ٹرمپ کا خطرناک کھیل

ایسے متنازع مسئلے پر ٹرمپ کا یکطرفہ اور احمقانہ فیصلہ ساری دنیا کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

PARACHINAR:
سیاسی تاریخ میں طویل شخصی اور خاندانی حکومتوں کے بعد جمہوری حکومت ہی وہ نظام ہے جس میں حکمرانی شخصی یا خاندانی کے بجائے عوام کی منتخب ہوتی ہے۔ اس نظام حکومت کی پذیرائی اسی لیے کی جاتی ہے کہ اس میں حکمران عوام کے منتخب نمایندے ہوتے ہیں۔ پسماندہ ممالک میں چونکہ عوام کی بھاری اکثریت علم اور سیاسی شعور سے محروم ہوتی ہے، اس لیے انتخابات میں وہ سیاسی جماعتوں کے منشور اور امیدواروں کی سیاسی خدمات اور کریکٹر دیکھے بغیر امیدواروں کی ذاتی حیثیت اور خوش نما وعدوں کی بنیاد پر انھیں اپنا نمایندہ چن لیتی ہے، لیکن ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کی بھاری اکثریت تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتی ہے، اس لیے وہ اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرتی ہے، لیکن بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ یہ باشعور اور تعلیم یافتہ عوام بھی انتخابی نعروں سے متاثر ہو کر ایسے لوگوں کو منتخب کر لیتے ہیں جن میں ملک و قوم کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

امریکا کا شمار نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے بلکہ اسے دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، لیکن امریکی عوام نے اس بار ایک ایسا صدر منتخب کیا ہے جو عملاً ذہنی معذور دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کی واحد سپر پاور کی سربراہی کے لیے سربراہ میں جو خوبیاں ضروری ہوتی ہیں امریکا کے موجودہ صدر ٹرمپ ان سے محروم ہی نہیں بلکہ اس قدر نااہل اور جذباتی ہیں کہ دنیا کو اپنی حماقتوں سے جنگوں اور تباہیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ابھی شمالی کوریا کے مسئلے پر اپنی جنگجویانہ پالیسی پر چل ہی رہے ہیں کہ موصوف نے نہ صرف ساری دنیا کے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا ہے بلکہ اعتدال پسند مغربی ملکوں کو بھی ناراض کر دیا ہے۔

فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ 70 سال سے چل رہا ہے، اس تنازع کا ایک پہلو بیت المقدس ہے۔ بیت المقدس پر عرب سب سے بڑے دعویدار ہیں۔ چونکہ بیت المقدس دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے محترم ہے لہٰذا اس حوالے سے کوئی متنازع قدم اٹھایا جاتا ہے تو مسلم ملکوں میں اس کا شدید ردعمل پیدا ہو جاتا ہے۔ امریکی صدر نے نہ صرف بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ڈیکلیئر کر دیا ہے بلکہ اسے دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے موصوف کا ارشاد یہ ہے کہ میں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر اپنا ایک انتخابی وعدہ پورا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ کم ظرفانہ اور بے وقت فیصلہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو نہ صرف مشتعل کر رہا ہے بلکہ عربوں اور اسرائیل میں ایک بار پھر جنگ کے امکانات پیدا کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف مسلم ممالک ہی احتجاج نہیں کر رہے ہیں بلکہ یورپی یونین سمیت کئی مغربی ملکوں کے سربراہ حتیٰ کہ عیسائیوں کے مذہبی رہنما بھی اس فیصلے کی مذمت کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیت المقدس ایک ایسا متنازعہ مذہبی مقام ہے جسے مسلمان قبلہ اول کہتے ہیں اور اس کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہیں۔ ایسے متنازع مسئلے پر ٹرمپ کا یکطرفہ اور احمقانہ فیصلہ ساری دنیا کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ یہ احتجاج تشدد کی طرف نہ چلا جائے۔

ہماری دنیا، جس میں 7 ارب سے زیادہ عوام رہتے ہیں، پہلے ہی رنگ، نسل، زبان، قومیت، دین، دھرم کے حوالوں سے مختلف خانوں میں نہ صرف بٹی ہوئی ہے بلکہ متحارب بھی ہے۔ شمالی کوریا کے ساتھ امریکا کا تنازعہ اتنا شدید ہو گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اس کی سنگینی کا اندازہ شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کے اس بیان سے ہو سکتا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''امریکا سے جنگ فرض ہو چکی ہے، اب صرف تاریخ طے ہونا باقی ہے، جنوبی کوریا اور امریکا کی دھمکیوں نے جنگ کو یقینی بنا دیا ہے۔'' اس بیان سے شمالی کوریا کی صورتحال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ادھر ایران سے امریکا کی چپقلش بھی خطرناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔


ایسی نازک اور تشویشناک صورتحال میں ٹرمپ کا بیت المقدس کے حوالے سے کیا جانے والا فیصلہ نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں میں ہیجان پیدا کر رہا ہے بلکہ دنیا کو ایک ایسی خطرناک جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے جو صلیبی جنگ جیسی صورتحال کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔

ٹرمپ اپنی فطرت میں ایک جنگ پسند انسان ہے اور عالمی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرانے کے بجائے جنگوں کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امریکا کے وہ باشعور عوام جو ٹرمپ کی فطرت اور پالیسیوں سے واقف ہیں ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہی سے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس احتجاج کا دائرہ کئی ملکوں تک پھیلتا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جنگجویانہ پالیسیوں کے آگے بند باندھنے میں امریکا کے دانشور طبقے اور میڈیا کو اپنی ذمے داریاں ادا کرنا چاہیے۔

میں جس وقت یہ کالم لکھ رہا ہوں پاکستان ہی میں نہیں بلکہ کئی مسلم ملکوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ڈر یہ ہے کہ یہ ابتدا تشدد اور جنگ کی طرف نہ چلی جائے۔ عرب، اردن اور غزہ میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکمران طبقہ 70 سال سے ایسی بدترین جارحانہ پالیسی پر کاربند ہے جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں فلسطینی جان بحق اور دربدر ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی آبادی کے حوالے سے ایک چھوٹے عرب ملک سے چھوٹا ملک ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اسے اس قدر طاقتور بنا دیا ہے کہ یہ لاہور سے کم آبادی والا ملک سارے مشرق وسطیٰ کا دادا بنا ہوا ہے۔

ہماری دنیا جو 7 ارب سے زیادہ انسانوں کا گھر ہے اپنے مکینوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم کی وجہ سے پہلے ہی جہنم بنی ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اس تقسیم کو اور گہرا کر رہے ہیں تاکہ بٹے ہوئے انسان ایک دوسرے سے لڑتے رہیں اور ان کی توجہ اس آسیب یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی طرف مبذول نہ ہو جو دنیا کی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

فرانس، جرمنی، روس، برطانیہ کے سربراہ ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں، اس فیصلے کی ہمہ گیر مخالفت اور احتجاج کی وجہ امریکا نے دو سال تک بیت المقدس میں اپنا سفیر بھیجنے کا اعلان کیا ہے، فرانس، جرمنی، روس، برطانیہ کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ٹرمپ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کریں۔ اس فیصلے سے مسلم مذہبی انتہاپسند جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع ملے گا اور دہشتگردوں کے لیے ایک جواز فراہم ہوجائے گا۔
Load Next Story