سیاسی دلدل سے نکلنا ناگزیر
فاٹا اصلاحات کی سمت وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت دو قدم آگے جا چکی ہے
فاٹا اصلاحات کی سمت وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت دو قدم آگے جا چکی ہے۔ فوٹو: فائل
سیاسی صورتحال میں کسی بریک تھرو کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا، بالائی سطح پر سیاست جمود کا شکار ہے جب کہ داخلی اور اعصابی طور پر سیاسی رہنماؤں میں کشیدگی ، محاذآرائی اور شعلہ بیانی کا سلسلہ روکنے پر کوئی سنجیدہ مکالمہ نہیں ہورہا، انتشار ، بے یقینی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے ایک دوسرے کو زیر کرنے کے داؤ پیچ اور سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے، اگرچہ اسے بھی جمہوریت کے حسن سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا مگر دنیا بھر کی مہذب جمہوریتوں کا یہ اصول ہے کہ بڑا سیاست دان دریدہ دہن نہیں ہوتا وہ رول ماڈل اور مدبر ہوتا ہے ۔
ملکی مفاد کو وہ پارٹی مفاد پر بھی مقدم سمجھتا ہے کیونکہ سیاست عوام کی فلاح و بہبود اور خدمت سے عبارت ہے اور جمہوریت نام ہی ہے اچھی طرز حکمرانی کا ہے جس میں قانون کی حکمرانی ہو اور تمام وفاقی اکائیوں میں رہنے والے عوام قومی یکجہتی ،جمہوری عمل اور ریاستی امور میں شراکت کا گہرا احساس رکھتے ہوئے ملکی سلامتی اور قومی خود مختاری کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں، لیکن پیدا شدہ سیاسی شب و روز میں امن و استحکام ، جمہوری رویوں میں برف پگھلنے کی نوید ملنے کے الٹا قوم کو ہمہ اقسام کے اندیشوں کا اسیر بنادیا گیا ہے،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب میڈیا میں سیاست ، سماج، معیشت اور داخلی و خارجہ محاذوں پر درد انگیز خبروں کی بوچھاڑ دیکھنے میں نہ آتی ہو،ایسی سراسیمگی ہے کہ جمہوریت محض فریب نظر اور تبدیلی کے نعرے صدا بہ صحرا ثابت ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، کاش اس دلدل سے قوم کو سیاست دان جلد نکالیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک جمہوری پیش قدمی ،عدل و انصاف کی وسیع البنیاد فراہمی، بدعنوانی سے پاک اور شفاف انتظامی ڈھانچہ کی تشکیل کا منتظر ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت ''ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے'' جیسی صورتحال سے دوچار ہے،کوئی نہیں جانتا کہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور کب قوم کو یہ خوشخبری ملے گی کہ آیندہ انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں پر اتفاق ہوچکا ہے، فاٹا اصلاحات کی سمت وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت دو قدم آگے جا چکی ہے، جمہوری عمل میں پیشرفت آرہی ہے۔
بلاشبہ جمہوری انداز میں سیاسی جماعتوں کے مابین رابطے جاری ہیں مگر سیاسی درجہ حرارت تھمنے کا نام تو لے، خطے میں متحارب قوتیں پر تول رہی ہیں، ٹرمپ انتظامیہ سے معاملات طے کرنے ہیں، پاکستان کو عالمی امور میں اپنا فعال اور باوقار کردار ادا کرنے کے لیے اسپیس کی جستجو کرنی ہے، دہشتگردی سے بھی نمٹنا ہے، کیا قومی سیاسی ایجنڈہ میں صرف الزام تراشیوںکا شور وغل ہمارا سرمایہ جمہوریت ہے جب کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی کا عمل نتیجہ خیزہونا شرط اول ہے، پارلیمانی اقدار کی پاسداری کے لیے سیاست دان رواداری کی مثال قائم کریں،چیلنجز سے نمٹنے کی جدوجہد حالانکہ ابھی جاری ہے تاہم امید کی ایک سرنگ سے سیاست دان نکلتے ہیں تو دوسرے لمحہ انھیں ایک نئے دریا کو پار کرنے کا عندیہ ملتا ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ ملکی سیاست نظریاتی بنیادوں پر استوار ہوتی تو بحران کب کا ٹل چکا ہوتا مگر پولیرائزیشن نے سب کچھ برباد کردیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی و سماجی نظام کواخلاقی سیاق وسباق اور اصولوں پر استوار کیا جائے، ملک میں بنیادی تبدیلی کے لیے مین اسٹریم سیاست دان کسی ایک نقطہ پر متفق ہوجائیں توانتخابی ضابطہ اخلاق اور نئی حلقہ بندیوں سمیت مردم شماری اور دیگر انتخابی اصلاحات کی روشنی میں کامیابی ان کے قدم چومتی، مگر پیر کو قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل پیش نہ ہونے پر فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے کارکنوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شدید احتجاج کیا، اسی طرح سینیٹ میں نئی حلقہ بندیوں کا معاملہ بھی حل ہونا ناگزیر ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی، وجہ صرف اتنی ہے کہ پوری حکومت نے دو شخصیات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور فاٹا اصلاحات کے سامنے دیوار کھڑی کر دی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگی حکومت کی جانب سے فاٹا اصلاحات بل کو آخری لمحات میں قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے نکالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بِل واپس لینے کے فیصلے سے نواز لیگ کی فاٹا کے عوام سے عناد کی بو آتی ہے۔ادھر لندن میں اسحاق ڈار نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے لندن میں ملاقات کی ہے، یہاں احتساب عدالت انھیں اشتہاری قراردے چکی ہے، عدالتی پروسیس بلا روک ٹوک جاری ہے، کئی ہائی پروفائل کیسز زیر سماعت ہیں ، ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی عدالت میں پیشی کے لیے ہفتے کو وطن روانگی کا امکان ہے۔دریں اثنا وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کے استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں، تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ اچھی یا بری پارٹیاں نہیں بلکہ شخصیات ہوتی ہیں۔ عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ آصف زرداری کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔ بہر حال جمہوریت کو ساتھ لے کر چلنے کا وقت آگیا ہے، اس بنیادی حقیقت سے صرف نظر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔
ملکی مفاد کو وہ پارٹی مفاد پر بھی مقدم سمجھتا ہے کیونکہ سیاست عوام کی فلاح و بہبود اور خدمت سے عبارت ہے اور جمہوریت نام ہی ہے اچھی طرز حکمرانی کا ہے جس میں قانون کی حکمرانی ہو اور تمام وفاقی اکائیوں میں رہنے والے عوام قومی یکجہتی ،جمہوری عمل اور ریاستی امور میں شراکت کا گہرا احساس رکھتے ہوئے ملکی سلامتی اور قومی خود مختاری کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں، لیکن پیدا شدہ سیاسی شب و روز میں امن و استحکام ، جمہوری رویوں میں برف پگھلنے کی نوید ملنے کے الٹا قوم کو ہمہ اقسام کے اندیشوں کا اسیر بنادیا گیا ہے،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب میڈیا میں سیاست ، سماج، معیشت اور داخلی و خارجہ محاذوں پر درد انگیز خبروں کی بوچھاڑ دیکھنے میں نہ آتی ہو،ایسی سراسیمگی ہے کہ جمہوریت محض فریب نظر اور تبدیلی کے نعرے صدا بہ صحرا ثابت ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، کاش اس دلدل سے قوم کو سیاست دان جلد نکالیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک جمہوری پیش قدمی ،عدل و انصاف کی وسیع البنیاد فراہمی، بدعنوانی سے پاک اور شفاف انتظامی ڈھانچہ کی تشکیل کا منتظر ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت ''ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے'' جیسی صورتحال سے دوچار ہے،کوئی نہیں جانتا کہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور کب قوم کو یہ خوشخبری ملے گی کہ آیندہ انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں پر اتفاق ہوچکا ہے، فاٹا اصلاحات کی سمت وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت دو قدم آگے جا چکی ہے، جمہوری عمل میں پیشرفت آرہی ہے۔
بلاشبہ جمہوری انداز میں سیاسی جماعتوں کے مابین رابطے جاری ہیں مگر سیاسی درجہ حرارت تھمنے کا نام تو لے، خطے میں متحارب قوتیں پر تول رہی ہیں، ٹرمپ انتظامیہ سے معاملات طے کرنے ہیں، پاکستان کو عالمی امور میں اپنا فعال اور باوقار کردار ادا کرنے کے لیے اسپیس کی جستجو کرنی ہے، دہشتگردی سے بھی نمٹنا ہے، کیا قومی سیاسی ایجنڈہ میں صرف الزام تراشیوںکا شور وغل ہمارا سرمایہ جمہوریت ہے جب کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی کا عمل نتیجہ خیزہونا شرط اول ہے، پارلیمانی اقدار کی پاسداری کے لیے سیاست دان رواداری کی مثال قائم کریں،چیلنجز سے نمٹنے کی جدوجہد حالانکہ ابھی جاری ہے تاہم امید کی ایک سرنگ سے سیاست دان نکلتے ہیں تو دوسرے لمحہ انھیں ایک نئے دریا کو پار کرنے کا عندیہ ملتا ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ ملکی سیاست نظریاتی بنیادوں پر استوار ہوتی تو بحران کب کا ٹل چکا ہوتا مگر پولیرائزیشن نے سب کچھ برباد کردیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی و سماجی نظام کواخلاقی سیاق وسباق اور اصولوں پر استوار کیا جائے، ملک میں بنیادی تبدیلی کے لیے مین اسٹریم سیاست دان کسی ایک نقطہ پر متفق ہوجائیں توانتخابی ضابطہ اخلاق اور نئی حلقہ بندیوں سمیت مردم شماری اور دیگر انتخابی اصلاحات کی روشنی میں کامیابی ان کے قدم چومتی، مگر پیر کو قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل پیش نہ ہونے پر فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے کارکنوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شدید احتجاج کیا، اسی طرح سینیٹ میں نئی حلقہ بندیوں کا معاملہ بھی حل ہونا ناگزیر ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی، وجہ صرف اتنی ہے کہ پوری حکومت نے دو شخصیات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور فاٹا اصلاحات کے سامنے دیوار کھڑی کر دی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگی حکومت کی جانب سے فاٹا اصلاحات بل کو آخری لمحات میں قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے نکالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بِل واپس لینے کے فیصلے سے نواز لیگ کی فاٹا کے عوام سے عناد کی بو آتی ہے۔ادھر لندن میں اسحاق ڈار نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے لندن میں ملاقات کی ہے، یہاں احتساب عدالت انھیں اشتہاری قراردے چکی ہے، عدالتی پروسیس بلا روک ٹوک جاری ہے، کئی ہائی پروفائل کیسز زیر سماعت ہیں ، ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی عدالت میں پیشی کے لیے ہفتے کو وطن روانگی کا امکان ہے۔دریں اثنا وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کے استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں، تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ اچھی یا بری پارٹیاں نہیں بلکہ شخصیات ہوتی ہیں۔ عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ آصف زرداری کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔ بہر حال جمہوریت کو ساتھ لے کر چلنے کا وقت آگیا ہے، اس بنیادی حقیقت سے صرف نظر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔