مسابقتی کمیشن نے وہیکل ایمنسٹی اسکیم بند کرنے کی سفارش کردی

قانون توڑنے والوں کو رعایتیں، ضابطے کے تحت گاڑیاں منگوانے والوں کو محروم رکھا گیا، اسکیم ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

قانون توڑنے والوں کو رعایتیں، ضابطے کے تحت گاڑیاں منگوانے والوں کو محروم رکھا گیا، اسکیم ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، وزارت خزانہ وایف بی آر کو پالیسی نوٹ جاری۔ فوٹو: فائل

مسابقتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے اسمگل شدہ، ٹیمپرڈ اور غیر قانونی گاڑیوں کو قانونی شکل دینے کیلیے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم کو مسابقتی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسکیم پر عملدرآمد روکنے کیلیے وزارت خزانہ و فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو پالیسی نوٹ جاری کردیا ہے۔

اس ضمن میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ مسابقتی کمیشن نے ایف بی آر کی طرف سے 5 مارچ 2013 کوگاڑیوں کیلیے ایمنسٹی اسکیم کے نفاذ کے بارے میں جاری کردہ ایس آر اوزکا ازخود نوٹس لے لیا ہے اور ایف بی آرکی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو مسابقتی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو جاری کیے جانیوالے پالیسی نوٹ میں ایف بی آر کے جاری کردہ ایس آر او نمبر 172(I)/2013 پرآل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن(اے پی ایم اے) کے تحفظات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ اپما نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسمگل شدہ، ٹیمپرڈ اور غیر قانونی گاڑیوں کو قانونی شکل دینے کیلیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایت دیدی گئی ہے لیکن استعمال شدہ درآمدی کاروں کیلیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایت نہیں دی گئی۔




پالیسی نوٹ میں مسابقتی کمیشن کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف بی آر نے تازہ ترین ایس آر او نمبر 1441(I)/2012کے تحت ایک طرف تو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کیلیے عمر کی حد 3 سال کردی ہے جبکہ دوسری طرف ایمنسٹی اسکیم کے تحت اسمگل شدہ، ٹیمپرڈ اور غیر قانونی گاڑیوں کو قانونی شکل دینے کے حوالے سے کاروں کیلیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی اور یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے کاروں پر پر عائد ڈیوٹیاں اور ٹیکس ادا نہ کرکے اور گاڑیاں اسمگل کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ہے انہیں مراعات دی جارہی ہیں اور نوازا جارہا ہے اوران کے کیلیے کار کی عمر کی کوئی حد مقرر کیے بغیر انہیں انکی مرضی کے مطابق غیر ملکی کاریں حاصل کرنے کی اجازت دی جارہی ہے لیکن دوسری طرف جو ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرکے قانونی طور پر باقاعدہ کاریں درآمد کرنا چاہتے ہیں یا کررہے ہیں انہیں ان مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے۔

پالیسی نوٹ میں مسابقتی کمیشن کی طرف سے حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ یا تو ایمنسٹی اسکیم کا نوٹیفکیشن واپس لے کر اسکیم پر عملدرآمد روک دیا جائے یا اس میں ترامیم کی جائیں تاکہ تفریق ختم کرکے سب کو یکساں مواقع دیے جائیں۔
Load Next Story