اسمگلڈ گاڑیوں کو قانونی حیثیت کیلیے مزید ریلیف کااعلان
ایمنسٹی اسکیم کے تحت 5 سال سے زائد پرانی کاروں پر ٹیکسوں میں 5 فیصد سالانہ کمی کی جائیگی۔
ایف بی آر نے نوٹیفکیشن جاری کرکے 5 مارچ کو پیش کردہ ایس آر او میں ترامیم کردیں۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت 5 سال سے زائد پرانی، غیرقانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں پر قیمت میں کمی کی سہولت کے ساتھ ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں بھی 5 فیصد سالانہ کمی کی رعایت دیدی ہے۔
گزشتہ روز ایف بی آر کی طرف سے جاری ترمیمی ایس آر او نمبر 185(I)/2013کے تحت 5مارچ 2013 کو جاری ایس آر او172(I)/2013 میں ترمیم کردی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایس آر او 557(I)/2005 کے ذمرے میں آنے والی جاپانی و دیگر ایشیائی ممالک کی تیار کردہ 5سال جبکہ یورپ سمیت دیگر ممالک کی تیار کردہ 6 سال سے زیادہ پرانی 800 سی سی سے 1800 تک کی غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں کے لیے بالترتیب 5 اور 6 سال قبل جو ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے واجبات عائد تھے۔
ان واجبات کی رقم میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے کمی کردی گئی ہے تاہم اس کیلیے شرط یہ ہے کہ 5 سال سے زیادہ پرانی ایشیائی گاڑیوں پر کم ازکم ٹیکس کی رقم پاکستانی کرنسی میں 500 ڈالر کے برابر ہونی چاہیے جبکہ یورپ سمیت دیگر ممالک کی تیار کردہ 6سال سے زیادہ پرانی کاروں پر کم ازکم ٹیکس 1 لاکھ روپے کے برابر ہونا چاہیے۔ اس بارے میںایف بی آر کے سینئر افسر نے رابطہ کرنے پربتایا کہ مذکورہ ترمیمی ایس آر او کے اجرا کا بنیادی مقصد غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں کو قانونی حیثیت دینے کیلیے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے کیونکہ اس سے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں مزید کمی ہوگئی ہے۔
اس سے پہلے ایف بی آر نے ان کاروں کی ویلیو ایشن پر فرسودگی کی اجازت دی تھی، اب 5 سال سے زیادہ پرانی کار پر 5 سال پہلے جو ٹیکس بنتا تھا اس میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے کمی کردی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گاڑی 10 سال پرانی ہے اور اس گاڑی پر 5 سال پہلے 1 لاکھ روپے ٹیکس بنتا تھا تو اس میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے25 فیصد کمی ہوجائے گی اور 1 لاکھ روپے کا ٹیکس کم ہوکر 75 ہزار روپے رہ جائے گا۔
گزشتہ روز ایف بی آر کی طرف سے جاری ترمیمی ایس آر او نمبر 185(I)/2013کے تحت 5مارچ 2013 کو جاری ایس آر او172(I)/2013 میں ترمیم کردی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایس آر او 557(I)/2005 کے ذمرے میں آنے والی جاپانی و دیگر ایشیائی ممالک کی تیار کردہ 5سال جبکہ یورپ سمیت دیگر ممالک کی تیار کردہ 6 سال سے زیادہ پرانی 800 سی سی سے 1800 تک کی غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں کے لیے بالترتیب 5 اور 6 سال قبل جو ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے واجبات عائد تھے۔
ان واجبات کی رقم میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے کمی کردی گئی ہے تاہم اس کیلیے شرط یہ ہے کہ 5 سال سے زیادہ پرانی ایشیائی گاڑیوں پر کم ازکم ٹیکس کی رقم پاکستانی کرنسی میں 500 ڈالر کے برابر ہونی چاہیے جبکہ یورپ سمیت دیگر ممالک کی تیار کردہ 6سال سے زیادہ پرانی کاروں پر کم ازکم ٹیکس 1 لاکھ روپے کے برابر ہونا چاہیے۔ اس بارے میںایف بی آر کے سینئر افسر نے رابطہ کرنے پربتایا کہ مذکورہ ترمیمی ایس آر او کے اجرا کا بنیادی مقصد غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں کو قانونی حیثیت دینے کیلیے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے کیونکہ اس سے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں مزید کمی ہوگئی ہے۔
اس سے پہلے ایف بی آر نے ان کاروں کی ویلیو ایشن پر فرسودگی کی اجازت دی تھی، اب 5 سال سے زیادہ پرانی کار پر 5 سال پہلے جو ٹیکس بنتا تھا اس میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے کمی کردی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گاڑی 10 سال پرانی ہے اور اس گاڑی پر 5 سال پہلے 1 لاکھ روپے ٹیکس بنتا تھا تو اس میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے25 فیصد کمی ہوجائے گی اور 1 لاکھ روپے کا ٹیکس کم ہوکر 75 ہزار روپے رہ جائے گا۔