عمران بچ گئے جہانگیر ترین نااہل قرار
عدالت عظمیٰ ٰ نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ معاملہ پر استدعا مسترد کردی
عدالت عظمیٰ ٰ نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ معاملہ پر استدعا مسترد کردی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے ہائی پروفائل کیسز کا فیصلہ سنادیا۔تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین عمران خان نااہلی سے بچ گئے جب کہ جہانگیر ترین کوتاحیات نااہل قراردے دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواستوں پر فیصلہ 14نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جمعہ کو ججز نے قرار دیا کہ فیصلہ تحمل سے سنیں، فیصلہ سنائے جانے تک رد عمل نہ دیں، عدالت عظمیٰ ٰ نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ معاملہ پر استدعا مسترد کردی اور کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملہ کی تحقیقات الیکشن کمیشن کرے گا۔
بلاشبہ عدالت عظمیٰ نے قانون و آئین کی روح کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔عدلیہ اس سے قبل پاناما پیپرز کیس اور حدیبیہ کیس کے بارے میں بھی فیصلہ دے چکی ہے، اب یہ فیصلہ بھی ایک آزاد عدلیہ کی طرف سے آیا ہے جو اپنے دور رس اثرات، نتائج اورمضمرات کے حوالے سے مدتوں یادگار رہے گا۔ اس غیر معمولی تناظر میں ملکی سیاسی حالات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے جو انتہائی تیزی سے ڈرامائی موڑ لے رہے ہیں، حکومت کئی محاذوں پر چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے، میڈیا میں اس بات پر مسلسل تجزیئے پیش کیے جارہے ہیں کہ ریاستی رٹ ختم ، حکومت سرینڈر کرچکی ہے، نظم حکمرانی کا کہیں پتا نہیں چلتا اور شنید ہے کہ ایک طویل عرصہ پر محیط عبوری سیٹ اپ آنے والا ہے۔
غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں ہیں تاہم مسلم لیگ (ن)کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا، نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک پھر بدحالی طرف بڑھ رہا ہے، خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت مدت پوری کریگی۔ قبل ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں مریم نواز، حسن نواز اور سلمان شہباز بھی شریک ہوئے۔ نیب بھی متحرک ہے جس نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحق ڈارکے ریڈنوٹس جاری کرنے اور ان کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے، نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز میں ہوا، اجلاس میں کہا گیاکہ اسحق ڈار کو کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج پاکستان میں نہ ہوسکے، احتساب عدالت پہلے ہی ان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔
ملکی سیاسی صورتحال کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں تمام جماعتوں کے اراکین نے فیض آباد دھرنا کے محرکات جاننے کے لیے عدالتی یا پارلیمانی انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا یہ دھرنا کسی گریٹر پلان کا حصہ تو نہیں تھا، جمعرات کو ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا 25 نومبر کا دن پاکستان کی تاریخ کی بدترین دن ہے، اس دن دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان میں کسی بھی وقت کوئی بھی گروہ آکر حکومت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
ادھرقومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک تاحال ختم نہ ہو سکا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعہ کوتمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں کا اجلاس اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے طلب کیا ، متحدہ اپوزیشن نے مسلسل چوتھے روز بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جب کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین گرما گرمی بھی ہوئی، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ فاٹا کے عوام کو آئین پاکستان کے تحت اختیارات دیے جائیں، جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اپوزیشن ایوان میں نہیں بیٹھے گی، ہم فاٹا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت فاٹا اصلاحات بل اسمبلی میں لاکر اپنا آئینی کردار ادا کرے وگرنہ اس کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
دریں اثنا عوامی تحریک کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے اپنی نئی حکمت عملی سے میڈیا کو آگاہ کیا ، انھوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کہتے ہیں کہ کوئی پلان بن رہا ہے جب کہ کوئی پلان نہیں بن رہا بلکہ انسانیت کے قتل عام پر اشرافیہ کا قدرت کی طرف سے گریٹر انتقام شروع ہوچکا ہے، عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ہمیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی لاشوں پر انصاف چاہیے، بروقت انتخابات یا التوا سے سروکارنہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست کو اعصاب شکن چیلنجز کا سامنا ہے۔
جمہوری بساط لپیٹے جانے کے امکانی خطرات سے قطع نظر ریاستی استقامت اور مضبوط ادارہ جاتی سسٹم کو بچانے کے لیے قیادت کے بحران کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے،اس نازک دورانئے میں عدلیہ ایک بیرومیٹر،اسپیڈ بریکر اور گیم چینجر ریاستی ستون کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو سنگین سیاسی افراتفری ،انتشار اور بے سمتی سے بچانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو اپنا قومی کردار ادا کرنے کی تلقین بھی کرسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کا جو فیصلہ سنایا ہے اس کے اثرات کس قدر چشم کشا ثابت ہوتے ہیں۔بہر حال ملک قانون کی حکمرانی کے ایک نئے دور سے آشنا ہورہا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے ہائی پروفائل کیسز کا فیصلہ سنادیا۔تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین عمران خان نااہلی سے بچ گئے جب کہ جہانگیر ترین کوتاحیات نااہل قراردے دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواستوں پر فیصلہ 14نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جمعہ کو ججز نے قرار دیا کہ فیصلہ تحمل سے سنیں، فیصلہ سنائے جانے تک رد عمل نہ دیں، عدالت عظمیٰ ٰ نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ معاملہ پر استدعا مسترد کردی اور کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملہ کی تحقیقات الیکشن کمیشن کرے گا۔
بلاشبہ عدالت عظمیٰ نے قانون و آئین کی روح کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔عدلیہ اس سے قبل پاناما پیپرز کیس اور حدیبیہ کیس کے بارے میں بھی فیصلہ دے چکی ہے، اب یہ فیصلہ بھی ایک آزاد عدلیہ کی طرف سے آیا ہے جو اپنے دور رس اثرات، نتائج اورمضمرات کے حوالے سے مدتوں یادگار رہے گا۔ اس غیر معمولی تناظر میں ملکی سیاسی حالات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے جو انتہائی تیزی سے ڈرامائی موڑ لے رہے ہیں، حکومت کئی محاذوں پر چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے، میڈیا میں اس بات پر مسلسل تجزیئے پیش کیے جارہے ہیں کہ ریاستی رٹ ختم ، حکومت سرینڈر کرچکی ہے، نظم حکمرانی کا کہیں پتا نہیں چلتا اور شنید ہے کہ ایک طویل عرصہ پر محیط عبوری سیٹ اپ آنے والا ہے۔
غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں ہیں تاہم مسلم لیگ (ن)کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا، نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک پھر بدحالی طرف بڑھ رہا ہے، خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت مدت پوری کریگی۔ قبل ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں مریم نواز، حسن نواز اور سلمان شہباز بھی شریک ہوئے۔ نیب بھی متحرک ہے جس نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحق ڈارکے ریڈنوٹس جاری کرنے اور ان کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے، نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز میں ہوا، اجلاس میں کہا گیاکہ اسحق ڈار کو کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج پاکستان میں نہ ہوسکے، احتساب عدالت پہلے ہی ان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔
ملکی سیاسی صورتحال کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں تمام جماعتوں کے اراکین نے فیض آباد دھرنا کے محرکات جاننے کے لیے عدالتی یا پارلیمانی انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا یہ دھرنا کسی گریٹر پلان کا حصہ تو نہیں تھا، جمعرات کو ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا 25 نومبر کا دن پاکستان کی تاریخ کی بدترین دن ہے، اس دن دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان میں کسی بھی وقت کوئی بھی گروہ آکر حکومت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
ادھرقومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک تاحال ختم نہ ہو سکا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعہ کوتمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں کا اجلاس اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے طلب کیا ، متحدہ اپوزیشن نے مسلسل چوتھے روز بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جب کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین گرما گرمی بھی ہوئی، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ فاٹا کے عوام کو آئین پاکستان کے تحت اختیارات دیے جائیں، جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اپوزیشن ایوان میں نہیں بیٹھے گی، ہم فاٹا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت فاٹا اصلاحات بل اسمبلی میں لاکر اپنا آئینی کردار ادا کرے وگرنہ اس کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
دریں اثنا عوامی تحریک کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے اپنی نئی حکمت عملی سے میڈیا کو آگاہ کیا ، انھوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کہتے ہیں کہ کوئی پلان بن رہا ہے جب کہ کوئی پلان نہیں بن رہا بلکہ انسانیت کے قتل عام پر اشرافیہ کا قدرت کی طرف سے گریٹر انتقام شروع ہوچکا ہے، عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ہمیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی لاشوں پر انصاف چاہیے، بروقت انتخابات یا التوا سے سروکارنہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست کو اعصاب شکن چیلنجز کا سامنا ہے۔
جمہوری بساط لپیٹے جانے کے امکانی خطرات سے قطع نظر ریاستی استقامت اور مضبوط ادارہ جاتی سسٹم کو بچانے کے لیے قیادت کے بحران کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے،اس نازک دورانئے میں عدلیہ ایک بیرومیٹر،اسپیڈ بریکر اور گیم چینجر ریاستی ستون کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو سنگین سیاسی افراتفری ،انتشار اور بے سمتی سے بچانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو اپنا قومی کردار ادا کرنے کی تلقین بھی کرسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کا جو فیصلہ سنایا ہے اس کے اثرات کس قدر چشم کشا ثابت ہوتے ہیں۔بہر حال ملک قانون کی حکمرانی کے ایک نئے دور سے آشنا ہورہا ہے۔