور ملکوں کے زیر سایہ طرح طرح کے مزید جرائم بھی کرتے ہیں بلکہ پولیٹکل سمیت سرکار ان سے کراتے ہیں، پھر مزید بڑھوتری یہ ہوئی کہ امریکا کے زیر سایہ جہاد کا مرکز بھی یہی ٹھہرا جس سے مزید لوگ وابستہ اور بہرہ ور ہونے لگے۔ اسلحہ اور منشیات کا کاروبار مزید پھیل کر نفع آور ہو گیا ۔ دنیا جہاں سے بھانت بھانت کے لوگ یہاں آ کر اپنے کاروبار جمانے لگے۔ ایک طرح سے اسلام کا مرکز سعودی عرب سے منتقل ہوکر یہاں آگیا ۔
اس سے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں چوہدری صاحب کا پند سود مند یاد ہے ورنہ ہم آپ کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اس کاروبار کے ڈانڈے کیسے کیسے اور کہاں کہاں سے ہو کر بین الاقومی اسلحہ فروشوں تک جاتے ہیں جو یہودی مالی مافیا کے کنٹرول میں ہے۔ برسرزمین تو جان لینے والے اور جان دینے والے سمجھتے ہیں کہ ہم کفر کے خلاف لڑ رہے اور یہ بالکل نہیں جانتے کہ یہ کفر ہی ہے جو ان کو بظاہر اپنے لیکن حقیقت میں '' اپنوں '' کے خلاف انھیں لڑا رہا ہے۔ یہ بہت گہری بات ہے اتنی گہری کہ اصل گہرائی میں جاکر سانس بند ہونے لگتی ہے ۔
ہم تو اس بات کو آگے بڑھائیں گے کہ پشتون اپنی تمام وفاداریوں ، قربانیوں اور بربادیوں کے باوجود بھی کیوں ابھی تک نہ تو پاکستانی بن پائے اور نہ مجرموں کی فہرست سے نکل سکے اور اس فساد کی ساری جڑ یہی قبائلی آزاد علاقہ ہے جس کے اپنے باسی تو غربت اور کس مپرسی کے انتہائی گہرے خط کے نیچے رہ رہے ہیں لیکن ان کی آزاد سرزمین تمام جرائم پیشہ لوگوں کے لیے کھلی ہے۔
کچھ بھی کیجیے اس علاقے میں پہنچ کر کسی معزز کی پناہ لے لیجیے، اس لیے کمائیاں کیجیے، اپنی مقررہ دہاڑی لیجیے اور آرام سے رہیے۔ اوپر کا سارا کام جناب ملک صاحب اور معزز کا ہے کہ وہ لواحقین سے کیسے ڈیل کرتا ہے اور پولیٹکل حکام کو کیسے سنبھالتا ہے اور کمائی کے حصے کہاں کہاں پہنچاتا ہے ۔ زیادہ کھل کر تو ہم بتا نہیں پائیں گے لیکن اغوا، منشیات اور گاڑیوں وغیرہ کی آمدنی میں سے جو اصل خطرے والا کام کرتے ہیں یعنی براہ راست بندے یا گاڑی کو اغوا کرتے ہیں یا منشیات کی کھیپ کہیں پہنچاتے ہیں ، ان کو صرف اتنا ملتا ہے جتنا کھیت مزدور کودیا جاتا ہے، باقی چلتا چلتا اس مقام تک پہنچتا ہے جس سے اوپر کوئی مقام ہے ہی نہیں ۔
(جاری ہے )
اور یہ بہت اچھا ہوا بلکہ ہم چوہدری صاحب کے ہمیشہ ممنون رہیں گے کہ ہم تو جذباتی دیہاتی ناخبراتی قسم کے غیر دانشور کالم نگار ہیں، اس لیے بعض اوقات بے مہار ہو جاتے ہیں لیکن اچھا ہے کہ وہ فوراً مناسب اقدام کر لیتے ہیں ورنہ بقول ان کے ہم اب تک نہ جانے کہاں ہوتے، شاید وہاںجہاں سے کسی کو بھی اپنی خبر نہیں آتی۔چنانچہ اس کالم کی کٹائی ٹکائی اور کتر بیونت سے ہمیں دکھ ہوا تھا لیکن اب جب حقیقت کا پتہ چل گیا ہے تو چوہدری صاحب کو دعائیں دیتے ہیں کہ ہم کتنے غلط ٹریک پر چل پڑے تھے۔
اسلام آباد یا پنجاب پولیس کا اتیا چار اپنی جگہ وہی ہے جس کی وجہ سے ہم نے اٹک پار جانا ہی چھوڑ دیا کہ کیا پتہ اگر وہاں کے قانون نافذ کرنے والوں نے ہمیں اونٹ کا بچہ سمجھ کر پکڑ لیا تو جب تک ہم اپنے آپ کو لومڑی ثابت کرلیں گے تب تک چوہے بن چکے ہوں گے لیکن چند حقائق ایسے ہیں، جن کا مجھے بھی اعتراف ہے۔
پنجاب میں اور پورے پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی اصل اور بنیادی وجہ اب ہماری سمجھ میں آگئی ہے کہ پشتونوں کو بحیثیت قوم دہشت گرد، اسمگلر یا دیگر القابات دینے کا ذمے دار کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔ عین ممکن تھا کہ ہم اپنی اس ناپسندیدہ شناخت کو ختم کر دیتے لیکن خدا حضرت مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو اس کا صلہ بیش از بیش عطا فرمائیے کہ انھوں نے اپنی تمام انرجیوں کو استعمال کرکے صورتحال کو جوں کا توں رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور ''آزاد قبائل ''کے انضمام کو امریکی اور شاید یہودوہنود کا ایجنڈا بتا کر تہس نہس کر دیا اور پشتون بدستور بلیک لسٹ رکھے جائیں گے۔
اب ذرا اس اجمال کی تفصیل پر نظر ڈالتے ہیں، انگریزوں نے روس کے خوف سے جو دیواریں بنائی تھیں، ان میں ڈریورنڈ لائن کے بعد ان کو خیال آیا کہ ایک اور دیوار بھی بنائی جانی چاہیے تاکہ انگریزی امپائر تک پہنچنے کے لیے روس کو لاشو ں کے ڈھیر پر سے گزرنا پڑے، ایسی لاشوں کی جن سے انگریزوں کی اور ان کے امپائر کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔حالانکہ کابل تک پہنچنے والے انگریزوں کے لیے اس '' آزاد قبائل '' کو رعیت بنانے میں کوئی مشکل نہ تھی اور وہ آزاد کہاں چھوڑے گئے تھے، مغل شہنشا جتنے اختیارات رکھنے والے پولیٹکل ایجنٹ کو ان کے سر پر بٹھائے رکھا۔درمیان میں اس مختصر سی پٹی میں جہاں نام نہاد آزاد قبائل رہتے ہیں، طرح طرح کے نام دیے گئے، یا غستان، علاقہ غیر، آزاد قبائل وغیرہ ۔خدا پاکستان کا بھی بھلا کرے کہ اس نے امانت میں ذرا بھی خیانت کیے بغیر سب کچھ جوں کا توں رکھا ۔
اب اس آزاد قبائلی علاقے میں ہوتا کیاہے کہ پولیٹکل نظام کے تحت وہاں سرکار تو اپنے لیے جو چاہیے کر سکتی ہے، پاٹا اور فاٹا کے عجیب و غریب قانون کرفیو اور مارشل لا سے بھی زیادہ موثر ہیں کہ لیکن '' عوامی جرائم'' پر وہاں کوئی پابندی نہیں، دنیا بھر کے چور، اسمگلر، منشیات فروش، منشیات پیدا کرنے والے مجرموں کو پناہ دینے والے، چوری کی گاڑیاں رکھنے والے، اغوا برائے تاوان کے سارے مجرم وہاں بڑے آرام سے رہتے ہیں بلکہ وہاں کے سرکاری طور پر منظور شدہ معزرین اور ملکوں کے زیر سایہ طرح طرح کے مزید جرائم بھی کرتے ہیں بلکہ پولیٹکل سمیت سرکار ان سے کراتے ہیں، پھر مزید بڑھوتری یہ ہوئی کہ امریکا کے زیر سایہ جہاد کا مرکز بھی یہی ٹھہرا جس سے مزید لوگ وابستہ اور بہرہ ور ہونے لگے۔ اسلحہ اور منشیات کا کاروبار مزید پھیل کر نفع آور ہو گیا ۔ دنیا جہاں سے بھانت بھانت کے لوگ یہاں آ کر اپنے کاروبار جمانے لگے۔ ایک طرح سے اسلام کا مرکز سعودی عرب سے منتقل ہوکر یہاں آگیا ۔
اس سے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں چوہدری صاحب کا پند سود مند یاد ہے ورنہ ہم آپ کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اس کاروبار کے ڈانڈے کیسے کیسے اور کہاں کہاں سے ہو کر بین الاقومی اسلحہ فروشوں تک جاتے ہیں جو یہودی مالی مافیا کے کنٹرول میں ہے۔ برسرزمین تو جان لینے والے اور جان دینے والے سمجھتے ہیں کہ ہم کفر کے خلاف لڑ رہے اور یہ بالکل نہیں جانتے کہ یہ کفر ہی ہے جو ان کو بظاہر اپنے لیکن حقیقت میں '' اپنوں '' کے خلاف انھیں لڑا رہا ہے۔ یہ بہت گہری بات ہے اتنی گہری کہ اصل گہرائی میں جاکر سانس بند ہونے لگتی ہے ۔
ہم تو اس بات کو آگے بڑھائیں گے کہ پشتون اپنی تمام وفاداریوں ، قربانیوں اور بربادیوں کے باوجود بھی کیوں ابھی تک نہ تو پاکستانی بن پائے اور نہ مجرموں کی فہرست سے نکل سکے اور اس فساد کی ساری جڑ یہی قبائلی آزاد علاقہ ہے جس کے اپنے باسی تو غربت اور کس مپرسی کے انتہائی گہرے خط کے نیچے رہ رہے ہیں لیکن ان کی آزاد سرزمین تمام جرائم پیشہ لوگوں کے لیے کھلی ہے۔
کچھ بھی کیجیے اس علاقے میں پہنچ کر کسی معزز کی پناہ لے لیجیے، اس لیے کمائیاں کیجیے، اپنی مقررہ دہاڑی لیجیے اور آرام سے رہیے۔ اوپر کا سارا کام جناب ملک صاحب اور معزز کا ہے کہ وہ لواحقین سے کیسے ڈیل کرتا ہے اور پولیٹکل حکام کو کیسے سنبھالتا ہے اور کمائی کے حصے کہاں کہاں پہنچاتا ہے ۔ زیادہ کھل کر تو ہم بتا نہیں پائیں گے لیکن اغوا، منشیات اور گاڑیوں وغیرہ کی آمدنی میں سے جو اصل خطرے والا کام کرتے ہیں یعنی براہ راست بندے یا گاڑی کو اغوا کرتے ہیں یا منشیات کی کھیپ کہیں پہنچاتے ہیں ، ان کو صرف اتنا ملتا ہے جتنا کھیت مزدور کودیا جاتا ہے، باقی چلتا چلتا اس مقام تک پہنچتا ہے جس سے اوپر کوئی مقام ہے ہی نہیں ۔
(جاری ہے )