ایران گیس منصوبے پر دباؤقبول نہیں سیاسی و عسکری قیادت

صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کا اجلاس، امریکی پابندیوں کی دھمکی پر غور

مسلح افواج عام انتخابات کے شفاف انعقاد میں تعاون کریں گی، آرمی چیف فوٹو: فائل

سیاسی اورعسکری قیادت نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کوملک کے بہترین مفادمیں قراردیتے ہوئے ایک بارپھراس عزم کااعادہ کیاہے کہ ملکی مفاد ہرشے پرمقدم رہے گااور قومی مفادمیں کیے جانے والے فیصلوں پرکسی طرح کاکوئی بیرونی دباؤقبول نہیں کیا جائے گا۔

جمعرات کو یہ فیصلہ صدرآصف علی زرداری ، وزیراعظم راجا پرویزاشرف اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی پرمشتمل ''ٹرائیکا''نے موجودہ ملکی صورتحال میں جمعرات کوایوان صدرمیں ہونے والے اجلاس میں کیا۔

ملاقات میں ملکی سیاسی وامن وامان کی صورتحال،جمہوری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعدعبوری حکومت کے قیام، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے اوراس سلسلے میں امریکا کی جانب سے پابندیوں کی دھمکیوں اور افغانستان کی صورتحال سمیت دیگراہم معاملات پرتبادلہ خیال کیاگیاجبکہ آرمی چیف نے صدراوروزیراعظم کواپنے نجی دورہ سعودی عرب کے موقع پرسعودی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں اعتماد میں لیا۔




ذرائع کے مطابق ٹرائیکا نے ملک میں پہلی بارجمہوری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پرخوشی اوراطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری ادارے مضبوط ہوئے ہیں ۔صدراوروزیراعظم نے جمہوری عمل کی مسلسل حمایت کرنے پرمسلح افواج کے کردارکوخراج تحسین پیش کیا۔آرمی چیف نے یقین دلایاکہ مسلح افواج عام انتخابات کے شفاف انعقادکیلیے الیکشن کمیشن کوہرممکن مددفراہم کرے گااورانتخابات کے دوران امن وامان برقراررکھنے کیلیے سول انتظامیہ سے بھرپورتعاون کیاجائے گا۔

 

Recommended Stories

Load Next Story