شہرمیںپیداواری نمومیں مزید اضافہ ہوگا گورنرسندھ
کراچی بڑی کنزیومرمارکیٹ ہے،شہرسرمایہ کاروں کیلیے کشش رکھتا ہے
کراچی بڑی کنزیومرمارکیٹ ہے،شہرسرمایہ کاروں کیلیے کشش رکھتا ہے: فوٹو ایکسپریس
KARACHI:
گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ با لخصوص کراچی میں مستقبل قریب میں پیداواری نمو میں اضافے کی قوی گنجائش ہے،انھوںنے کہا کہ گوکہ بین الا قوامی چیلنجزکے اثرات ہیں لیکن اس کے با وجود کراچی کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے،انھوں نے کہا کہ یہاں ایک طرف طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف سرمایہ کاری کے رجحانات بھی بڑھتے جارہے ہیں،
انھوں نے کہا کہ حال ہی میں برطانیہ نے اس شہر میں دو ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی نہ صرف خواہشات کا اظہار کیا بلکہ مفاہمت کی یا دداشتوں پر بھی دستخط کیے ہیں اسی طرح چین ،ترکی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے بھی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ،یہ بات انھوں نے گورنر ہائوس میں جرمنی کے نامزد سفیر H.E.Dr.Cyrill Nunn اور قونصل جنرل کراچی کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی،انھوں نے کہا کہ کراچی کے حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں اوریہ بات کسی کے مفاد میں نہیں کہ کراچی کے حالات خراب ہوں کیونکہ اس سے نہ صرف صوبہ بلکہ پورا پاکستان سمیت خطہ بھی متا ثر ہوسکتاہے،
یہ شہر اسلامی دنیا کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی اس وقت دوکروڑ سے بھی تجا وز کرچکی ہے یہاں کا امن ہی پورے خطے کا امن ہے اور یہاں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کیلیے ضروری ہے کہ اس شہر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوکیونکہ یہ شہر آج بھی پورے پاکستان کی کل پیداوار کا 70فیصد مہیا کرتا ہے،اس وقت یہ شہر اپنی استعداد کے30سے40فیصد پرکام کررہا ہے
اگر اسے مطلوبہ وسائل مہیا کیے جائیں تو یہ پاکستان کے کل جی ڈی پی کے برابر پیداواری صلاحیت رکھتا ہے ،جرمن سفیر نے صوبے اور شہر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جرمن سرمایہ کاروںکی آمد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ماہ ستمبر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ با لخصوص کراچی میں مستقبل قریب میں پیداواری نمو میں اضافے کی قوی گنجائش ہے،انھوںنے کہا کہ گوکہ بین الا قوامی چیلنجزکے اثرات ہیں لیکن اس کے با وجود کراچی کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے،انھوں نے کہا کہ یہاں ایک طرف طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف سرمایہ کاری کے رجحانات بھی بڑھتے جارہے ہیں،
انھوں نے کہا کہ حال ہی میں برطانیہ نے اس شہر میں دو ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی نہ صرف خواہشات کا اظہار کیا بلکہ مفاہمت کی یا دداشتوں پر بھی دستخط کیے ہیں اسی طرح چین ،ترکی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے بھی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ،یہ بات انھوں نے گورنر ہائوس میں جرمنی کے نامزد سفیر H.E.Dr.Cyrill Nunn اور قونصل جنرل کراچی کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی،انھوں نے کہا کہ کراچی کے حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں اوریہ بات کسی کے مفاد میں نہیں کہ کراچی کے حالات خراب ہوں کیونکہ اس سے نہ صرف صوبہ بلکہ پورا پاکستان سمیت خطہ بھی متا ثر ہوسکتاہے،
یہ شہر اسلامی دنیا کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی اس وقت دوکروڑ سے بھی تجا وز کرچکی ہے یہاں کا امن ہی پورے خطے کا امن ہے اور یہاں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کیلیے ضروری ہے کہ اس شہر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوکیونکہ یہ شہر آج بھی پورے پاکستان کی کل پیداوار کا 70فیصد مہیا کرتا ہے،اس وقت یہ شہر اپنی استعداد کے30سے40فیصد پرکام کررہا ہے
اگر اسے مطلوبہ وسائل مہیا کیے جائیں تو یہ پاکستان کے کل جی ڈی پی کے برابر پیداواری صلاحیت رکھتا ہے ،جرمن سفیر نے صوبے اور شہر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جرمن سرمایہ کاروںکی آمد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ماہ ستمبر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔