واٹر بورڈ واجبات کی وصولیابی کیلئے ڈیفارلٹ ریکوری سیل قائم

سیل 2فیز میں نادہندگان صارفین کو وصولی پر آمادہ کرے گا ، ہر سطح پر محصولات کی ریکوری کو بھی یقینی بنایا جائے گا

فوٹو: فائل

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے نادہند صارفین سے اربوں روپے کی واجبات کی وصولیابی کے لیے ڈیفالٹ ریکوری سیل قائم کر دیا۔

جو ہر سطح پر نادہند صارفین سے محصولات کی ریکوری کو یقینی بنائے گا،یہ سیل دو فیز میں نادہند صارفین کو وصولی پر آمادہ کرے گا، فیز ون میں صارفین سے رابطہ کرکے انھیں ادائیگی پر راضی کرنا جبکہ دوسرے فیز میں نادہند صارفین کے پانی و سیوریج کے کنکشن منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ جائیداد کی ضبطی بھی شامل ہیں، اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ مصبا ح الدین فرید نے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ریو نیو وقار ہاشمی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کو ششوں اور محنت سے ریو نیو کی ریکو ری میں30فیصد اضافہ ہوا جو کہ اب32کروڑ سے بڑھ کر52کروڑ تک جا پہنچی ہے، انھوں نے2013کو ریکوری کا سال قرار دیا ہے۔




ریکوری میں بہت گنجائش موجود ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دسمبر تک ریکوری ایک ارب ہوجائے گی، واٹر بورڈ کی ترجیحات میں سب سے اہم شہریوں کی خدمت اور انھیں بہتر سے بہترین فراہمی و نکاسی آب کی سہولیات فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات جب ہی فراہم کی جاسکتی ہیں جب واٹر بورڈ کے تمام صارفین واٹر بورڈ کے بل بروقت ادا کریں، انھوں تمام چیف انجینئرز سے کہا کہ وہ ریونیو دپارٹمنٹ سے تعاون کریں شہر میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعداد میں روز بر وز اضافہ ہو تا جارہا ہے۔

جبکہ ان سے ریکو ری محض 10 فیصد ہو تی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عمارتوں کا سروے کر کے ان کو ٹیکس نیٹ پر لایا جائے تاکہ ادارہ کے ریونیو میں اضافہ ہو سکے جبکہ صنعتی زون سے بھی ریکوری کے حصول میں بھی مشکلات درپیش ہیں،کراچی کے18ٹاؤن میں سے تقریباً7 ٹاؤن سے ریکوری وصول ہوتی ہے جبکہ باقی ٹاؤنز سے برائے نام ریکوری حاصل ہوتی ہے،انھوں نے کہا کہ جس طرح وفاقی حکومت نے بجلی کے بلوں کی وصولیابی نیب کے حوالے کی ہے، واٹر بورڈ بھی وفاقی حکومت سے درخواست کرچکاکہ واٹر بورڈ کے واجبات کی وصولیابی بھی نیب کے ذریعے کرائی جائے۔
Load Next Story