3ریٹائرڈجج2ماہرین معیشتایک سیاستداننگراں وزیراعظم کون ہوگا

اب نگراں حکومت کا سربراہ کون ہوگا.

اب نگراں حکومت کا سربراہ کون ہوگا،

آج مرکزی حکومت کاآخری آئینی دن ہے۔

اب نگراں حکومت کا سربراہ کون ہوگا،اِس بارے میں اپوزیشن لیڈرچوہدری نثار علی خان کی طرف سے حکومت کو تین نام توچند روز قبل دے دیے گئے تھے لیکن حکومت کی طرف سے اِس ذیل میں ناموں کے پتے مسلسل سینے سے لگائے رکھے گئے۔آخرکارحکومت نے بھی یہ پتے اپوزیشن اورعوام کو شو کردیے ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ،عشرت حسین اور جسٹس (ر) میر ہزارخان کھوسو۔ویسے توچوہدری شجاعت، جو جمعرات کومشاہد حسین سید کیساتھ ''کلچرل'' پروگرام میں خاصے محو پائے گئے،کی بھی خواہش تھی کہ اُنھیں نگراں وزیرِاعظم بنناچاہیے تھا لیکن فی الحال اُنکی آرزو پوری نہیں ہوسکی۔

اپوزیشن اورحکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ نگران وزیرِاعظم کے ناموں سے قبل بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز سیاستدان محموداچکزئی کا نام بھی بلند آواز میں بطور نگران وزیرِاعظم لیا جاتا رہا ہے۔کئی نجی ٹی وی چینلز پراُنکے انٹرویو بھی نشر ہوئے لیکن پھر یہ نام اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔سابق وفاقی وزیرِ خزانہ اور ممتازماہرِ معیشت عبدالحفیظ شیخ وزارت اورسینیٹ سے مستعفی ہوئے تواُنکے نام کی ڈفلی بھی نگران وزیر اعظم کے طور پرخوب بجائی گئی اوریہ بھی کہا گیا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے کار پروازوں سے اُنکے گہرے تعلقات کا شاخسانہ یہ نکلے گا کہ یقیناً بطور نگران وزیراعظم کا قرعہ اُنکے نام کا نکلے گا۔اپوزیشن کی جانب سے بھی جوتین نام (جسٹس( ر) ناصر اسلم زاہد،جسٹس (ر) شاکر اللہ جان، رسول بخش پلیجو) بطور نگران وزیرِ اعظم پیش کیے گئے۔

فریقین کے پیش کردہ ناموں کا جائزہ لینے کے بعد صورتحال سامنے آئی ہے کہ تین ریٹائرڈ جج صاحبان، دوماہرینِ معیشت اور ایک سیاستدان کے ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب مشکل ترین مرحلہ بن گیا ہے۔ رسول بخش پلیجو، عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کاتعلق سندھ سے ہے جبکہ جسٹس (ر) شاکر اللہ جان خیبرپختونخوا اور جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔جمہوری نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جائے تو سندھ کے حصے میں نگران وزیرِ اعظم کا نام آنا چاہیے کہ سندھی ناموںکی تعداد اکثریت میں ہے اور یہ نام تجویز کرنیوالوں میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثاریعنی مسلم لیگ ن اور حکمران بھی شامل ہیں۔دوسری طرف ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کی تعداد بھی تین ہے۔


جمہوری نکتۂ نظرسے دیکھا جائے تونگران وزیرِ اعظم اِن ججوں میں سے ایک ہونا چاہیے جونیک نام بھی ہیں اوراکثریتی عوام کے لیے قابلِ قبول بھی ہوسکتے ہیں۔اُن میں بعض ریٹائرڈ ججوں نے تو آمریت کے خلاف سینہ بھی تان کر رکھا اور آمرانہ مطالبات کو بھی مستردکردیا۔بلوچستان کے بگڑے حالات اور وہاںکے مبینہ احساسِ محرومی کو پیشِ نگاہ رکھا جائے تو جسٹس (ر) میر ہزار کھوسوکو نگران وزیرِ اعظم بنایا جانا چاہیے تاکہ اہلِ بلوچستان، اقتدار میں شرکت کنندگان کے حوالے سے، کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔ویسے بھی میر ہزارکھوسو بلوچستان بھر میں خاصے احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور اُنہیں انتظامی معاملات کا بھی تجربہ ہے کہ وہ بلوچستان کے دوبار قائم مقام گورنر بھی رہے ہیں۔

پاکستان کو معیشت،جسے ہمیشہ اوّلین معاملات میں رکھا جاتا ہے،جس کہتری اور کمزوری کا شکار ہے اور خزانہ میں (بقول وزیرِ خزانہ سلیم مانڈوی والا) چند ہفتوں کے زرِ مبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں، پاکستان نے چند روز قبل ایران سے جس گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا ہے، امریکا اِس سے ناراض ہے۔ پاکستان پر امریکا کی طرف سے پابندیاں عائد کرنے کی افواہیں بھی زیرِگردش ہیں۔اِس پس منظر میں تورواںلمحوں میں صرف کسی ماہرِ معیشت کو ہی نگران وزیرِ اعظم بنایا جانا چاہیے تاکہ ہمارے اقتصادی معاملات خدانخواستہ کسی بڑے حادثے کا شکار نہ ہوسکیں۔یوں ڈاکٹرعشرت حسین اور عبدالحفیظ شیخ کے نام زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔دونوں افراد ہی قابل اور اقتصادی معاملات سے گہری آشنائی رکھتے ہیں۔

اِن میں سے اول الذکرگورنر اسٹیٹ بینک رہ چکے ہیں اور ثانی الذکر پاکستان کے دوبار وزیرِ خزانہ کا قلمدان سنبھال چکے ہیں۔اُنکے ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کی فیصلہ ساز قوتوں سے اچھے اورگہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ اُنکے بطور نگران وزیرِ اعظم بننے پر ن لیگ بھی متفق ہو سکتی ہے کیونکہ حفیظ شیخ ن لیگ کے اقتدارمیںآنے سے قبل(جیسا کہ عمومی طور پرکہا جا رہا ہے) پاکستان کو درپیش معاشی بحرانوں کو حل کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ نگران وزیرِاعظم بننے کے بعدحفیظ شیخ پاکستان کی بہتری میںوہ فیصلے بھی کر سکیں گے جو وہ سید یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف کی حکومتوں میں بطور وفاقی وزیرِ خزانہ بوجوہ فیصلے نہ کرسکے۔

 
Load Next Story