ملتان میں وکلاء کا احتجاج اور ہلڑ بازی

وکلا کے نمایندوں کا اصرار ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے والے وکلا نہیں تھے

وکلا کے نمایندوں کا اصرار ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے والے وکلا نہیں تھے۔ فوٹو: فائل

SUKKUR:
ملتان میں وکلاء نے گزشتہ روز نیو جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات فراہم نہ کرنے اور مطالبات تسلیم نہ کرنے کے خلاف احتجاج کے دوران ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت، چیمبر اور دفاتر پر دھاوا بول کر شیشے توڑ دیے جب کہ اہلکاروں نے دروازے بند کر دیے اور عدالتی کام بھی بند ہو گیا، میڈیا کے مطابق اس دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ وکلاء کے احتجاج کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، ماضی میں بھی قانون دان اس طرح کے احتجاج کرکے عام لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال چکے ہیں۔

بہرحال وکلا ہی کیا،وطن عزیز میں اب تو یہ روایت ہی بن گئی ہے کہ ہر گروہ یا پریشر گروپ اپنی بات منوانے کے لیے دھرنے یا توڑ پھوڑ کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ اگر چہ وکلا کے نمایندوں کا اصرار ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے والے وکلا نہیں تھے بلکہ وکلا کے بھیس میں دوسرے لوگ تھے جن کا مقصد وکلا کو بدنام کرنا تھا۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو مگر اس کی تحقیقات کرائی جانی چاہیے تا کہ حقیقت آشکار ہو سکے۔


بتایا گیا ہے کہ ملتان ڈسٹرکٹ بار میں ایک روز قبل اجلاس میں وکلا نے پرامن احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن نیو جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر کئی وکلا مشتعل ہو گئے اور پولیس کے ساتھ دھکم پیل شروع ہوگئی اور وکلا کی بڑی تعداد اندر داخل ہو گئی اور ڈنڈوں کے ساتھ کرسیاں اٹھا کر شیشے کے دروازوں اور کھڑکیوں میں مارنی شروع کر دیں۔ وکلا کا مطالبہ تھا کہ کمپلیکس میں وکلا کو چیمبر، بار روم، مسجد، کینٹین اور دیگر تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ورنہ وکلا کا احتجاج جاری رہیگا اور احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے لاہور کی طرف بھی مارچ کریں گے۔

اجلاس ختم ہونے پر وکلاء نے جوڈیشل کمپلیکس میں احتجاج 3 روز کے لیے ملتوی کرتے ہوئے دوبارہ 16دسمبر کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ اس دوران مکمل ہڑتال بھی جاری رہیگی۔ ہمارے ہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ جب تک احتجاج نہ ہو ، کسی کے مطالبات کا نوٹس ہی نہیں لیا جاتا۔بہرحال وکلا کو چونکہ ملک کا انتہائی پڑھا لکھا اور قانون پسند طبقہ خیال کیا جاتا ہے، اس لیے وکلا تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج ضرور کریں لیکن ایسا کام نہ کریں جو ان کے لیے بدنامی کا باعث ہو۔
Load Next Story