آثار قدیمہ کی بربادی
کٹاس راج ہزاروں برس پرانی تاریخ کے بچے کچھے آثار ہیں
مہذب و متمدن قومیں اپنے خطے کی تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں۔ فوٹو: فائل
BHAKKAR:
سپریم کورٹ نے پنجاب کے ضلع چکوال میں تاریخی کٹاس راج مندر کے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت انتظامی معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتی لیکن خامیوں پر خاموش بھی نہیں رہے گی، ایک طرح سے ہم بھی حکومت ہی ہیں، جہاں انتظامی خلا ہو گا تو ہم پر کریں گے۔
عدالت نے خطہ پوٹھوہار میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے کا بھی نوٹس لیا،تاریخی کٹاس راج مندر کے تالاب کے خشک ہونے کے معاملے کا ایک وٹس ایپ پیغام پر ازخود نوٹس لیا گیا، چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایک سیمنٹ فیکٹری کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے فیکٹری کو7 دنوں میں کٹاس مندر کا تالاب بھرنے کا حکم دیا اور پنجاب حکومت کو ضلع چکوال میں قائم سیمنٹ فیکٹریوں کے بارے میں جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ نیز استفسار کیا کہ ہر سیمنٹ فیکٹری روزانہ کتنا پانی استعمال کرتی ہے۔
عدالت نے کٹاس راج مندر کے تالاب کو دوبارہ بھرنے کا حکم دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ بصورت دیگر علاقے کی تمام سیمنٹ فیکٹریاں بند کرا دی جائیں گی۔فاضل عدالت نے آبزرویشن دی کہ علاقے کی سیمنٹ فیکٹریاں روزانہ زیر زمین سے لاکھوں گیلن پانی کھینچتی ہیں جس سے زیر زمین پانی کی مقدار بے حد کم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں انسانوں اور زراعت کے لیے پانی میسر نہیں آ رہا۔ پاکستان کے اقتدار پر قابض حکمران اشرافیہ' بیوروکریسی' لالچی اور عاقبت نااندیش کاروباری طبقہ تاریخ کے فہم سے بھی عاری ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بھی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔کٹاس راج ہزاروں برس پرانی تاریخ کے بچے کچھے آثار ہیں' مہذب و متمدن قومیں اپنے خطے کی تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں۔
یورپ کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں' وہاں جدید ترین طرز زندگی اور سہولتیں موجود ہیں لیکن تاریخ بھی زندہ ہے جو ترقی کے ساتھ ساتھ موجود ہے لیکن ہمارے ہاں عقل و فہم سے عاری اور سطحی سوچ و فکر کی حامل حکمران کلاس اور بیوروکریسی نے آثار قدیمہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی' افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کا دانشور اور اہل علم طبقہ بھی اپنے حال میں مست ہے' عدالت عظمیٰ نے کٹاس راج تہذیب کی تباہی کا ازخود نوٹس لے کر درست سمت میں قدم اٹھایا ہے' اس کیس سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں تاریخی آثار ہی تباہ نہیں ہو رہے بلکہ میٹھے پانی جیسی نعمت کا بھی بے دریغ ضایع ہو رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے پنجاب کے ضلع چکوال میں تاریخی کٹاس راج مندر کے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت انتظامی معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتی لیکن خامیوں پر خاموش بھی نہیں رہے گی، ایک طرح سے ہم بھی حکومت ہی ہیں، جہاں انتظامی خلا ہو گا تو ہم پر کریں گے۔
عدالت نے خطہ پوٹھوہار میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے کا بھی نوٹس لیا،تاریخی کٹاس راج مندر کے تالاب کے خشک ہونے کے معاملے کا ایک وٹس ایپ پیغام پر ازخود نوٹس لیا گیا، چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایک سیمنٹ فیکٹری کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے فیکٹری کو7 دنوں میں کٹاس مندر کا تالاب بھرنے کا حکم دیا اور پنجاب حکومت کو ضلع چکوال میں قائم سیمنٹ فیکٹریوں کے بارے میں جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ نیز استفسار کیا کہ ہر سیمنٹ فیکٹری روزانہ کتنا پانی استعمال کرتی ہے۔
عدالت نے کٹاس راج مندر کے تالاب کو دوبارہ بھرنے کا حکم دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ بصورت دیگر علاقے کی تمام سیمنٹ فیکٹریاں بند کرا دی جائیں گی۔فاضل عدالت نے آبزرویشن دی کہ علاقے کی سیمنٹ فیکٹریاں روزانہ زیر زمین سے لاکھوں گیلن پانی کھینچتی ہیں جس سے زیر زمین پانی کی مقدار بے حد کم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں انسانوں اور زراعت کے لیے پانی میسر نہیں آ رہا۔ پاکستان کے اقتدار پر قابض حکمران اشرافیہ' بیوروکریسی' لالچی اور عاقبت نااندیش کاروباری طبقہ تاریخ کے فہم سے بھی عاری ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بھی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔کٹاس راج ہزاروں برس پرانی تاریخ کے بچے کچھے آثار ہیں' مہذب و متمدن قومیں اپنے خطے کی تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں۔
یورپ کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں' وہاں جدید ترین طرز زندگی اور سہولتیں موجود ہیں لیکن تاریخ بھی زندہ ہے جو ترقی کے ساتھ ساتھ موجود ہے لیکن ہمارے ہاں عقل و فہم سے عاری اور سطحی سوچ و فکر کی حامل حکمران کلاس اور بیوروکریسی نے آثار قدیمہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی' افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کا دانشور اور اہل علم طبقہ بھی اپنے حال میں مست ہے' عدالت عظمیٰ نے کٹاس راج تہذیب کی تباہی کا ازخود نوٹس لے کر درست سمت میں قدم اٹھایا ہے' اس کیس سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں تاریخی آثار ہی تباہ نہیں ہو رہے بلکہ میٹھے پانی جیسی نعمت کا بھی بے دریغ ضایع ہو رہا ہے۔