چائنا کٹنگ کے پلاٹوں پر تعمیر مکانوں کے لاکھوں رہائشی پریشان

جب پلاٹ فروخت ہورہے تھے، حکومت کہاں تھی ،سرکاری افسران کیا کررہے تھے،مکان کے کاغذات بھی ہیں،مکین

سرجانی ٹاؤن میں عدالتی حکم نظراندازکرکے غیر قانونی پلاٹوں کی فروخت اب بھی جاری ہے،شہریوں سے رقم بٹوری جارہی ہے۔ فوٹو: اے پی پی

چائنا کٹنگ پر کی گئی تعمیرات ختم کرنیکی کارروائیاں شروع ہونے سے ہزاروں متاثرین تشویش کا شکارہوگئے جب کہ سرجانی ٹاؤن میں عدالتی حکم نظراندازکرکے غیر قانونی پلاٹوں کی فروخت اب بھی جاری ہے۔

سپریم کورٹ کے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کے حکم کے بعد 30 ہزار غیرقانونی مکانات میں بسنے والے 10 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا،سرجانی ٹاؤن سیکٹر ایل ون کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہم گزشتہ کئی سال سے ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور ہمارے پاس ان پلاٹوں کے کاغذات موجود ہیں جب ہم نے یہاں مکان خریدا تو اس وقت ہی حکام بالا کو ایکشن لینا چاہیے تھا ہمارے پاس ان مکانات کے علاوہ رہائش کی کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔

رہائشیوں نے مزید کہا کہ اگر کے ڈی اے حکام ہمارے مکانات مسمار کرنے آئے تو ہم مشینری کے آگے لیٹ جائیں گے لیکن اپنا آشیانہ ٹوٹنے نہیں دیں گے۔


دوسری جانب کے ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ رضا قائم خانی کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل در آمد کے لیے3 اقدامات کیے گئے ہیں، جس میں پہلے رفاہی اور فلاحی پلاٹوں کو واگزار کیا جائے گا دوسرے مرحلے میں کمرشل اور پھر رہائشی علاقوں کو مختلف ضلعوں کے حساب سے واگزار کرائیں گے اس سلسلے میں رینجرز آئی جی سندھ، وزیر اعلیٰ آن بورڈ ہیں اور انھیں روزانہ کی بنیاد پررپورٹ پیش کی جاتی ہے۔

رضا قائم خانی کا مزید کہنا تھا کہ ہم صرف کے ڈی اے کی جگہوں پر کارروائی کررہے ہیں، اگر عوام یہ کہتی ہے کہ ہم نے کے ڈی اے سے پلاٹ خریدا تھا تو انھیں چاہیے کہ جن لوگوں سے پلاٹ خریدا ان کا نام سامنے لائیں اورجس شخص نے دھوکا دیا اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں،2002سے 2017 تک انکروچمنٹ کے افسران کون تھے انھوں نے کیا کام کیا یہ دیکھا جائے، میں نے کچھ ماہ قبل چارج لیا ہے لیکن سپریم کورٹ کے احکام تو پہلے بھی آئے تھے تو کیونکر ان افسران نے چائنہ کٹنگ کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں رضا قائم خانی نے کہا کہ زمین وا گزار کرانے کیلیے حکمت عملی بنائی گئی ہے ،تمام کام ایک منصوبہ بندی کے تحت کام کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ سرجانی، گلستانِ جوہر، گلشنِ معمار، اسکیم 33، بلدیہ، کورنگی، کیماڑی اور نارتھ کراچی سمیت کئی علاقوں میں قبضہ مافیا اورحکومتی اداروں نے ہاتھ صاف کیے رفاعی پلاٹوں اور پارکوں پر چائنا کٹنگ کرکے نا صرف شہریوں کو پلاٹ بیچے گئے بلکہ بجلی، گیس، پانی اور دیگر ضروریات بھی فراہم کیں ادھرسرجانی ٹاؤن میں عدالتی حکم کے باوجود مبینہ طور پر چائنا کٹنگ کرکے3سے 6لاکھ روپے میں پلاٹ فروخت کیے جارہے ہیں، کے ڈی اے اور دیگر متعلقہ ادارے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے کے بجائے لچک کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
Load Next Story