انسانی حقوق پر پاکستان کی عالمی درجہ بندی بہتر ہوئی خلیل طاہر سندھو

ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلیے صوبائی ٹاسک فورس قائم کی، صوبائی وزیر۔

ہمیں جبری گمشدگی اور دھمکیوں کا سامنا ہے، ممتاز مغل، ایکسپریس فورم میں گفتگو۔ فوٹو: ایکسپریس

صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے گزشتہ چندبرسوں کی نسبت پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔

سول سوسائٹی کے نمائندوں عبداللہ ملک اور ممتاز مغل نے انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان میں سخت قوانین توموجود ہیں لیکن ان پر من وعن عمل نہیں ہوتا، روشن پاکستان کے بیانیہ کو ممکن بنانے کیلیے انسانی حقوق سے متعلق عوام کو آگہی دینا ہوگی جبکہ اسلامی جمہوری اتحادکے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر کا کہنا تھاکہ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسانی حقوق کا تصور حضور اکرم ؐ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پیش کیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اسکولوں کے بچوں کے حقوق کی بات تو ہر کوئی کرتا ہے مساجد اور مدرسوں کے بچوں کے تحفظ کیلیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم میں کیا، معاونت کے فرائض زاہد قیوم اوراحسن کامرے نے انجام دیے۔

صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے کہاکہ پنجاب حکومت نے خواتین کیلیے وراثت کا قانون،غیرت کے نام پر قتل، لڑکیوں کی شادی کی عمر کا تعین، کھیتوں میں کام کرنیوالی خواتین کے تحفظ، اقلیتوں کی شادیوں کی رجسٹریشن، مذہب کی جبراًتبدیلی، اقلیتوں کیلیے ملازمتوں کا کوٹا، بچوں کی جبری مشقت سمیت دیگر اہم معاملات پر قانون سازی کی ہے۔


اسلامی جمہوری اتحادکے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیرکا کہنا تھا کہ حکومت سڑکیں اور پل بنانے پر لگی ہے لیکن انسانی حقوق کو یقینی بنانے کیلیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔

سول سوسائٹی کے نمائندے عبداللہ ملک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان کا موثر استعمال نظر نہیں آتا۔

عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر ممتاز مغل کہا کہ صنفی مساوات کے حوالے سے پاکستان 144 ممالک کی فہرست میں 143ویں نمبر پر ہے۔
Load Next Story